Friday, July 19, 2024

d 8

چھٹا رکن کیفیت قضاء کے سلسلے میں ہے مصنف رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا کہ اس کیفیت قضاء کی پہچان آٹھ اقسام کے جاننے پر موقوف ہے، حالانکہ مصنف نے صرف چھ اقسام کا ذکر کیا ہے اگرچہ دعوی میں مصنف نے آٹھ کا تذکرہ کیا لیکن دلیل صرف چھ کی دی ہے۔

 [الرُّكْنُ السَّادِسُ فِي كَيْفِيَّةِ الْقَضَاءِ]
وَمَعْرِفَةُ ذَلِكَ تَتَوَقَّفُ عَلَى الْعِلْمِ بِثَمَانِيَةِ أَقْسَامٍ: 

پہلی فصل۔
 حکام کے تصرفات اور احکام کے سلسلے میں ان کی رائج اصطلاحات کی جان پہچان کے بیان میں۔
 اس کی بھی چند قسمیں ہیں جنہیں آٹھ فصلوں کے اندر بیان کریں گے، 

الْأَوَّلُ: مَعْرِفَةُ تَصَرُّفَاتِ الْحُكَّامِ وَاصْطِلَاحِهِمْ فِي الْأَحْكَامِ، وَفِيهِ فُصُولٌ.

پہلی فصل۔ تقریرات قاضی ! قاضیوں کا کسی واقعہ کو برقرار رکھنا چناں چہ اس تقریر قاضی کے سلسلے میں کس چیز کو قاضی کی جانب سے حکم سمجھا جائے گا اور کیا چیز حکم نہیں ہوگا۔

الْأَوَّلُ: فِي تَقْرِيرَاتِ الْحُكَّامِ عَلَى الْوَقَائِعِ وَمَا هُوَ حُكْمٌ وَمَا لَيْسَ بِحُكْمٍ.

 دوسری فصل۔ 
قاضیوں کے ان تصرفات کے درمیان فرق کرنے کے بیان میں جن تصرفات میں قاضی کے فیصلے کو حکم سمجھا جائے اور اسے توڑنا جائز نہ ہو اور ان تصرفات کے بیان میں جن میں قاضی کے فیصلہ کو حکم نہ سمجھا جائے اور اسے توڑنا جائز ہو۔ 

الثَّانِي: فِي بَيَانِ الْفَرْقِ بَيْنَ تَصَرُّفَاتِ الْحُكَّامِ الَّتِي هِيَ حُكْمٌ لَا يَجُوزُ نَقْضُهَا، وَاَلَّتِي لَيْسَتْ بِحُكْمٍ وَيَجُوزُ نَقْضُهَا.

تیسری فصل۔ 
ان جگہوں کے سلسلے میں جو قاضی کے فیصلے کی محتاج ہیں اور ان جگہوں کے سلسلے میں جو قاضی کے فیصلے کی محتاج نہیں ہیں اور جن جگہوں میں اختلاف ہے، اور فقہ کے ان ابواب کے بیان میں جن کو قاضی کا حکم مستقلا یا ضمن شامل ہے۔ 

الثَّالِثُ: فِي بَيَانِ الْمَوَاضِعِ الَّتِي تَفْتَقِرُ إلَى حُكْمٍ وَمَا لَا تَفْتَقِرُ وَمَا اُخْتُلِفَ فِيهِ، وَبَيَانِ أَبْوَابِ الْفِقْهِ الَّتِي يَدْخُلُهَا الْحُكْمُ اسْتِقْلَالًا أَوْ تَضَمُّنًا.

چوتھی فصل۔ 
حکم کے ان الفاظ کے بیان میں جن کے ذریعے معاملہ رجسٹر کرنے، کرانے میں حکام کی عادت جاری ہے اور ان الفاظ کے احکام کے بیان میں اور جو ان الفاظ پر چیزیں مرتب ہوتی ہیں۔ 

الرَّابِعُ: الْفَرْقُ بَيْنَ أَلْفَاظِ الْحُكْمِ الَّتِي جَرَتْ بِهَا عَادَةُ الْحُكَّامِ فِي التَّسْجِيلَاتِ وَبَيَانُ أَحْكَامِهَا وَمَا يَتَرَتَّبُ عَلَيْهَا.

پانچویں فصل۔ 
حکم اور ثبوت کے درمیان فرق کرنے کے بیان میں۔

الْخَامِسُ: فِي الْفَرْقِ بَيْنَ الثُّبُوتِ وَالْحُكْمِ.

چھٹی فصل۔ 
قاضی کا خود اپنے حکم کو نافذ کرنے کے بیان میں اور دوسرے کی حکم کو نافذ کرنے کی بیان میں۔

السَّادِسُ: فِي مَعْنَى تَنْفِيذِ الْقَاضِي حُكْمَ نَفْسِهِ وَمَعْنَى تَنْفِيذِهِ حُكْمَ غَيْرِهِ.
 
ساتویں فصل۔ 
حکم کے صادر ہونے پر دلالت کرنے والی چیزوں کے بیان میں۔ 

السَّابِعُ: فِي بَيَانِ مَا يَدُلُّ عَلَى صُدُورِ الْحُكْمِ 


آٹھویں فصل۔ 
تنبیہات کے بیان میں ان تنبیہات کے بیان میں جن سے قاضی کو متنبہ ہونا ضروری ہے کہ جن معاملات میں رجسٹر کرنے کے وقت قاضی کو اپنے آپ پر گواہ بنانا ضروری ہے اور کن معاملات میں رجسٹر کرنے کے وقت اپنے آپ پر گواہ بنانا ضروری نہیں ہے۔ 

الثَّامِنُ: فِي تَنْبِيهَاتٍ يَنْبَغِي لِلْحَاكِمِ التَّنَبُّهُ لَهَا فِيمَا يَشْهَدُ بِهِ عَلَى نَفْسِهِ فِي التَّسْجِيلَاتِ وَمَا يَمْتَنِعُ الْإِشْهَادُ بِهِ.

پہلی فصل یعنی پہلی فصل کا بیان یہاں سے شروع ہوا۔ 
اوپر جو مصنف نے فرمایا تھا کہ کیفیت قضاء کا جاننا آٹھ فصلوں کے جانے پر موقوف ہے پھر ان میں سے پہلی فصل مصنف نے بتائی تھی کہ حکام کے تصرفات اور ان تصرفات کے سلسلے میں حکام کے درمیان جو رائج اصطلاحات ہے اس کے بیان میں ہوگی پھر فرمایا تھا کہ اس پہلی فصل میں بھی چند فصلیں ہیں اور ان کا ذکر بھی کیا ان چند فصلوں میں پہلے فصل بتایا تھا کہ حکام کا کسی واقعے کو برقرار رکھنا کیا قاضی کی جانب سے حکم ہوگا یا حکم نہیں ہوگا اسی فصل کا یہاں سے بیان کر رہے ہیں کہ قاضی کا کسی واقعہ میں معاملہ برقرار رکھنا کسی واقعے کے ساتھ قاضی کا تعرض نہ کرنا کیا یہ قاضی کی جانب سے حکم ہوگا یا حکم نہیں ہوگا۔ 
 چنانچہ پہلی فصل ہے، قاضی کسی معاملے کو ثابت اور برقرار رکھنا جو معاملہ قاضی کے پاس لے جایا گیا فرماتے ہیں بعض لوگوں کا اختلاف ہے کہ قاضی کا کوئی معاملہ برقرار رکھنا کیا یہ اس واقعہ کا حکم ہوگا یا نہیں۔ جیسے کہ یہ معاملہ قاضی کے پاس آیا کہ ایک عورت نے بغیر اجازت ولی کے اپنا نکاح کر لیا اور یہ معاملہ حنفی قاضی کے پاس یا اور حنفی قاضی نے اس معاملے کو برقرار رکھا اور اس نکاح کے صحیح ہونے کی اجازت دے دی پھر وہ حنفی قاضی معزول ہو گیا، چنانچہ اس سلسلے میں فرماتے ہیں کہ درست اور صحیح مذہب یہی ہے کہ دوسرے قاضی کو اجازت نہیں دوسرے قاضی کے لیے درست نہیں کہ وہ اس معاملے کو فسخ کرے اور اس معاملے کو توڑ دے، کہ پہلے قاضی کا اس حکم کو برقرار رکھنا ہی قاضی کی جانب سے حکم کے درجے میں ہے اور اس موقف کو ایک بڑی جماعت نے اختیار کیا ہے، اس لیے یہ حکم کے درجے میں ہے تو دوسرے قاضی کو اس کے ساتھ تعرض و چھیڑ چھاڑ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

 [الْأَوَّلُ: فِي تَقْرِيرَاتِ الْحَاكِمِ مَا رُفِعَ إلَيْهِ] اخْتَلَفَ النَّاسُ هَلْ يَلْزَمُ تَقْرِيرَ الْحَاكِمِ عَلَى الْوَاقِعَةِ حُكِمَ بِالْوَاقِعِ فِيهَا أَمْ لَا؟ ، كَمَا لَوْ رُفِعَ إلَيْهِ: امْرَأَةٌ زَوَّجَتْ نَفْسَهَا بِغَيْرِ إذْنِ وَلِيِّهَا وَرَفَعَ ذَلِكَ إلَى حَنَفِيٍّ فَأَقَرَّهُ وَأَجَازَهُ ثُمَّ عُزِلَ، فَالْمَذْهَبُ أَنَّهُ لَيْسَ لِغَيْرِهِ فَسْخُهُ وَإِقْرَارُهُ عَلَيْهِ كَالْحُكْمِ بِهِ، وَاخْتَارَهُ جَمَاعَةٌ كَثِيرَةٌ؛ لِأَنَّ ذَلِكَ كَالْحُكْمِ فَلَا يَتَعَرَّضُهُ قَاضٍ آخَرُ.

البتہ خارج مذہب کچھ لوگوں نے کہا ہے اس سے مراد حضرات مالکیہ ہیں کہ تقریرات قاضی حکم کے درجے میں نہیں ہے یعنی قاضی کی طرف سے یہ حکم نہیں سمجھا جائے گا اور جب یہ حکم کے درجے میں نہیں تو دوسرے قاضی کو ایسا معاملہ توڑنے کی اور اسے فسخ کرنے کی اجازت ہوگی اور یہ مسئلہ اس مسئلے کی برخلاف ہے کہ قاضی کے پاس مسئلہ آیا یہی مسئلہ جس میں عورت نے بغیر ولی کی اجازت کے نکاح کیا تھا اور قاضی نے کہا کہ میں بغیر ولی کی اجازت کے نکاح کو جائز نہیں سمجھتا یعنی یہ الفاظ قاضی نے کہے، تو یہ الفاظ قاضی کی طرف سے تقریر نہیں ہوگی اور اس میں کسی کا اختلاف نہیں سب متفق ہیں کہ یہ قاضی کی طرف سے فتوی ہے حکم نہیں ہے، اور جب یہ فتوی ہے حکم نہیں ہے تو دوسرے قاضی کو اپنی صواب دید پر اس واقعہ میں حکم اور فیصلہ کرنے کی اجازت ہوگی، اسی طرح کا معاملہ ہے کہ جب قاضی کے پاس ایک معاملہ آیا اس میں مدعی کے پاس دو گواہ نہ تھے بلکہ ایک گواہ کے ساتھ ایک یمین سے اس نے معاملہ حل کرنا چاہا اور قاضی نے کہا میں ایک گواہ ساتھ ایک یمین کو درست شہادت نہیں سمجھتا اور میں اس کی اجازت نہیں دیتا تو یہ بھی قاضی کی طرف سے حکم نہیں ہوگا بلکہ قاضی کی طرف سے فتوی ہوگا اور یہ متفق بات ہے۔ 

وَقَالَ أُنَاسٌ خَارِجَ الْمَذْهَبِ: لَيْسَ بِحُكْمٍ وَلِغَيْرِهِ فَسْخُهُ، وَهَذَا بِخِلَافِ مَا لَوْ رُفِعَ لَهُ فَقَالَ لَا أُجِيزُ النِّكَاحَ بِغَيْرِ وَلِيٍّ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَحْكُمَ، فَهَذَا فَتْوَى، وَلِغَيْرِهِ الْحُكْمُ فِي تِلْكَ الْوَاقِعَةِ بِمَا يَرَاهُ، وَكَذَا إذَا قَالَ: لَا أُجِيزُ الشَّاهِدَ وَالْيَمِينَ فَهُوَ فَتْوَى اتِّفَاقًا.

فرع۔
 کسی شخص نے طلاق کو معلق کیا یا عتاق کو معلق کیا یا نکاح کیا ایسی حالت میں جب کہ وہ محرم تھا، اب سنئے! احناف کے نزدیک اگر کوئی شخص کسی عورت سے کہتا ہے کہ اگر میں نے تمہارے ساتھ نکاح کیا تو تم کو طلاق یا کسی غلام سے کہتا ہے کہ اگر میں تمہارا مالک ہوا تو تم آزاد پھر یہ شخص اگر اس عورت سے شادی کرتا ہے یا اس غلام کو خرید لیتا ہے تو عورت طلاق یافتہ ہو جائے گی اور غلام آزاد ہو جائے گا گویا ہمارے نزدیک طلاق و عتاق کو معلق کرنا درست ہے ان کا اثر ظاہر ہوگا،اسی طرح ہمارے نزدیک محرم حالت احرام میں نکاح کر سکتا ہے جب کہ شافعی حضرات کے نزدیک محرم کا نکاح کرنا درست نہیں ہے بحالت احرام، اب اگر یہ معاملہ قاضی کے پاس آئے اور قاضی صاحب نے طلاق والے مسئلے میں نکاح برقرار رکھا یا عتاق والے مسئلے میں مملوک کو غلام قرار دیا جو کہ دونوں فیصلے احناف کے خلاف تھے یا اسی طرح محرم کے نکاح کو درست قرار دیا جو حنفیہ کے مطابق تھا لیکن شوافع کے خلاف تھا پھر یہی معاملات کس دوسرے قاضی کے پاس گئے تو وہ دوسرا قاضی پہلے قاضی کے حکم کو توڑ کر کوئی دوسرا حکم دے سکتا ہے کیونکہ یہاں ان میں جو قاضی صاحب نے نکاح کو برقرار رکھا ہے یا غلام کو غلام قرار دیا ہے اور تعلیقات کو صحیح نہیں مانا ہے تو یہ چیزیں قاضی کی طرف سے فیصلہ نہیں مانی جائیں گی بلکہ قاضی ثانی مختار ہے کہ اپنی صواب دید پر وہ ان میں دوبارہ فیصلہ کرے،اسی طرح اگر قتل پر صرف ایک گواہ کسی نے قائم کیا پھر یہ معاملہ ایسے قاضی کے پاس گیا جو قسامۃ کو جائز نہیں سمجھتا تھا اور وہ خاموش رہا اس نے کوئی فیصلہ نہیں کیا تو دوسرا اس معاملے میں فیصلہ کر سکتا ہے کیونکہ پہلے قاضی کا حکم سے سکوت فیصلہ نہیں مانا جائے گا۔
(فَرْعٌ) :
وَإِنْ عَلَّقَ الطَّلَاقَ أَوْ الْعَتَاقَ عَلَى الْمِلْكِ أَوْ تَزَوَّجَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَرُفِعَ ذَلِكَ إلَى حَاكِمٍ فَأَقَرَّ النِّكَاحَ عَلَى حَالِهِ أَوْ أَقَرَّ الْمَمْلُوكَ رَقِيقًا ثُمَّ رُفِعَ إلَى غَيْرِهِ فَلَهُ أَنْ يَحْكُمَ فِي ذَلِكَ بِمَا يَرَاهُ، وَكَذَا لَوْ أَقَامَ شَاهِدًا عَلَى الْقَتْلِ فَرُفِعَ لِمَنْ لَا يَرَى الْقَسَامَةَ فَلَمْ يَحْكُمْ بِهَا فَلِغَيْرِهِ الْحُكْمُ؛ لِأَنَّ سُكُوتَ الْأَوَّلِ عَنْ الْحُكْمِ لَيْسَ بِحُكْمٍ.

فرع۔ اسی طرح اگر کسی قاضی نے کسی شخص سے کہا کہ میں آپ کے گواہوں کو نہیں سنوں گا اس لیے کہ آپ گواہوں کے پیش کرنے سے پہلے قسم کھا چکے ہیں حالانکہ آپ گواہ حاضر کرنے پر قدرت رکھتے تھے یعنی کوئی معاملہ تھا قاضی کے پاس مدعی کو گواہ پیش کرنے تھے اس نے گواہ پیش کیے نہیں اور قسم کھا لی پھر اسے یاد آیا کہ میرے پاس تو گواہ ہے اور اب وہ قاضی سے کہے کہ آپ میرے گواہوں کی گواہی سنو اور قاضی سب کہہ رہے ہیں کہ میں آپ کے گواہوں کی گواہی نہیں سنوں گا کیونکہ آپ قسم کھا چکے ہیں، جبکہ پہلے آپ گواہوں کے حاضر کرنے پر قدرت رکھتے تھے باوجود قدرت کے آپ نے اپنے گواہ پیش نہیں کیے اس لیے اب میں آپ کے گواہ نہیں سنوں گا، اسی طرح اگر قاضی نے کہا کہ میں ایک گواہ ساتھ یمین (قسم )کو درست نہیں سمجھتا، یا یہ کہا کہ میں ایک گواہ اور ایک یمن کے ساتھ فیصلہ نہیں کروں گا، یا یہ کہا کہ میں مدعی سے قسم نہیں لوں گا اس لیے کہ یہ یمین تہمت ہے، اور میرا مسلک ہے کہ یہ سب ضروری نہیں ہے، فرماتے ہیں کہ قاضی کے یہ تمام تصرفات قاضی کی جانب سے حکم شرعی نہیں ہے دوسرے قاضیوں کو اجازت ہوگی کہ وہ ان میں وہ معاملہ کریں جو پہلے قاضی نے چھوڑ دیا ہے یعنی ان میں کوئی حکم، کوئی فیصلہ نافذ کر سکتے ہیں، اور ان معاملات میں جو ہمارا مسلک ہے، اپنے مسلک کے ذریعے ان میں فیصلہ کر سکتے ہیں۔ 
فرماتے ہیں قاضی کا یہ کہنا کہ میں تیرے لیے اس میں کوئی حق نہیں سمجھتا یہ قاضی کی طرف سے حکم نہیں ہوگا اسی طرح طلب شہادت اور طلب حکم کے بعد قاضی کا مدعی علیہ سے کہنا کہ زمین کو یا محدود چیز کو مدعی کے سپرد کرو یہ قاضی کی جانب سے حکم نہیں ہوگا،جبکہ بعض حضرات نے فرمایا کہ یہ قاضی کی جانب سے حکم ہے اس لیے کہ قاضی نے امر کا صیغہ استعمال کیا ہے اور امر الزام اور فیصلے کے لیے ہی آتا ہے۔ 

(فَرْعٌ) :
فَلَوْ قَالَ الْحَاكِمُ: لَا أَسْمَعُ بَيِّنَتَك؛ لِأَنَّك حَلَفْت قَبْلَهَا مَعَ قُدْرَتِك عَلَى إحْضَارِهَا، أَوْ قَالَ: لَا أَرَى الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ، أَوْ قَالَ: لَا أَحْكُمُ بِالشَّاهِدِ وَالْيَمِينِ، أَوْ لَا أُحَلِّفُ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ؛ لِأَنَّهَا يَمِينُ تُهْمَةٍ وَمَذْهَبِي أَنَّهَا لَا تَجِبُ، فَهَذَا كُلُّهُ لَيْسَ بِحُكْمٍ شَرْعِيٍّ، وَلِغَيْرِهِ مِنْ الْحُكَّامِ أَنْ يَفْعَلَ مَا تَرَكَهُ، وَمِمَّا نَحْنُ فِيهِ قَوْلُهُ: لَا أَدْرِي لَك حَقًّا فِي هَذَا لَيْسَ بِحُكْمٍ، وَكَذَا قَوْلُهُ بَعْدَ الشَّهَادَةِ وَطَلَبِ الْحُكْمِ " سَلِّمْ الْمَحْدُودَ إلَى الْمُدَّعِي " لَيْسَ بِحُكْمٍ، وَقِيلَ: إنَّهُ حُكْمٌ؛ لِأَنَّ أَمْرَهُ إلْزَامٌ وَحُكْمٌ.

چنانچہ ذخیرہ نامی کتاب میں صراحت کی گئی ہے کہ قاضی کا امر حکم یا فیصلہ نہیں ہوتا، اس لیے کہ ذخیرہ میں ہے کہ قاضی کا ”دہ“ کہنا یعنی فارسی لفظ دادن سے ”دے دو“ امر کا صیغہ استعمال کرنا قاضی کی جانب سے حکم نہیں ہے۔ 
وَنَصَّ فِي الذَّخِيرَةِ أَنَّ أَمْرَ الْقَاضِي لَيْسَ بِحُكْمٍ إذْ قَالَ فِيهَا قَوْلَهُ " ده " لَيْسَ بِحُكْمٍ.

 مناسب ہے کہ قاضی کہے کہ ”حکم کر دم“ تب قاضی کے جانب سے اس کو فیصلہ اور حکم سمجھا جائے گا صرف ”دہ“ امر کا صیغہ استعمال کرنے سے قاضی کی جانب سے حکم اور فیصلہ نہیں سمجھا جائے گا اور اس چیز پر اور ان چیزوں پر جو ہم نے ذکر کی ہے ان کی صحت پر دلالت کرنے والی دلیل یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے کوئی چیز وقف کی فقراء کے لیے پھر اس کے بعض قرابت دار بھی فقیر ہو گئے پھر قاضی نے اس موقفہ چیز میں سے اس وقف کرنے والے کے فقیر قرابت داروں کو بھی کوئی چیز دی تو یہ دینا قاضی کی جانب سے فیصلہ نہیں ہوگا بلکہ فتوی ہوگا اس لیے وہ فقراء یعنی قرابت دار اس میں اپنا حق جتا نہیں سکتے کیونکہ قاضی نے ان کو جو دیا ہے وہ بطور فتوی کے دیا ہے بطور فیصلہ اور قضاء کے نہیں دیا ہے یہاں تک کہ اگر قاضی مستقبل میں اس سے رجوع کرنا چاہے اور ان قرابت دار فقراء سے وہ چیز واپس لینا چاہے تو بالکل واپس لے سکتا ہے چنانچہ قاضی کو اجازت ہے کہ وہ ان قرابت دار فقراء کے علاوہ دوسرے فقراء کو تمام ہی غلہ دے دے، اور اگر یہ کہا کہ میں حکم دیتا ہوں کہ قرابت داروں کے علاوہ کسی کو اس چیز میں نہ دیا جائے تو اس کا حکم نافذ ہو جائے گا اس لیے کہ قاضی کا فعل حکم نہیں ہوتا ہے لیکن قول حکم ہو سکتا ہے،جامع الفصولین میں یہی بات ذکر کی ہوئی ہے۔ 

وَيَنْبَغِي أَنْ يَقُولَ: حُكْمُ كردم، وَيَدُلُّ عَلَى صِحَّةِ مَا ذَكَرَهُ أَنَّهُ لَوْ وَقَفَ وَقْفًا عَلَى فَقِيرٍ وَاحْتَاجَ بَعْضُ قَرَابَتِهِ فَأَعْطَاهُ الْقَاضِي شَيْئًا مِنْ الْوَقْفِ لَمْ يَكُنْ هَذَا قَضَاءً مِنْ الْقَاضِي، لَكِنَّهُ بِمَنْزِلَةِ الْفَتْوَى، حَتَّى لَوْ أَرَادَ الرُّجُوعَ فِي الْمُسْتَقْبَلِ فَلَهُ ذَلِكَ بِأَنْ يُعْطِيَ غَيْرَهُمْ مِنْ الْفُقَرَاءِ جَمِيعَ الْغَلَّةِ.أَمَّا لَوْ قَالَ: حَكَمْت بِأَنَّهُ لَا يُعْطِي غَيْرَ قَرَابَتِهِ نَفَذَ حُكْمُهُ، إذْ فِعْلُ الْقَاضِي لَيْسَ بِحُكْمٍ، " مِنْ جَامِعِ الْفُصُولَيْنِ ".

فصل ثانی۔ قاضیوں کے تصرفات کے بیان میں پہلی فصل تھی تقریرات قاضی اور یہ فصل ہے تصرفات قاضی تقریرات قاضی کا معنی ہے کہ قاضی کا کسی واقعہ کو برقرار رکھنا کسی معاملے کو برقرار رکھنا اور تصرفات کے معنی ہیں قاضی کا کسی معاملے میں خود سے عمل کرنا، یہ فصل ثانی قاضی کے ان تصرفات کے بیان میں ہیں جو حکم کو شامل ہیں اور جو حکم کو شامل نہیں ہیں، اسی طرح ان جگہوں کے بیان میں جن جگہوں کو قاضی کا حکم بالفعل شامل ہے اور اس واقعے کے ان عوارض و متابعات کے بیان میں جن کو قاضی کا حکم شامل نہیں ہے، اور قاضی کے ان تصرفات کے بیان میں جو حکم کے مشابہ ہے حقیقت میں وہ حکم نہیں ہے۔

[فَصْل: تَصَرُّفَات الْحُكَّامِ الَّتِي تَسْتَلْزِمُ الْحُكْمَ]

الْفَصْلُ الثَّانِي فِي تَصَرُّفَاتِ الْحُكَّامِ الَّتِي تَسْتَلْزِمُ الْحُكْمَ وَمَا لَا تَسْتَلْزِمُ، وَالْمَوَاضِعِ الَّتِي يَتَعَلَّقُ حُكْمُ الْحَاكِمِ فِيهَا بِمَا بَاشَرَ حُكْمَهُ، وَمَا لَا يَتَنَاوَلُ عَوَارِضَ تِلْكَ الْوَاقِعَةِ، وَبَيَانِ التَّصَرُّفَاتِ الَّتِي تُشْبِهُ الْحُكْمَ وَلَيْسَتْ بِحُكْمٍ.

فرماتے ہیں کہ کسی معاملے کے سلسلے میں قاضی کا کوئی فعل کوئی کام خود سے انجام دینا یہ کبھی کبھی حکم کو شامل ہوتا ہے اور کبھی کبھی بدیہی طور پر حکم کو شامل نہیں ہوتا ہے۔ 

اعْلَمْ: أَنَّ فِعْلَ الْحَاكِمِ فِي الْوَاقِعَةِ قَدْ يَسْتَلْزِمُ الْحُكْمَ وَقَدْ يَعْرَى عَنْ الْحُكْمِ أَلْبَتَّةَ.

چنانچہ پہلا تصرف جہاں قاضی کا تصرف حکم کو شامل ہوتا ہے، ہر وہ معاملہ جس کی صحت یا موجب کا قاضی نے فیصلہ کیا ہو وہ قاضی کے حکم کو شامل ہوگا، اس کی مثال دیتے ہوئے مصنف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قاضی نے اگر کسی غلام کی بیع کی صحت کا فیصلہ کیا یعنی ایک شخص غلام تھا، اس کا آقا دین سے گھرا ہوا تھا قرض سے گھرا ہوا تھا، اب اس نے وہ غلام آزاد کر دیا پھر اس کو لگا کہ مجھ پہ قرض ہے تو اس نے غلام کو بیچ دیا اب غلام نے قاضی کے پاس معاملہ دائر کیا کہ قاضی صاحب دیکھیے میرے مالک نے کل مجھے آزاد کیا تھا اور آج مجھے بیچ رہا ہے اور قاضی صاحب نے بیع کی صحت کا فیصلہ کیا یعنی مالک نے جو اپنا غلام بیچا ہے قاضی صاحب نے اس بیع کی صحت کا فیصلہ کیا کہ ہاں آقا نے جو آپ کو بیچا ہے وہ بیچنا درست ہے تو قاضی کا یہ فیصلہ یعنی غلام کی بیع کی صحت کا یہ مستلزم ہے کہ مالک نے جو کل غلام کو آزاد کیا تھا یہ قاضی اس آزادی کو فسخ کر رہا ہے اس آزادی کو ختم کر رہا ہے حالاں کہ مصنف نے جو یہ مثال دی ہے یہ صحیح طرح سے اس کی مثال نہیں بنتی کیونکہ یہاں قاضی فعل نہیں کر رہا ہے، کوئی تصرف قاضی سے نہیں پایا گیا بلکہ قاضی حکم دے رہا ہے بیع کی صحت کا حالانکہ مصنف نے فرمایا ہے کہ قاضی کا کوئی ایسا فعل ایسا تصرف جو حکم کو شامل ہو یہاں قاضی کا تصرف نہیں ہے قاضی کا حکم ہے قاضی کا فیصلہ ہے قاضی نے کوئی فعل نہیں کیا ہاں اس کے برخلاف مصنف نے دوسری مثال جو دی ہے وہ اس کی صحیح مثال ہے
 یعنی یہی غلام جس کو آقا نے کل آزاد کیا ہو آج اس کے مالک نے اسے بیچنا چاہا یہ قاضی صاحب کے پاس آیا قاضی صاحب کے پاس معاملہ دائر کیا لیکن قاضی صاحب نے خود اس غلام کو بیچ دیا، آقا نے نہیں بیچا اب قاضی نے بیچ دیا تو قاضی نے جو غلام میں تصرف کیا بیچنے کا گویا کہ قاضی اس عتق کو فسخ کر رہا ہے جو کل آقا سے اپنے غلام کے سلسلے میں پائی گئی تھی، گویا اس عتق کو قاضی صاحب فسخ کر رہے ہیں چناں چہ قاضی کا یہ دوسرا عمل غلام کو بیچنا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قاضی حکم دے رہا ہے کہ کل جو آقا نے غلام کو آزاد کیا ہے میں اسے فسخ کر رہا ہوں لیکن یہ جب ہے کہ قاضی صاحب کا یہ مسلک ہو کہ آزادی کے بعد غلام کی بیع کی صحت کا، ورنہ اگر آزادی ثابت ہو جاوے تو پھر آزادی کے بعد اس کو فسخ نہیں کیا جا سکتا۔ 
چنانچہ اسی کو مصنف نے فرمایا کہ اس کی مثال یہ ہے کہ حاکم اور قاضی کہے کہ میں نے اس غلام کی بیع کی صحت کا فیصلہ کیا ہے جس کو آزاد کیا ہے اس شخص نے جو محاط بالدین ہے یعنی قرض سے گھرا ہوا ہے، جبکہ یہی قاضی کا مذہب ہو تو قاضی کا بیع کی صحت کا فیصلہ کرنا دلالت مطابقی کے طور پر ہے اور دلالت التزامی کے طور پر یہ اس بات کا حکم ہے کہ کل جو آقا نے اس غلام کو آزاد کیا تھا میں اس آزادی کو باطل قرار دے رہا ہوں، ختم کر رہا ہوں چنانچہ دلالت التزامی کے طور پر بیع سے پہلے عتق کے ابطال کے حکم پر دلالت کرتا ہے، اس لیے کہ بیع کی صحت سے بطلان عتق لازم آتا ہے۔

فَالْأَوَّلُ: كُلُّ مَا حُكِمَ فِيهِ بِالصِّحَّةِ أَوْ الْمُوجَبِ وَذَلِكَ مِثْلَ أَنْ يَقُولَ الْحَاكِمُ: قَدْ حَكَمْتُ بِصِحَّةِ بَيْعِ الْعَبْدِ الَّذِي أَعْتَقَهُ مَنْ أَحَاطَ الدَّيْنُ بِمَالِهِ إذَا كَانَ مَذْهَبُهُ ذَلِكَ فَالْحُكْمُ بِصِحَّةِ الْبَيْعِ عَلَى سَبِيلِ الْمُطَابَقَةِ، وَيَدُلُّ ذَلِكَ بِالِالْتِزَامِ عَلَى الْحُكْمِ بِإِبْطَالِ الْعِتْقِ الْمُتَقَدِّمِ عَلَى الْبَيْعِ؛ لِأَنَّهُ يَلْزَمُ مِنْ صِحَّةِ الْبَيْعِ بُطْلَانُ الْعِتْقِ.

فرع۔اس کی صحیح مثال یہ ہے کہ حاکم کا اس غلام کو بیچنا جس غلام کو آزاد کیا ہے اس شخص نے جو دین سے گھرا ہوا تھا تو قاضی کا یہ بیچنا اور بیچنے پر اقدام کرنا یہ بطلان عتق کو مستلزم ہے یہ مثال اس کی درست مثال ہے کیونکہ یہاں قاضی تصرف کر رہا ہے، حکم نہیں دے رہا ہے قاضی خود اس غلام کو بیچ رہا ہے تو یہ بیچنا خود بخود یہ بتلا رہا ہے کہ قاضی اس سے پہلے جو آزادی اس کو دی گئی تھی آقا کی طرف سے قاضی اس ازادی کو ٹھکرا رہا ہے، ختم کر رہا ہے ۔
  (فَرْعٌ) :
وَكَذَلِكَ إذَا بَاعَ الْحَاكِمُ هَذَا الْعَبْدَ الَّذِي أَعْتَقَهُ مَنْ أَحَاطَ الدَّيْنُ بِمَالِهِ، فَإِنَّ إقْدَامَهُ عَلَى الْبَيْعِ حُكْمٌ بِبُطْلَانِ الْعِتْقِ.

دوسری مثال۔ جہاں قاضی کا عمل اور تصرف حکم کو شامل ہے، اس کی مثال دیتے ہوئے مصنف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قاضی کا کسی عورت کی شادی کرانے کا اقدام کرنا یعنی قاضی کسی عورت کی شادی کسی شخص سے کرا رہا ہے جبکہ یہ عورت پہلے ایسے شوہر سے نکاح کر چکی تھی جس شوہر سے نکاح کرنا درست نہ تھا بلکہ موجب فسخ تھا، یعنی ایک عورت نے کسی مرد سے نکاح کیا لیکن یہ نکاح اس شوہر کے ساتھ کرنا اس کے لیے درست نہیں تھا مثلا یہ شخص اس کا رضائی بھائی تھا اب یہ معاملہ قاضی کے پاس پہنچا، قاضی کے عدالت میں ا گیا قاضی نے سماعت کیا معاملے کو اور ثابت بھی ہوا کہ شوہر اس کے رضائی بھائی ہیں اس لیے قاضی نے بغیر کوئی فیصلہ کیے اس عورت کا نکاح کسی دوسرے شخص سے کر دیا تو قاضی کا یہ تصرف یعنی اس عورت کا نکاح کسی دوسرے شخص سے کرانا یہ ایک تصرف ہے اس حکم کو شامل ہے کہ قاضی پہلے والے شوہر کے نکاح کو فسخ کرا رہا ہے پہلے والے شخص کے ساتھ جو اس نے نکاح کیا ہے اسے باطل قرار دے رہا ہے چنانچہ قاضی کا اس عورت کے حق میں دوسرے نکاح پر اقدام کرنا نکاح اول کو فسخ کرنا سمجھا جائے گا اس لیے فرمایا کہ قاضی کا ایسی عورت کی شادی کرانے پر اقدام کرنا جو عورت ایسے شوہر سے پہلے شادی کر چکی تھی جس کے ساتھ نکاح کرنا موجب فسخ تھا تو یہ نفس عقد پہلے نکاح کے فسخ کے حکم کو مستلزم ہے، مگر اس سے مراد ہے کہ حاکم اس عورت کا نکاح کسی سے کرائے پہلے شوہر کے دخول سے قبل اگر پہلے شوہر نے دخول کیا ہو تو پھر قاضی کا یہ عمل یہ تصرف یہ نہیں سمجھا جائے گا کہ قاضی پہلے شوہر کے نکاح کو فسخ کر رہا ہے اس کے نکاح کو باطل قرار دے رہا ہے اس لیے کہ نکاح میں بہت ساری ایسے صورتیں ہیں کہ دخول سے پہلے تو وہ فسخ کرنا ممکن تو ہے لیکن دخول کے بعد وہ معاملات وہ نکاح مؤکد ہو جاتے ہیں، یا یہ کہ دخول سے قبل قاضی کا اس عورت کا نکاح کرانا پہلے والے نکاح کو فاسد کرنے کے حکم میں تو ہے لیکن بعد دخول محض تصرف قاضی یعنی نکاح ثانی کرانا نکاح کے اول کے لیے مفسد کے حکم میں نہ ہوگا بلکہ اب دخول کے بعد زبان سے فیصلہ بھی درکار ہے کیوں کہ اب من جملہ عورت کے ساتھ دوسرے حقوق بھی متعلق ہیں۔ 

(فَرْعٌ) :
وَكَذَلِكَ إقْدَامُ الْحَاكِمِ عَلَى تَزْوِيجِ امْرَأَةٍ تَزَوَّجَتْ زَوَاجًا يَسْتَحِقُّ الْفَسْخَ، فَإِنَّ نَفْسَ الْعَقْدِ عَلَيْهَا يَسْتَلْزِمُ الْحُكْمَ بِفَسْخِ نِكَاحِهَا الْمُتَقَدِّمِ، يُرِيدُ أَنَّ الْحَاكِمَ زَوَّجَهَا قَبْلَ دُخُولِ الْأَوَّلِ بِهَا.

فرع۔
اسی طرح قاضی کا کسی مدیون کی ملکیت کو بیچنا یہ اس بات کی دلیل ہے اور یہ ایسا حکم ہے کہ قاضی کی جانب سے اب اس مدیون شخص کی ملکیت دوسرے شخص کی طرف منتقل ہوگئی اور اس کے قبضے سے یہ ملکیت کی چیز نکل گئی اس لیے کہ املاک کا منتقل ہونا اور عقود کا فسح ہونا یہ بدیہی طور پر ایک حکم ہے اور اسی انتقال کو قاضی کی جانب سے حکم سمجھا جائے گا مثلا ایک شخص مقروض تھا وہ قرض ادا نہیں کر رہا تھا، اور قرض دار نے قاضی کے پاس مقدمہ دائر کیا کہ فلاں شخص ہمارا قرض ادا نہیں کر رہا ہے اور قاضی صاحب نے اس مدیون شخص کی ملکیت کی کوئی چیز زمین یا گاڑی موبائل کچھ بھی، قاضی نے مدیون کی چیز میں خود تصرف کیا یعنی اسے خود بیچ دیا، اب قاضی کا یہ تصرف کرنا اس گاڑی کو موبائل کو یا اسی طرح اس زمین کو بیچنا ایک تصرف ہے قاضی کی جانب سے اور یہی ایک حکم سمجھا جائے گا کہ اس مالک کی ملکیت اب منتقل ہوئی ہے دوسرے کی طرف یعنی جس کا قرض ہے اس پر، اس کی ملکیت اس کی طرف چلی گئی ہے اور وہ اس چیز کا مالک ہو چکا ہے کیونکہ کا نقل کرنا اور اسی طرح کسی عقد کو فسخ کرنا ظاہراً یہ تو حکم ہی ہے حکم کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہے۔ 

(فَرْعٌ) :
وَكَذَلِكَ بَيْعُ الْحَاكِمِ مِلْكَ الْمَدِينِ فَإِنَّ حُكْمَهُ يَنْقُلُ الْمِلْكَ عَنْهُ وَخُرُوجُهُ مِنْ يَدِهِ؛ لِأَنَّ نَقْلَ الْأَمْلَاكِ وَفَسْخَ الْعُقُودِ لَا شَكَّ أَنَّهُ حُكْمٌ.

اب یہاں سے اس مسئلے کے خلاف مسئلہ بیان کر رہے ہیں کہ جہاں قاضی کا کوئی تصرف حکم کو مستلزم نہیں ہوگا مثلا قاضی کا دعوی سننا یا اسی طرح قاضی کا جواب دعوی سننا یا اسی طرح قاضی کا گواہوں کے بیان کو سننا یا قاضی کا کسی یتیم بچی کا نکاح کرانا جو یتیم بچی قاضی کے کفالت میں تھی یا قاضی کا کسی یتیم بچی یا بچے کے سامان کو بیچنا یہ حکم نہیں ہے قاضی کی جانب سے بلکہ اگر یہ معاملہ کسی دوسرے قاضی کے پاس پہنچ گیا اور دوسرے قاضی ان معاملات میں کوئی خرابی پائے، کوئی خلل پائے تو وہ دوسرا قاضی ان معاملات کو فسخ کر سکتا ہے کیونکہ محض دعوی کا سماعت کرنا، جواب دعوی کا سننا گواہوں کا سننا یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ قاضی ان میں کوئی حکم دے رہا ہے یا قاضی کوئی فیصلہ کر رہا ہے۔ 

وَالثَّانِي: كَسَمَاعِ الدَّعْوَى وَالْجَوَابِ وَسَمَاعِ الشُّهُودِ وَتَزْوِيجِ يَتِيمَةٍ تَحْتَ حِجْرِهِ أَوْ بَيْعِ سِلْعَةٍ لَهَا، فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَدُلُّ عَلَى الْحُكْمِ أَلْبَتَّةَ، بَلْ لِغَيْرِهِ مِنْ الْحُكَّامِ أَنْ يَنْظُرَ فِيهِ، فَإِنْ كَانَ مُخْتَلًّا فِي بَعْضِ شُرُوطِهِ عِنْدَ الْحَاكِمِ الثَّانِي فَلَهُ فَسْخُهُ.

فرع۔ 
قاضی صاحب نے نکاح کے فسخ کا حکم دیا یا بیع کے فسخ کا حکم دیا یا اجارے کے فسخ کا حکم دیا یا اسی طرح دوسرے جو موجبات فسخ چیزیں ہیں قاضی نے ان کا حکم دیا، اور قاضی کا یہ حکم دینا فسخ کا یہ ایسے معاملات میں ہو جن معاملات میں اختلاف ہو، اور منشاء خلاف بھی اجتہادی ہو اس میں کوئی نص جلی نہ ہو جو نص جلی اجتہاد سے مانع ہو تو قاضی کا حکم اس معاملہ کے علاوہ دوسرے معاملہ کی طرف متعدی نہ ہوگا، بلکہ اسی معاملے پر منحصر رہے گا اس مسئلے میں مصنف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قاضی کے پاس کوئی ایسا معاملہ آیا جو مجتہد فیہ تھا جس میں کوئی نص جلی نہیں تھی قران و حدیث سے کوئی دلیل نہیں تھی مثلا قاضی کے پاس نکاح کا معاملہ آیا کہ پروینہ خاتون اور آصف نے نکاح کیا ہے جبکہ وہ دونوں رضائی بھائی تھےیعنی انہوں نے فلاں عورت کا دودھ پیا ہے قاضی نے اس نکاح کو فسخ کر دیا پھر کسی اور کا معاملہ ایسا ہی تھا یعنی دو فریق کا، جیسے جہاں آرا اور عبدالاحد کا معاملہ آیا،ان دونوں کی صورت بھی ایسی تھی یعنی انہوں نے بھی کسی عورت کا دودھ پیا تھا بظاہر لگ رہا تھا مسئلہ ایک جیسا ہے تو قاضی نے جو پہلے معاملے میں فیصلہ کیا ہے کیا یہ دو بھی اسی فیصلے پر قیاس کرتے ہوئے یہ سمجھ لیں کہ قاضی کا حکم ہمارے لیے بھی ہے یا ان کا معاملہ بھی چونکہ ایسا ہی ہے تو کیا قاضی کا پہلا حکم اس حکم کو بھی مستلزم ہوگا فرماتے نہیں ان کے لیے قاضی الگ فیصلہ کرے گا اگرچہ صورت ایک ہی ہے لیکن قاضی کا فیصلہ چونکہ پہلے والے معاملے کے ساتھ تھا اس لیے قاضی کا حکم اس سے آگے نہیں بڑھے گا قاضی کا حکم جس معاملے سے متعلق ہو وہ اسی معاملے سے متعلق رہتا ہے، اسی معاملے کے ساتھ خاص رہتا ہے آگے نہیں بڑھتا، برخلاف مفتی کے فتوی کے کہ ایک شخص آیا اس نے کہا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا میری نماز میں ایسی ایسی صورت پیش آئی مفتی صاحب نے کہا کہ آپ کی نماز نہیں ہوئی پھر دوسرا شخص آیا اس کی بھی نماز میں وہی صورت پائی گئی تو اب اس کو دوبارہ سے مفتی کو فتوی پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ اسی پر قیاس کرتے ہوئے جو پہلے شخص کو مفتی صاحب نے فتوی دیا ہے اسی پر قیاس کرتے ہوئے اپنی نماز کو دہرائے گویا مفتی کا فتوی عام ہوتا ہے اور قاضی کا قضاء خاص ہوتا ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ مفتی صاحب جو فیصلہ کرتا ہے وہ عام دلائل کی روشنی میں کرتا ہے اور کلیات کو لے کر کرتا ہے جبکہ قاضی جو فیصلہ کرتا ہے وہ جزئیات کے ضمن میں فیصلہ کرتا ہے جزئیات کو دیکھتا ہے یعنی قاضی کے فیصلے کے لیے گواہوں کی ضرورت ہے اور ان گواہوں کا اپنی انکھوں سے اس معاملے کو دیکھنا ضروری ہے تو یہ سب صورتیں جزئی صورتیں ہیں اس لیے قاضی کا فیصلہ صرف اسی معاملے سے متعلق خاص رہتا ہے جس معاملے سے متعلق قاضی نے فیصلہ کیا ہے اس سے اگے نہیں بڑھتا ہے بلکہ اگر یہی دو یعنی پروینہ خاتون اور آصف جن کے متعلق رضاعی بھائی ہونے کا شک تھا قاضی نے ان کے معاملہ فیصل کر دیا پھر یہ گھر گئے اور پھر انہوں نے دوبارہ نکاح کر لیا اور پھر یہ معاملہ قاضی کے عدالت میں آ گیا تو اب اسی پہلے فیصلے پر فیصلہ نہیں کیا جائے گا اور وہی حکم نافذ نہیں کیا جائے گا بلکہ اب قاضی کو دوبارہ سے اس معاملے میں غور کرنا ہوگا اور اس معاملے کے متعلق چھان بین کرنی ہوگی اور دوبارہ سے فیصلہ کرنا ہوگا گویا وہی فریقین پھر وہی مسئلہ لے کر آے ہیں، لیکن چونکہ دوبارہ نکاح کر کے آئے ہیں تو قاضی کا پہلا والا حکم اس دوسرے والے معاملے کی طرف متعدی نہیں ہوگا اگرچہ انہی فریق کا ہے دوبارہ سے اس میں اب فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے اسی طرح قاضی کے پاس معاملہ آیا یہی معاملہ رضاعت کا معاملہ لیجئے قاضی صاحب نے فسخ نکاح کا فیصلہ کر دیا پھر انہوں نے پھر سے نکاح کیا اب جب یہ معاملہ قاضی کے پاس آیا اس وقت وہ قاضی عدالت میں نہ تھا بلکہ کوئی دوسرا شافعی قاضی تھا تو وہ دوبارہ اس معاملے میں غور و فکر کر کے اس سے متعلق جو صحیح رائے بنتی ہوگی اس کے متعلق فیصلہ کرے گا۔ 

فَرْعٌ مِنْهُ: اعْلَمْ: أَنَّ الْقَاضِيَ إذَا حَكَمَ بِفَسْخِ نِكَاحٍ أَوْ بَيْعٍ أَوْ إجَارَةٍ أَوْ شِبْهِ ذَلِكَ مِنْ مُوجِبَاتِ الْفَسْخِ وَذَلِكَ فِي مَسْأَلَةٍ مُخْتَلَفٍ فِيهَا وَمَنْشَأُ الْخِلَافِ فِيهَا اجْتِهَادِيٌّ: أَيْ لَيْسَ فِيهِ نَصٌّ جَلِيٌّ يَمْنَعُ مِنْ الِاجْتِهَادِ، فَإِنَّ حُكْمَ الْحَاكِمِ لَا يَتَعَدَّى ذَلِكَ الْفَسْخَ.

ہاں یہاں پر یہ امر قبل غور ہے کہ اگر قاضی نے کسی معاملے سے متعلق فیصلہ کیا ٹھیک ہے قاضی کا فیصلہ اس معاملے سے متعلق خاص ہے کسی دوسرے معاملے کی طرف متعدی نہیں ہوگا البتہ اس معاملے کے جو توابع اور عوارض ہے قاضی کا فیصلہ ان کو شامل ہوگا اس کے سلسلے میں قاضی کا فیصلہ مفتی کے فیصلے کی طرف ہے مفتی کے فتوے کی طرح ہے کیونکہ توابع تو خود بخود شامل ہو جاتے ہیں اس لیے جس طرح مفتی کا فتوی دوسرے کی طرف منتقل ہو سکتا ہے اگر وہی صورت پیش آ گئی ہو اسی طرح قاضی کا فیصلہ اس معاملے کے مطابق اور اس کے عوارض کو بھی شامل ہوگا

وَأَمَّا مَا يَتْبَعُ ذَلِكَ مِنْ الْأَحْكَامِ وَالْعَوَارِضِ فَذَلِكَ الْقَاضِي بِالنِّسْبَةِ إلَيْهَا كَالْمُفْتِي.

اور دوسری بات کہ ایک دوسرا قضیہ ایک دوسرا معاملہ قاضی کے سامنے پیش آیا اسی معاملے کی طرح جیسے معاملہ پہلے آ چکا تھا اور قاضی بھی یہی تھا اس عدالت میں جس عدالت میں پہلے معاملہ آیا تھا اسی قاضی نے اس فیصلے کو حل کیا تھا، اس معاملے کو حل کیا تھا اب دوبارہ دوسرا ایک قضیہ اور معاملہ ایسا ہی آرہا ہے، اور قاضی بھی یہی ہے لیکن قاضی نے اس معاملے سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا یہاں تک کہ قاضی مر گیا یا معزول ہو گیا تو فرماتے ہیں اگرچہ یہ دوسرا معاملہ پہلے معاملے کی طرح ہے قاضی اول کو اگر وہ موجود ہو یا قاضی ثانی اگر آ گیا ہو تو دونوں کو دوبارہ اس میں غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے اور غور و فکر کرنے کے بعد کوئی نیا فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے، پہلے والے فیصلے پر حکم نہیں دیا جائے گا پہلے قضیہ کا فیصلہ اب اس قضیہ بثانی کی طرف متعدی نہیں ہوگا،
اور قاضی اول کا حکم شامل نہیں ہوگا مگر اسی معاملے کے ساتھ جس معاملے سے متعلق قاضی نے بالفعل فیصلہ کیا ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ قاضی کا فیصلہ وہ جزئیات سے متعلق ہوتا ہے کلیات سے متعلق نہیں ہوتا ہے برخلاف مفتی کے، اس لیے کہ بہت سارے ایسے معاملات ہیں کہ قاضی ان میں غور و فکر کرتا ہے اور قاضی ان میں گواہوں کا محتاج بنتا ہے اور گواہ بھی اسی چیز کی گواہی دیتے ہیں جس کے کا انہوں نے عینی مشاہدہ کیا ہو یا بالمشافہہ مشاہدہ کیا ہو چناں چہ یہ ایک امر جزئی ہے یعنی گواہوں کا طلب کرنا پھر گواہوں سے پوچھنا تم نے یہ معاملہ آنکھوں سے دیکھا ہے یا نہیں بالمشافہہ اس کا مشاہدہ کیا ہے یا نہیں یہ سب چیزیں جزئی چیزیں ہیں جزئی معاملات ہیں اور دوسری بات یہ بھی کہ مفتی صاحب جو ہے وہ صرف ناقل ہوتا ہے وہاں اجتہاد کی گنجائش نہیں ہوتی اور قاضی اجتہاد سے بھی فیصلہ کرتا ہے اور کبھی نقل کے ذریعے بھی فیصلہ کرتا ہے چناں چہ یہ امرِ جزئی یعنی گواہوں کا اپنی آنکھوں سے کوئی معاملہ دیکھنا اور پھر گواہی دینا یا بالمشافہہ کسی معاملے کا مشاہدہ کرنا پھر گواہی دینا یہ امر جزئی بھی ہے اور بیشتر گواہان اسی کے ذریعے سے گواہی دیتے ہیں اور اسی طرح کی گواہی کو لے کر بیشتر قضاۃ فیصلہ صادر کرتے ہیں اس کے بغیر فیصلہ نہیں ہوتا۔ 

وَكَذَلِكَ لَوْ حَدَثَتْ قَضِيَّةٌ أُخْرَى مِثْلُ الْقَضِيَّةِ الَّتِي حَكَمَ فِيهَا بِالْفَسْخِ فِي وِلَايَةِ ذَلِكَ الْقَاضِي وَلَمْ تُرْفَعْ إلَيْهِ أَوْ رُفِعَتْ إلَيْهِ وَلَمْ يَنْظُرْ فِيهَا حَتَّى عُزِلَ أَوْ مَاتَ فَإِنَّهَا تَحْتَاجُ إلَى إنْشَاءِ نَظَرٍ آخَرَ مِنْ الْقَاضِي الْأَوَّلِ أَوْ مِنْ الْقَاضِي الثَّانِي، وَلَا يَكُونُ الْقَاضِي الْأَوَّلُ مُتَنَاوِلًا إلَّا لِمَا بَاشَرَهُ بِالْحُكْمِ، وَسَبَبُ ذَلِكَ أَنَّ حُكْمَ الْقَاضِي لَا يَتَعَلَّقُ إلَّا بِالْجُزْئِيَّاتِ دُونَ الْكُلِّيَّاتِ؛ لِأَنَّ مُعْظَمَ مَا يَنْظُرُ الْقَاضِي فِيهِ يَحْتَاجُ إلَى بَيِّنَةٍ.
وَالْبَيِّنَةُ إنَّمَا تَشْهَدُ بِمَا رَأَتْهُ أَوْ شَافَهَتْهُ وَذَلِكَ أَمْرٌ جُزْئِيٌّ، هَذَا هُوَ غَالِبُ مَا تَشْهَدُ بِهِ الْبَيِّنَةُ وَتُحْكَمُ الْقُضَاةُ بِهِ.

No comments:

Post a Comment