Saturday, July 20, 2024

chota howa 1

چوتھا باب ان الفاظ کے بیان میں جن کے ذریعے ولایت منعقد ہوتی ہے۔ 

[الْبَابُ الرَّابِعُ فِي الْأَلْفَاظِ الَّتِي تَنْعَقِدُ بِهَا الْوِلَايَةُ]

اور وہ الفاظ کہ ولایت کے اتمام میں وہ شرط ہیں اور جن شرطوں کی وجہ سے ولایت فاسد ہوتی ہے جان لیجیے کہ وہ الفاظ جن کے ذریعے ولایت منعقد ہوتی ہے دو طرح کے ہیں نمبر ایک صریح نمبر دو کنائی۔ اور صریح الفاظ چار طرح کے ہیں (١) وَلَّيْتُك، میں آپ کو والی بنایا (٢) وَقَلَّدْتُك، میں آپ کو قلادہ پہنایا،مقلَد بنایا، جس کی تقلید کی جاے(٣) وَاسْتَخْلَفْتُك، میں نے آپ کو خلیفہ بنایا (٤) وَاسْتَنَبْتُكَ. اور میں آپ کو نائب بنایا۔ 

وَمَا يُشْتَرَطُ فِي تَمَامِ الْوِلَايَةِ، وَمَا تَفْسُدُ الْوِلَايَةُ بِاشْتِرَاطِهِ، اعْلَمْ: أَنَّ الْأَلْفَاظَ الَّتِي تَنْعَقِدُ بِهَا الْوِلَايَةُ صَرِيحٌ وَكِنَايَةٌ فَالصَّرِيحُ أَرْبَعَةُ أَلْفَاظٍ، وَهِيَ: وَلَّيْتُك، وَقَلَّدْتُك، وَاسْتَخْلَفْتُك، وَاسْتَنَبْتُكَ.

اور کنائی الفاظ آٹھ طرح کے ہیں! اعْتَمَدْتُ عَلَيْك، میں میں نے تم پر اعتماد کیا، وَعَوَّلْت عَلَيْك، میں نے آپ کے اوپر ذمہ داری ڈالی، وَرَدَدْت إلَيْك، میں نے معاملہ آپ کی طرف لوٹا دیا وَجَعَلْت إلَيْك، میں نے ذمہ داری آپ کو دی، وَفَوَّضْت إلَيْك، میں نے معاملہ آپ کے سپرد کر دیا، وَوَكَّلْت إلَيْك، میں نے وکالت آپ کی طرف کر دی،  وَاسْتَنَدْت إلَيْك،میں نے قضاء آپ کے سہارے کر دیا، جبکہ بعض حضرات نے فرمایا : وَعَهِدْت إلَيْك. بھی ہے، کہ میں آپ سے عہد لیا۔ 

وَالْكِنَايَةُ ثَمَانِيَةُ أَلْفَاظٍ، وَهِيَ: اعْتَمَدْتُ عَلَيْك، وَعَوَّلْت عَلَيْك، وَرَدَدْت إلَيْك، وَجَعَلْت إلَيْك، وَفَوَّضْت إلَيْك، وَوَكَّلْت إلَيْك، وَاسْتَنَدْت إلَيْك وَقَالَ بَعْضُهُمْ: وَعَهِدْت إلَيْك.

کنائی الفاظ میں نیت کا ہونا ضروری ہے جس طرح طلاق وغیرہ میں الفاظ کنائی محتاج نیت ہوتے ہیں اسی طرح یہاں بھی الفاظ کنائی میں نیت کا ہونا ضروری ہے اور ایسے الفاظ کا ہونا ضروری ہے جس سے ماسوا چیزوں کا احتمال ختم ہو جائے مثلا یہ کہے احکم فیما اعتمدت علیک، کہ تو فیصلہ کر ان معاملات میں جن میں میں تجھ پر اعتماد کیا۔ اگر صرف اعتمدت علیک، کہتا تو اس میں بہت سارے احتمالات تھے کہ میں نے تجھ پر اعتماد کیا کس چیز میں اعتماد کیا اس میں بہت ساری چیزیں داخل ہو سکتی تھیں لیکن جب کہا کہ فیصلے کے سلسلے میں میں نے تجھ پر اعتماد کیا گویا یہ اس کو قضاء سپرد کر رہا ہے۔ اب دوسرے احتمالات ختم ہو گئے۔ اور اس طرح کے دیگر الفاظ جن سے خارجی احتمالات دور ہوجائیں کہنا ضروری ہے۔ 

وَتَحْتَاجُ الْكِنَايَةُ إلَى أَنْ يَقْتَرِنَ بِهَا مَا يَنْفِي عَنْهَا الِاحْتِمَالَ مِثْلُ: اُحْكُمْ فِيمَا اعْتَمَدْت عَلَيْك فِيهِ، وَشِبْهُ ذَلِكَ.

بادشاہ اگر کسی آدمی کو قضاء کا عہدہ دے اور قضاء کے عہدے کا قلادہ پہنائے تو کیا یہ شخص اس قضاء رد کردے، تو پھر کیا ہوگا۔ 
اگر امیر وقت یا بادشاہ نے کسی آدمی کو قضاء عہدہ سپرد کیا لیکن اس شخص نے رد کر دیا تو کیا وہ شخص اس عہدہ و رد کرنے کے بعد قبول کر سکتا ہے یا نہیں۔اس سلسلے میں فرماتے ہیں کہ اگر آمنے سامنے بالمشافہہ اس شخص نے بادشاہ کے دیے ہوئے عہدے کو رد کر دیا تو اب رد کرنے کے بعد دوبارہ اسے قبول نہیں کر سکتا ہے اور اگر اس شخص نے بادشاہ کے دیے ہوئے عہدے کو غیبوبت یعنی غائبانہ حالت میں رد کر دیا جیسے امیر وقت نے کسی کے ہاتھ ایک شخص کے لیے پیغام بھیجا کہ میں آپ کو قضاء کا عہدہ سپرد کر رہا ہوں اور اس شخص نے اس قاصد کے سامنے قضاء کے عہدے کو رد کر دیا تو اسی حالت میں یعنی غائبانہ حالت میں یہ شخص رد کرنے کے بعد اسے قبول کر سکتا ہے جب تک کہ بادشاہ یا امیر وقت کو اس کے رد کی خبر نہ پہنچے یعنی بادشاہ تک رد کی خبر پہنچنے سے پہلے پہلے یہ شخص رد کرنے کے بعد دوبارہ قبول کر سکتا ہے کیونکہ یہ اس وکیل اور اس موصی لہ کی طرح ہے جسے مؤکِل یا موصی نے ایک رقعہ میں پیغام لکھ بھیجا ہو کہ میں آپ کو وکیل بناتا ہوں یا میں آپ کے لیے وصیت کرتا ہوں اگر اس وکیل یا موصی لہ نے ان کے رسالے کو  لوٹا دیا اور رد کر دیا تو رد کرنے کے بعد اسے قبول کر سکتا ہے جب تک کہ موکِل یا موصِی  تک رد کی خبر نہ پہنچے اس سے پہلے پہلے یہ اس سے قبول کر سکتا ہے
اس کے بعد مصنف رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ قاضی اگر کہے کہ میں اپنے اپ کو معزول کرتا ہوں یا میں نے عہدہ قضاء سے اپنے آپ کو خارج کر دیا یا یہ چیز یعنی اپنے آپ کو معزول کرنے کی بات قاضی نے بادشاہ کی طرف لکھ بھیجی تو فرماتے ہیں قاضی معزول ہو جائے گا جب بادشاہ کو خبر ہوگی بادشاہ کو خبر ہونے سے پہلے قاضی معزول نہیں ہوگا کیونکہ یہ وکیل کی طرح ہے اس سلسلے میں اور وکیل اگر اپنے آپ کو وکالت سے ہٹائے تو مؤکِل کو خبر ہونے سے پہلے پہلے وہ وکالت سے خارج نہیں ہوتا ہاں جب مؤکِل کو خبر ہو جائے تو پھر وہ اپنی وکالت سے ہٹ جائے گا اسی طرح یہاں بھی بادشاہ کو خبر ہونے سے پہلے پہلے معزول نہ ہوگا خبر ہونے کے بعد معزول ہوگا، جبکہ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ خود اپنے آپ کو معزول کرنے سے معزول نہ ہوگا۔ 

فَصْلٌ السُّلْطَانُ لَوْ قَلَّدَ رَجُلًا قَضَاءَ فَرَدَّهُ]
(فَصْلٌ) :
السُّلْطَانُ لَوْ قَلَّدَ رَجُلًا قَضَاءً فَرَدَّهُ هَلْ لَهُ أَنْ يَقْبَلَهُ بَعْدَهُ؟ إنْ قَلَّدَهُ مُشَافَهَةً لَيْسَ لَهُ أَنْ يَقْبَلَ بَعْدَ رَدِّهِ، وَلَوْ قَلَّدَهُ مُغَايَبَةً فَلَوْ بَعَثَ إلَيْهِ مَنْشُورَهُ أَوْ رَسُولَهُ فَرَدَّهُ فَلَهُ قَبُولُهُ بَعْدَهُ مَا لَمْ يَعْلَمْ السُّلْطَانُ بِرَدِّهِ كَوَكِيلٍ أَوْ مُوصًى لَهُ بِرِسَالَةٍ، فَلَوْ رَدَّا فَلَهُمَا قَبُولُهُ مَا لَمْ يَعْلَمْ الْمُوَكِّلُ وَالْمُوصِي. الْقَاضِي قَالَ: عَزَلْت نَفْسِي أَوْ أَخْرَجْت نَفْسِي عَنْ الْقَضَاءِ أَوْ كَتَبَ بِهِ إلَى السُّلْطَانِ يَنْعَزِلُ إذَا عَلِمَ لَا قَبْلَهُ كَوَكِيلٍ وَقِيلَ لَا يَنْعَزِلُ الْقَاضِي لَوْ عَزَلَ نَفْسَهُ.

فصل۔ عہدہ قضاء اور امارت کو معلق کرنا۔ 
فصل۔ عہدہ قضاء و امارت کو کسی چیز پر معلق کرنا جائز ہے، اسی طرح ان کی اضافت مستقبل کی طرف کرنا بھی جائز ہے، مثلاً  امیر کہے کہ اگلے سال سے آپ قاضی، یا دو ہزار پچیس سے میں آپ کے سپرد عہدہ قضاء کرتا ہوں، اسی طرح عہدہ قضاء کو مخصوص زمانے اور مخصوص جگہ کے ساتھ موقت و مقید کرنا بھی جائز ہے، مثلا، امیر کہے آپ اس سال بہار کے قاضی ہیں، چونکہ بقدر زمان و بقدرِ مکان ہی قاضی ہوگا، حتی کہ اگر قاضی کسی کو اپنا نائب بناتے ہوے کہے کہ آپ صرف اس مخصوص مسجد میں ہی فیصلہ کریں تو نائب صاحب صرف اس مسجد کے قاضی ہوں اس کے علاوہ کے نہیں، اسی طرح بعض جھگڑوں کی سماعت یا کسی متعین شخص کی سماعت کا استثناء کرنا بھی جائز ہے اور قاضی صاحب ان مستثنیٰ جھگڑوں اور مستثنیٰ آدمی کے حق میں قاضی نہ ہوں گے، 
[فَصْلٌ تَعْلِيقُ الْقَضَاءِ وَالْإِمَارَةِ]
(فَصْلٌ) :
وَيَجُوزُ تَعْلِيقُ الْقَضَاءِ وَالْإِمَارَةِ، وَكَذَا يَجُوزُ إضَافَتُهُمَا إلَى الْمُسْتَقْبَلِ، وَكَذَا يَجُوزُ تَأْقِيتُ الْقَضَاءِ بِزَمَانٍ بِأَنْ قَالَ: أَنْتَ قَاضِي هَذِهِ الْبَلْدَةِ هَذَا الشَّهْرَ أَوْ هَذَا الْيَوْمَ، وَيَصِيرُ قَاضِيًا بِقَدْرِهِ، وَكَذَا يَجُوزُ تَقْيِيدُهُ بِمَكَانٍ، حَتَّى لَوْ قَيَّدَ الْقَاضِي إنَابَةَ نَائِبِهِ بِمَسْجِدٍ مُعَيَّنٍ يَتَقَيَّدُ بِهِ، وَيَجُوزُ اسْتِثْنَاءُ سَمَاعِ بَعْضِ الْخُصُومَاتِ أَوْ سَمَاعِ خُصُومَةِ رَجُلٍ بِعَيْنِهِ وَلَا يَصِيرُ قَاضِيًا فِي الْمُسْتَثْنَى.

اسی طرح اگر امیر شریعت نے قاضی سے کہا فلاں آدمی کا معاملہ سماعت نہ کیجئے گا جب تک میں سفر سے نہ لوٹ آؤں ایسے میں قاضی امیر کے آنے تک اس آدمی کے معاملہ کی شنوائی نہیں کرسکتے ہیں۔ جامع الفصولین سے یہ مسئلہ لیا گیا ہے۔ 

وَلَوْ قَالَ: لَا تَسْمَعْ خُصُومَةَ فُلَانٍ حَتَّى أَرْجِعَ مِنْ سَفَرِي، لَمْ يَجُزْ لَهُ سَمَاعُهُ حَتَّى يَرْجِعَ، مِنْ جَامِعِ الْفُصُولَيْنِ.


پانچواں باب قضا کے ارکان کے بیان میں ہے، پہلی فصل ان اوصاف کے بیان میں جو قاضی کی ولایت کی صحت کے لیے شرط ہیں، اور ایسے اوصاف چھ ہیں نمبر ایک قاضی کا ہونا نمبر دو مقضی بہ یعنی جس چیز کے بارے میں فیصلہ کیا جا رہا ہے نمبر تین مقضی لہ یعنی جس کے لیے فیصلہ کیا جا رہا ہے نمبر چار مقضی علیہ جس پر فیصلہ کیا جا رہا ہے، جس کے خلاف فیصلہ کیا جا رہا ہے نمبر پانچ قضاء کی کیفیت۔ 
[الْبَابُ الْخَامِسُ فِي أَرْكَانِ الْقَضَاءِ]
[الْفَصْل الْأَوَّلُ: فِي الْأَوْصَافِ الْمُشْتَرَطَةِ فِي صِحَّةِ وِلَايَةِ الْقَاضِي]
وَهِيَ سِتَّةٌ: الْقَاضِي، وَالْمَقْضِيُّ بِهِ وَالْمَقْضِيُّ لَهُ وَالْمَقْضِيُّ عَلَيْهِ، وَكَيْفِيَّةُ الْقَضَاءِ
پہلا رکن قضاء کی شرائط، قاضی کے آداب اور اس کا نائب قاضی بنانا اور فیصلے کے ذکر کے سلسلے میں ہے اور یہ چند فصلوں پر مشتمل ہوگا۔ 

الرُّكْنُ الْأَوَّلُ فِي شُرُوطِ الْقَضَاءِ، وَآدَابِ الْقَاضِي وَاسْتِخْلَافِهِ، وَذِكْرِ التَّحْكِيمِ، وَيَشْتَمِلُ عَلَى فُصُولٍ:
پہلے ان اوصاف کو بیان کریں گے جو قاضی کی ولایت کی صحت کے لیے شرط ہیں اور جو چیزیں قاضی کی ولایت کی صحت کے لیے شرط نہیں ہیں۔ چنانچہ جب امام کسی شخص کو ولایت قضاء سونپنے کا ارادہ کرے تو اس آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے لیے اور مسلمانوں کے لیے جدوجہد کرے اور ان کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کرے اور کسی ایک شخص کی طرفداری نہ کرے یا کسی پر احسان نہ جتلائے اور ولایت قضاء کے ذریعے صرف اللہ کی رضا مقصود ہو چنانچہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نہیں ہے کوئی امیر جسے امیر مقرر کیا گیا یا نہیں ہے کوئی قاضی جسے قاضی بنایا گیا ہو طرفداری کے لیے مگر یہ کی اس پر ان گناہوں کا نصف وبال ہوگا جو وہ قاضی کرے گا اور اگر کسی کو امیر بنایا یا کسی کو قاضی بنایا مسلمانوں کی خیر خواہی کے لیے، تو وہ اس کے عمل کے ثواب میں برابر شریک رہے گا جو عمل وہ اللہ کی اطاعت میں گزاری میں کرے گا چناں چہ اگر اب یہ کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے گناہوں میں سے اس کو کچھ نہیں ملے گا کیونکہ اس کی نیت خالصتاً مسلمانوں خیر خواہی کی تھی اس لیے اس نے اسے قاضی بنایا تھا یا اسے امیر بنایا تھا اس لیے اس کے گناہوں کو وبال اس پر نہیں آئے گا یہ اس مشہور حدیث کے ضمن میں بات فرمائی ہے کہ من دل على خير، فله مثل أجر فاعله. (رواه مسلم، والترمذي، وأبو داود، وأحمد)،کہ جس نے کسی شخص کو کسی خیر پر رہنمائی کی تو رہنمائی کرنے والے کو عمل کرنے والے کے برابر ثواب ملتا ہے اور اگر کسی گناہ پر رہنمائی کی تو گناہ کرنے والے کا وبال اس پر بھی آئے گا۔ 
الْأَوَّلُ: فِي الْأَوْصَافِ الْمُشْتَرَطَةِ فِي صِحَّةِ وِلَايَةِ الْقَاضِي وَمَا هُوَ غَيْرُ شَرْطٍ، وَإِذَا أَرَادَ الْإِمَامُ تَوْلِيَةَ أَحَدٍ اجْتَهَدَ لِنَفْسِهِ وَلِلْمُسْلِمِينَ وَلَا يُحَابِي، وَلَا يَقْصِدُ بِالتَّوْلِيَةِ إلَّا وَجْهَ اللَّهِ تَعَالَى، فَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّهُ قَالَ: مَا مِنْ أَمِيرٍ أَمَّرَ أَمِيرًا أَوْ اسْتَقْضَى قَاضِيًا مُحَابَاةً إلَّاكَانَ عَلَيْهِ نِصْفُ مَا اكْتَسَبَ مِنْ الْإِثْمِ، وَإِنْ أَمَّرَهُ أَوْ اسْتَقْضَاهُ نَصِيحَةً لِلْمُسْلِمِينَ كَانَ شَرِيكَهُ فِيمَا عَمِلَ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ وَلَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ شَيْءٌ مِمَّا عَمِلَ مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ.

لہذا امیر کو چاہئے کہ ایسے آدمی کو چنے جو دین دار ہو، تقوی والا ہو، علم والا ہو، جیسے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت چاہی اور ان کو اپنا نائب مقرر کیا، چنانچہ یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ قضاء کا اہل صرف وہ شخص ہے جو کتاب و سنت کا عالم ہو اور اجتہاد رائے رکھتا ہو کیونکہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم  نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ کو نصیحت فرمائی تھی جبکہ حضرت معاذ کو آپ نے یمن کی طرف قاضی بنا کر بھیجا تھا کہ اے معاذ آپ کس چیز سے لوگوں کے درمیان فیصلہ کریں گے حضرت معاذ نے جواب دیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں قران کے ذریعہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کروں گا ارشاد ہوا اگر آپ قران میں مسئلہ نہ پاؤ، تو حضرت معاذ نے فرمایا پھر حدیث رسول سے فیصلہ کروں گا پھر ارشاد ہوا اگر حدیث میں مسئلہ نہ پاؤ، تو عرض کی میں اپنے اجتہاد سے لوگوں کے درمیان فیصلہ کروں گا اس پر رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے اور حضرت معاذ بن جبل کے سینہ پر دست شفقت رکھ کے فرمایا. تمام تعریفیں اس مولیٰ کے لیے جس نے اپنے رسول کے قاصد کو اس چیز کی توفیق دی جس سے اللہ کے رسول کو راحت ملے گی۔
فضرب رسول الله صلّى الله عليه وسلّم صدره وقال: الحمد لله الذي وفّق رسول رسول الله لما يُرضي رسول الله. 
وَلْيَخْتَرْ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الدِّينِ وَالْفَضْلِ وَالْوَرَعِ وَالْعِلْمِ كَمَا فَعَلَ أَبُو بَكْرٍ فِي اسْتِخْلَافِهِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَأَهْلُ الْقَضَاءِ مَنْ كَانَ عَالِمًا بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ وَاجْتِهَادِ الرَّأْيِ لِقَوْلِهِ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - لِمُعَاذٍ حِينَ بَعَثَهُ قَاضِيًا إلَى الْيَمَنِ «بِمَ تَقْضِي يَا مُعَاذُ» الْحَدِيثُ.
اور اس لیے بھی کہ قاضی وہ حق کے ساتھ فیصلہ کرنے پر مامور ہے حکم باری تعالی ہے اے داؤد ( علیہ الصلوۃ و السلام) ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے تاکہ آپ لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کریں آ گے فرمایا آپ خواہشات کی پیروی نہ کیجئے کہ یہ خواہشات کی پیروی آپ کو راہ راست سے ہٹا دے، بلا شبہ وہ لوگ جو اللہ کے راستے سے گمراہ ہوجاتے ہیں،ان کے لئے یوم جزا سے غافل رہنے کی وجہ سے، سخت عذاب ہے۔يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَضِلُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا نَسُوا يَوْمَ الْحِسَابِ ( سورۃ ص آیت ٢٦) 
 لیکن حق کے ساتھ فیصلہ کرنا جب ہی ممکن ہے کہ انسان کتاب و سنت اور اجتہاد رائے کا عالم رکھتا ہو، اس لیے کہ پیش آمدہ مسائل بہت زیادہ ہیں اور نصوص چندے ہیں چنانچہ جب پیش آمدہ مسائل غیر محدود اور نصوص محدود ہیں تو ظاہر ہے ہر ایک پیش آمد واقع کے لیے نص ہونا ضروری نہیں ہے تو وہاں قاضی کو اپنے اجتہاد رائے سے کام لینا پڑے گا اس لیے قاضی کا مجتہد الرائے ہونا ضروری ہے کیونکہ قاضی ہر حادثے میں کوئی نص نہیں پائے گا جس سے وہ حلِ معاملہ میں فیصلہ کرے پس وہ محتاج ہوگا منصوص علیہ مسائل سے معنی کے استنباط کا اور یہ استنباط معنی تب ہی ہوگا جب وہ عالم بالاجتہاد و الاستنباط ہو اور دوسری بات کہ قضاء کی اہلیت کے لیے عدالت شرط نہیں ہے بلکہ امور مستحسنہ اضافیہ میں سے ہے اور افضلیت و اولویت کی شرط ہے قضاء کی بہتری میں سے ایک عدالت بھی ہے یہاں تک کہ فاسق بھی قاضی بن سکتا ہے لیکن افضل یہ ہے کہ قاضی عادل ہو کیونکہ وہ امین ہوتا ہے
وَلِأَنَّ الْقَاضِيَ مَأْمُورٌ بِالْقَضَاءِ بِالْحَقِّ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى {يَا دَاوُدُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الأَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ} [ص: ٢٦] وَإِنَّمَا يُمْكِنُهُ الْقَضَاءُ بِالْحَقِّ إذَا كَانَ عَالِمًا بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ وَاجْتِهَادِ الرَّأْيِ؛ لِأَنَّ الْحَوَادِثَ مَمْدُودَةٌ وَالنُّصُوصَ مَعْدُودَةٌ، فَلَا يَجِدُ الْقَاضِي فِي كُلِّ حَادِثَةٍ نَصًّا يَفْصِلُ بِهِ الْخُصُومَةَ فَيَحْتَاجُ إلَى اسْتِنْبَاطِ الْمَعْنَى مِنْ الْمَنْصُوصِ عَلَيْهِ، وَإِنَّمَا يُمْكِنُهُ ذَلِكَ إذَا كَانَ عَالِمًا بِالِاجْتِهَادِ، وَالْعَدَالَةُ لَيْسَتْ بِشَرْطٍ لِلْأَهْلِيَّةِ، بَلْ هِيَ شَرْطُ الْأَوْلَوِيَّةِ حَتَّى إنَّ الْفَاسِقَ يُصْبِحُ قَاضِيًا، لَكِنَّ الْأَفْضَلَ أَنْ يَكُونَ الْقَاضِي عَدْلًا.
جب کہ امام شافعی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ فاسق قاضی نہیں بن سکتا ہے اور نہ اس کا قاضی بننا صحیح ہے یہی امام خصاف کی روایت ہے یہاں تک کہ اگر فاسق کو عہدہ قضاء سپرد کیا گیا تو وہ ہمارے نزدیک قاضی ہوگا اور اس کا فیصلہ نافذ بھی ہوگا،جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک نہ تو وہ قاضی بنے گا اور نہ ہی اس کا فیصلہ نافذ ہوگا، اس کی بنیاد اس اصول پر ہے کہ ہمارے نزدیک ہر وہ شخص جو گواہ بن سکتا ہے وہ قاضی بھی بن سکتا ہے اس لیے کہ قضاء کی بنیاد شہادت پر ہے جیسا کہ محیط برہانی میں لکھا ہے۔ 
وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ - رَحِمَهُ اللَّهُ - لَا يَصِحُّ قَاضِيًا، وَهُوَ رِوَايَةُ الْخَصَّافِ حَتَّى إنَّ الْفَاسِقَ لَوْ تَقَلَّدَ الْقَضَاءَ يَصِيرُ قَاضِيًا، وَلَوْ قَضَى يَنْفُذُ قَضَاؤُهُ عِنْدَنَا خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ، وَهُوَ بِنَاءٌ عَلَى أَنَّ كُلَّ مَنْ صَلَحَ شَاهِدًا عِنْدَنَا يَصْلُحُ قَاضِيًا؛ لِأَنَّ الْقَضَاءَ يُبْتَنَى عَلَى الشَّهَادَةِ، مِنْ الْمُحِيطِ۔ 

بعض فضلاء نے فرمایا کہ اس وقت کے جمہور مقلدین آثار صحابہ اور تابعین میں سے اکثر چیزیں نہیں پاتے ہیں کیونکہ ان کے یہاں ان کے اماموں کی کتابیں ہیں اور ان کی اماموں کے لکھے ہوئے مسائل ہیں وہ انہی سے فتوی دیتے ہیں
قَالَ بَعْضُ الْفُضَلَاءِ: وَجُمْهُورُ الْمُقَلِّدِينَ فِي هَذَا الزَّمَانِ لَا تَجِدُ عِنْدَهُمْ مِنْ آثَارِ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ كَبِيرَ شَيْءٍ، وَإِنَّمَا مُصْحَفُهُمْ مَذْهَبُ إمَامِهِمْ.
چنانچہ لوگوں نے ان صفات کے سلسلے میں کافی لمبا کلام کیا ہے جن صفات کا ایک قاضی کے لیے ہونا ضروری ہے چنانچہ بعض حضرات نے فرمایا کہ قاضی کی صفات میں سے یہ ہے کہ قاضی اہل علم لوگوں سے مشورہ لینے سے نہ ہی تکبر کرتا ہو اور نہ ہی کتراتا ہو اسی طرح قاضی تقوی شعار، ذہین، فطین ہو جلد باز نہ ہو بلکہ اطمینان سے کام کرنے والا ہو اور جو چیزیں لوگوں کے قبضے میں ہیں لوگوں کے ہاتھوں میں ہیں قاضی صاحب ان تمام چیزوں سے بے نیاز ہو عاقل ہو اور اپنے حالات کے اعتبار سے لوگوں میں محبوب ہو،اپنے دین کے سلسلے میں اپنے لیے غور و فکر کرنے میں احتیاط سے کام لینے والا ہو اور احتیاط سے کام لینے والا ہو اس میں جو کام اس کے سپرد کیا گیا ہے یعنی عہدہ قضاء اور ان لوگوں کے سلسلے میں بھی جن لوگوں کے بارے میں اسے  غور و فکر سپرد کیا گیا ہو اور جن لوگوں کا والی بنایا گیا ہے اور قاضی صاحب دھوکہ کھانے والوں میں سے نہ ہوں، باوقار ہو اور چہرے پر ہیبت کا اثر ظاہر ہوتا ہو  ہو، بغیر غصے کے ترش رو ہو، بغیر کمزوری کے تواضع کرنے والا ہو، عادل گواہوں کی شہادت سے فیصلہ کرنے والا ہو، لوگ اس کے پوشیدہ رازوں پر یا غلطیوں پر مطلع نہ ہوتے ہوں یعنی وہ غلطیاں ہی نہ کرتا ہو اور اللہ کے لیے ملامت کرنے والوں کی ملامت سے خوف نہ کھاتا ہو، اور مناسب ہے کہ قاضی فقیہ و محدث ہو ایسا محدث نہ ہو جو فقہ کو جانتا نہ ہو اور نہ ایسا فقیہ ہو جو حدیث کو جانتا نہ ہو، فقہ و آثار کا جانکار ہو یعنی روایت و درایت سے با خبر اور  فقہ کی اس وجہ کا بھی جان کار ہو جس کے ذریعے سے حکم لیا جائے، جس وجہ سے حکم کو مستنبط کیا جاتا ہے۔ 

وَقَدْ أَطَالَ النَّاسُ الْكَلَامَ فِي صِفَةِ مَنْ يَصْلُحُ لِلْقَضَاءِ، قَالَ بَعْضُهُمْ: وَمِنْ صِفَتِهِ أَنْ يَكُونَ غَيْرَ مُسْتَكْبِرٍ عَنْ مَشُورَةِ مَنْ مَعَهُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَرِعًا ذَكِيًّا فَطِنًا، مُتَأَنِّيًا غَيْرَ عَجُولٍ، نَزِهًا عَمَّا فِي أَيْدِي النَّاسِ، عَاقِلًا مَرْضِيَّ الْأَحْوَالِ، مَوْثُوقًا بِاحْتِيَاطِهِ فِي نَظَرِهِ لِنَفْسِهِ فِي دِينِهِ وَفِيمَا جَمُلَ مِنْ أَمْرِهِ وَمَنْ وَلِيَ النَّظَرَ لَهُمْ، غَيْرَ مَخْدُوعٍ، وَقُورًا مَهِيبًا، عَبُوسًا مِنْ غَيْرِ غَضَبٍ، مُتَوَاضِعًا مِنْ غَيْرِ ضَعْفٍ، حَاكِمًا بِشَهَادَةِ الْعُدُولِ، لَا يَطَّلِعُ النَّاسُ مِنْهُ عَلَى عَوْرَةٍ، وَلَا يَخْشَى فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ، وَلَا يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ صَاحِبَ حَدِيثٍ لَا فِقْهَ عِنْدَهُ، أَوْ صَاحِبَ فِقْهٍ لَا حَدِيثَ عِنْدَهُ، عَالِمًا بِالْفِقْهِ وَالْآثَارِ، وَبِوَجْهِ الْفِقْهِ الَّذِي يُؤْخَذُ مِنْهُ الْحُكْمُ.
حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جو اللہ سے ڈرا اور اپنی جان کے سلسلے میں لوگوں کے بالمقابل سزا سے زیادہ خوف کھاتا ہو اللہ پاک اس کو سلامتی عطا فرماتے ہیں۔ 
قَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: مَنْ رَاقَبَ اللَّهَ تَعَالَى فَكَانَتْ عُقُوبَتُهُ أَخْوَفَ فِي نَفْسِهِ مِنْ النَّاسِ وَهَبَهُ اللَّهُ السَّلَامَةَ.

بعض حضرات نے فرمایا کہ قاضی کے لیے مناسب ہے  کہ وہ خوشیار، بہت زیادہ حیلوں سے بچنے والا، کم عقل اور نادان لوگوں کی عقلیں جن چیزوں سے مکمل ہوتی ہیں ان سے وہ آراستہ ہو، وہ شرائط کا جاننے والا ہو اور ان چیزوں کی پہچان رکھتا ہو جن کا عربی میں سمجھنا ضروری ہے، عربی معانی و عربی عبارت کے اختلافات کو خوب سمجھتا ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ مدعی یا مدعی علیہ قاضی سے زیادہ عربی جانتے ہوں اور مدعی علیہ سے قسم لینی ہو اور وہ ایسے الفاظ سے قسم کھائے کہ قسم بھی درست ہو اور الزام سے بھی بری ہو جائے کیوں کہ قاضی کو پوری طرح عربی نہیں آتی تھی قاضی صاحب عربی پر مہارت ہی نہیں رکھتے تھے، اس لیے کہ، دعاوی، اقرار اور شہادت اور اس جیسے معاملات میں عبارت کے بدلنے سے احکام بھی بدلتے ہیں اور اس لیے بھی کہ شرائط کی کتابیں وہ جن کو محکوم لہ اور محکوم علیہ کے حقوق  شامل ہوتے ہیں اور شہادت بھی اسی میں سنی جاتی ہے شرائط کے ساتھ، پس کبھی کبھی عقد صحیح واقعہ ہوتا ہے یا کبھی کبھی صحیح واقعہ نہیں ہوتا ہے ضروری ہے کہ اس سلسلے میں اس چیز کی تفصیل کا بھی علم رکھتا ہو اور اس کے مجمل کا بھی علم رکھتا ہو اور مناسب ہے کہ قاضی بہت زیادہ ہوشیار پرکار اور چالاک نہ ہو جو کہ ایک امر زائد ہے ذہانت پر، کیوں کہ اگر قاضی بہت زیادہ ذہین و چالاک ہو تو بہت جگہ وہ شرعی قوانین کو پسِ پشت ڈال کر اپنی ہوشیاری و پرکاری سے فیصلہ کرے گا اور یہی چیز ہے جو انسان کو فراست کے ذریعے حکم دینے پر آمادہ کرتی ہے اور شرعی قوانین جیسے بینہ اور قسم وغیرہ کو معطل کر جاتا ہے اور اسی ذہانت سے زمانہ بھی فاسد ہوتا ہے اور زمانے والے بھی فاسد ہوتے ہیں اور حال محال ہو جاتا ہے۔ 

وَقَالَ بَعْضُهُمْ: يَنْبَغِي لِلْقَاضِي أَنْ يَكُونَ مُتَيَقِّظًا كَثِيرَ التَّحَرُّزِ مِنْ الْحِيَلِ، وَمَا يَتِمُّ مِثْلُهُ عَلَى الْعَقْلِ النَّاقِصِ أَوْ الْمُتَهَاوِنِ، وَأَنْ يَكُونَ عَالِمًا بِالشُّرُوطِ عَارِفًا بِمَا لَا بُدَّ مِنْهُ مِنْ الْعَرَبِيَّةِ وَاخْتِلَافِ مَعَانِي الْعَرَبِيَّةِ وَالْعِبَارَاتِ، فَإِنَّ الْأَحْكَامَ تَخْتَلِفُ بِاخْتِلَافِ الْعِبَارَاتِ فِي الدَّعَاوَى وَالْإِقْرَارِ وَالشَّهَادَاتِ وَغَيْرِ ذَلِكَ؛ وَلِأَنَّ كِتَابَ الشُّرُوطِ هُوَ الَّذِي يَتَضَمَّنُ حُقُوقُ الْمَحْكُومِ لَهُ وَعَلَيْهِ، وَالشَّهَادَةُ تُسْمَعُ بِمَا فِيهِ، فَقَدْ يَكُونُ الْعَقْدُ وَاقِعًا عَلَى وَجْهٍ يَصِحُّ أَوْ لَا يَصِحُّ، فَيَجِبُ أَنْ يَكُونَ فِيهِ عِلْمٌ بِتَفْصِيلِ ذَلِكَ وَبِمُجْمَلِہٖ، وَيَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ غَيْرَ زَائِدٍ فِي الدَّهَاءِ، وَذَلِكَ أَمْرٌ زَائِدٌ عَلَى الْفِطْنَةِ، وَإِنَّمَا نُهِيَ عَنْ ذَلِكَ لِأَنَّهُ يُحْمَلُ عَلَى الْحُكْمِ بِالْفِرَاسَةِ وَتَعْطِيلِ الطُّرُقِ الشَّرْعِيَّةِ مِنْ الْبَيِّنَةِ وَالْأَيْمَانِ، وَقَدْ فَسَدَ الزَّمَانُ وَأَهْلُهُ وَاسْتَحَالَ الْحَالُ
فصل۔ ان احکام کے سلسلے میں قاضی کے لیے لازم ہیں اس کے سیرتی پہلو میں، اور قاضی کے ان آداب کے بیان میں جن کے ترک کی گنجائش نہیں ہے۔ 
اور ان چیزوں کے بیان میں  جن کو لے کر قاضیوں کا عمل جاری ہے، اور ہم ابتداء کریں گے امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے مشہور رسالہ سے جو انہوں نے قضاء کے سلسلے میں مرتب کر کے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالی عنہ کو بھیجا، اور جو قضاء کے رسالہ اور احکام کے معانی سے مشہور ہے، اور جس پر تمام اسلام کے قضاۃ نمونہ کے طور پر عمل کرتے ہیں، جس کا تذکرہ بے شمار علماء نے کیا ہے اور اسی رسالہ سے اپنی کتاب کی ابتداء کی ہے، یہ ایسا رسالہ ہے جو در اصل قضاء کے فصلوں کو شامل ہے،۔ اور وہ یہ ہے 
بسم اللہ الرحمن الرحیم
امیر المومنین عمر کی طرف سے ابوموسی اشعری کو سلام علیک، میں اس
خدا کی جس کے سوا کوئی دوسرا معبود نہیں ہے حمد کرتا ہوں ۔ اما بعد (1) با تحقیق قضاء فریضہ محکم ہے اور ایسی سنت ہے جس کی ہمیشہ پیروی کی گئی (۲) جب کوئی مقدمہ تمہارے پاس آئے تو (اس کے تمام پہلوؤں کو اچھی طرح سمجھو (۳) جب معاملہ نکھر کر سامنے آجائے تو اپنا فیصلہ نافذ کرو۔ اس لئے کہ جس فیصلہ کا نفاذ نہ ہو اس کا زبان سے اظہار بے سود ہے (۴) مدعی و مدعا علیہ کے ساتھ بات کرنے ، عدالت میں بٹھانے ، اور انصاف کرنے میں ایک سا برتاؤ کرد تا کہ غریب و کمزور کو تمہاری عدالت کے بارے میں مایوسی نہ ہو، اور بڑے آدمی کو یہ طمع اور توقع نہ ہو کہ تم اس کی رعایت اور پاسداری کرو گے (۵) مدعی کے ذمہ بینہ اور مدعا علیہ کے اوپر حلف ہے۔ (۶) مسلمانوں کے درمیان صلح کرانا جائز ہے لیکن ایسی صلح معتبر نہیں کہ حرام کو حلال کر دے یا حلال کو حرامکر دے (۷) اگر تم نے کل کوئی ایسا فیصلہ کیا جس کے بارے میں تم نے پھر فور کیا اور اس سے بہتر فیصلہ کی تم کو رہنمائی ملی ۔ تو کل کا فیصلہ تم کو اس بات سے نہ رو کے کہ تم حق کی طرف رجوع کرو یعنی پہلے فیصلہ کو رد کر دو۔ اس لئے کہ حق کی طرف رجوع کرنا ، باطل پر اڑے رہنے سے بہتر ہے (۸) ہر ایسے مقدمہ میں جس کے بارے میں تمہارے دل میں خلش ہو اور جس کا حل تم کو قرآن وسنت میں نہ ملے خوب غور و فہم سے کام لو ، (۹) یعنی ہم مثل معاملہ اور ہم شکل واقعہ کا علم حاصل کرو۔ اس کے بعد قیاس واجتہا سے اس طرح کام لو کہ تمہاری رائے میں جو حق سے قریب تر ہو اور زیادہ مشابہت رکھتا ہو اور دینی مزاج کے اعتبار سے زیادہ پسندیدہ ہو، اس کا قصد کرو (۱۰) ایسے شخص کے لئے جو غیر موجود حق یا گواہ کا دعوی دار ہو۔ اتنی مہلت دو کہ اس میں وہ حاضر کر سکے (۱۱) پس اگر وہ گواہ پیش کر دے تو اس کا حق دلوا دو ورنہ اس کے خلاف فیصلہ کردو (۱۲) یہ طریقہ کار شہادت کی اندھیاری کو دور کر دے گا اور عذر کا دروازہ بند کر دے گا۔ (۱۳) ہر مسلمان کو دوسرے مسلمان پر گواہی دینے کا حق ہے، مگر وہ مسلمان جس کو جھوٹی تہمت پر حد لگ چکی ہو یا اس کی جھوٹی گواہی دینے کا بار بار تجربہ ہو چکا ہو (۱۴) یا ایسا شخص جس پر غلط ولی کی طرف اپنے کو منسوب کرنے یا غلط حسب و نسب بتانے کا الزام ہو۔ لاریب اللہ تعالیٰ تمہارے سرائر ( دلوں کے راز ) کا مالک ہے۔ اور جس نے بینات“ اور ” حلف کو دنیاوی سزا سے بچنے کا ذریعہ بنادیا ہے ، (۱۵) خبر دار اپنے کو غصہ اکتاہٹ، چڑ چڑا پن اور لوگوں کی ایذا رسانیہوتا اور اہل مقدمہ کے ساتھ تشکر سے حق وانصاف کے موقع میں بچاؤ۔ جن کے باعث اللہ تعالی اور کو واجب کرتا ہے اور جن کے باعث وہ اچھے ذخیرہ کا مستحق ہے، (۱۶) جو شخص اب اپنے خدا کے درمیان حق کے بارے میں چاہے اپنے نفس ہی کا معاملہ کیوں نہ ہو ۔ نیت میں اخلاص رکھتا ہے تو پھر اللہ تعالی ان تمام معاملات میں جو اس کے اور لوگوں کے درمیان ہوں کفالت کرتا ہے اور جو شخص ان تمام امور میں جو اس کے خدا کے درمیان میں ہوں ، نیکی کی راہ اختیار کرتا ہے، گرچہ خود اپنی ذات کا معاملہ کیوں نہ ہو تو ؟ تو پھر ان تمام امور میں جو اس کے اور لوگوں کے درمیان ہو خدا کفالت کرتا ۔ کرتا ہے، اور جو شخص خلاف واق م خلاف واقعہ امر کا جو علم الہی میں بھی نہ ہو، لوگوں کے سامنے دکھلاوا کرتا ہے، تو خدا اس کو داغدار کر دیتا ہے۔ (۱۷) پس خدا کی اخروی رحمت اور دنیاوی انعام کے متعلق تمہارا کیا گمان ہے،اچھی طرح سونچوں ، والسلام ۔

[فَصْل: فِي الْأَحْكَامِ اللَّازِمَةِ لِلْقَاضِي فِي سِيرَتِهِ]

الْفَصْلُ الثَّانِي: فِي الْأَحْكَامِ اللَّازِمَةِ لِلْقَاضِي فِي سِيرَتِهِ، وَالْآدَابِ الَّتِي لَا يَسَعُهُ تَرْكُهَا.

وَمَا جَرَى عَمَلُ الْحُكَّامِ بِالْأَخْذِ بِهِ. وَنَبْدَأُ بِرِسَالَةِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - الْمَعْرُوفَةِ بِرِسَالَةِ الْقَضَاءِ وَمَعَانِي الْأَحْكَامِ، وَعَلَيْهَا احْتِذَاءُ قُضَاةِ الْإِسْلَامِ، وَقَدْ ذَكَرَهَا كَثِيرٌ مِنْ الْعُلَمَاءِ وَصَدَّرُوا بِهَا كُتُبَهُمْ، وَهَذِهِ الرِّسَالَةُ أَصْلٌ فِيمَا تَضَمَّنَتْهُ مِنْ فُصُولِ الْقَضَاءِ، وَهِيَ: " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ عُمَرَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ إلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ: سَلَامٌ عَلَيْك، فَإِنِّي أَحْمَدُ اللَّهَ الَّذِي لَا إلَهَ إلَّا هُوَ أَمَّا بَعْدُ: فَإِنَّ الْقَضَاءَ فَرِيضَةٌ مُحْكَمَةٌ وَسُنَّةٌ مُتَّبَعَةٌ، فَافْهَمْ إذَا أُدْلِيَ إلَيْك وَأَنْفِذْ إذَا تَبَيَّنَ لَك، فَإِنَّهُ لَا يَنْفَعُ تَكَلُّمٌ بِحَقٍّ لَا نَفَاذَ لَهُ. سَوِّ بَيْنَ النَّاسِ فِي وَجْهِك وَمَجْلِسِك وَعَدْلِك، حَتَّى لَا يَيْأَسَ الضَّعِيفُ مِنْ عَدْلِك، وَلَا يَطْمَعَ الشَّرِيفُ فِي حَيْفِك، وَالْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي، وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ، وَالصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ إلَّا صُلْحًا أَحَلَّ حَرَامًا أَوْ حَرَّمَ حَلَالًا، لَا يَمْنَعُك قَضَاءٌ قَضَيْته بِالْأَمْسِ ثُمَّ رَاجَعْت فِيهِ نَفْسَك وَهُدِيت فِيهِ رُشْدَك أَنْ تُرَاجِعَ الْحَقَّ، فَإِنَّ الْحَقَّ وَمُرَاجَعَتَهُ خَيْرٌ مِنْ الْبَاطِلِ وَالتَّمَادِي فِيهِ، وَالْفَهْمَ الْفَهْمَ فِيمَا تَلَجْلَجَ فِي صَدْرِك مِمَّا لَا يَبْلُغُك فِي الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ، اعْرَفْ الْأَمْثَالَ وَالْأَشْكَالَ وَقِسْ الْأُمُورَ عِنْدَ ذَلِكَ، وَاعْمِدْ إلَى أَحَبِّهَا إلَى اللَّهِ وَأَشْبَهِهَا بِالْحَقِّ فِيمَا تَرَى، اجْعَلْ لِلْمُدَّعِي حَقًّا غَائِبًا أَوْ بَيِّنَةً أَجَلًا يَنْتَهِي إلَيْهِ فَإِنْ أَحْضَرَ بَيِّنَةً أَخَذْت بِحَقِّهِ، وَإِلَّا وَجَّهْت عَلَيْهِ الْقَضَاءَ فَإِنَّ ذَلِكَ أَجْلَى لِلْعَمَى وَأَبْلَغُ فِي الْعُذْرِ وَالْمُسْلِمُونَ عُدُولٌ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، إلَّا مَجْلُودًا فِي حَدٍّ، أَوْ مُجَرَّبًا عَلَيْهِ شَهَادَةُ زُورٍ، أَوْ طَعِينًا فِي وَلَاءٍ أَوْ نَسَبٍ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى تَوَلَّى مِنْكُمْ السَّرَائِرَ وَرَدَّ عَنْكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ وَالْأَيْمَانِ، وَإِيَّاكَ وَالْقَلَقَ وَالضَّجَرَ وَالتَّأَذِّي بِالنَّاسِ وَالتَّنَكُّرَ لِلْخُصُومِ عِنْدَ الْخُصُومَاتِ فِي مَوَاطِنِ الْحَقِّ الَّتِي يُوجِبُ اللَّهُ بِهَا الْأَجْرَ وَيُحْسِنُ بِهَا الذُّخْرَ، فَإِنَّهُ مَنْ يُصْلِحُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ وَلَوْ عَلَى نَفْسِهِ يَكْفِيهِ اللَّهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ، وَمَنْ تَزَيَّنَ لِلنَّاسِ بِغَيْرِ مَا يَعْلَمُ اللَّهُ مِنْهُ شَانَهُ اللَّهُ، فَمَا ظَنُّك بِثَوَابِ اللَّهِ فِي عَاجِلِ رِزْقِهِ وَخَزَائِنِ رَحْمَتِهِ، وَالسَّلَامُ.


No comments:

Post a Comment