Friday, July 19, 2024

d 9


یہاں سے مصنف رحمۃ اللہ علیہ فرمانا چاہتے ہیں کہ جیسا کہ آپ نے پیچھے جان لیا کہ جب کسی معاملے میں کوئی فساد ظاہر ہو عند القاضی اور وہ نکاح فسخ ہو گیا یا جو بھی اس کے اوپر فیصلہ لگا اس کے بعد پھر وہی فریقین دوبارہ نئے معاملے کے ساتھ قاضی صاحب کے پاس آئے، جیسا کہ زید اور ہندہ نے آپس میں شادی کی تھی جب کہ وہ رضائی بھائی تھے قاضی نے ان کے نکاح کو فسخ کیا اس کے بعد ان دونوں نے پھر سے نکاح کیا پھر سے دونوں نے شادی کی اور پھر یہی معاملہ دوبارہ قاضی کے پاس آیا،چاہے اسی قاضی کے پاس آئے یا کسی اور قاضی کے پاس، تو دوسرا قاضی اس معاملے میں پھر سے غور کرے گا اور اس فیصلے میں دوبارہ نظر ثانی کر کے دوبارہ فیصلہ کرے گا وہ جو پہلے والا حکم تھا کہ جب نکاح کو فسخ کیا تھا اسی پر اب اس والے معاملے کو عطف نہیں کرے گا بلکہ یہاں دوبارہ غور و فکر کرنا پڑے گا وہ پہلا معاملہ الگ تھا یہ معاملہ الگ ہے جب یہ بات ثابت ہو گئی تو مصنف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب قاضی نے زوجین کے درمیان کے نکاح کو فسخ کیا اس وجہ سے کہ ان میں سے ایک نے دوسرے کی ماں کا دودھ پیا ہے جب کہ وہ بڑا تھا حالانکہ ہمارے احناف کے نزدیک یہ مسئلہ نہیں ہے کیونکہ احناف کے نزدیک ارضاعِ کبیر یعنی مدت رضاعت کے بعد اگر کوئی کسی عورت کا دودھ پیتا ہے تو رضاعت ثابت نہیں ہوتی لیکن مالکیہ کے نزدیک ارضاعِ کبیر سے بھی حرمت ثابت ہوتی ہے یعنی اگر بڑے ہو کر مدت رضاعت کے بعد بھی کوئی کسی عورت کا دودھ پیتا ہے تو مالکیہ کے یہاں رضاعت ثابت ہو جائے گی اب ایسے قاضی کے پاس معاملہ آیا جو قاضی مالکی تھا اس نے دیکھا کہ زوجین میں سے ایک نے دوسرے کی ماں کا دودھ پیا ہے اگرچہ وہ بڑا تھا تو انہوں نے اپنے مسلک کے مطابق رضاعت کا فیصلہ کیا اور نکاح کو فسخ کر دیا اب چونکہ ان کے ہاں فسخ ثابت ہے تو اب اس فسخ کو کوئی توڑ نہیں سکتا ہے لیکن اب ان دونوں میاں بیوی نے پھر سے شادی کر لی دوبارہ، پھر ان دونوں کا معاملہ اس قاضی کے پاس لایا گیا جو قاضی پہلے والے قاضی کے بعد عہدہ قضاء پر براجمان ہو گیا ہے اب پہلا والا فسخ نکاح عند المالکیہ دوسرے قاضی کو نہیں روکے گا اس سے کہ وہ اس میں غور و فکر کرے بلکہ قاضی ثانی کو چاہیے کہ وہ اس دوسرے معاملے کو پھر سے دیکھے گا اس میں غور و فکر کرے گا اور اگر اس کا اجتہاد اور اس کے رائے بنتی ہو کہ نکاح کو باقی رکھنا چاہیے اور اس کے جواز کی کوئی صورت بنتی ہے تو وہ ارضاعِ کبیر کے باوجود اس نکاح کو باقی رکھے گا جیسے عند الاحناف ۔ 
اور اگر اس کا اجتہاد یہاں کی طرف جاتا ہے کہ ارضاعِ کبیر سے حرمت ثابت ہوتی ہے تو نکاح کو باقی نہیں رکھے گا بلکہ نکاح کو توڑ دے گا یا اگرچہ یہ معاملہ (دوسرا والا معاملہ) اسی قاضی کے پاس لایا گیا جس نے پہلے معاملے کو فسخ کیا تھا اور اب اس قاضی کی رائے بدل گئی ہے پہلے جو فیصلے کیا تھا اس کے خلاف اس قاضی کی رائے بدل گئی ہے تو یہ اب دوبارہ اس میں جواز کا فتوی دے سکتا ہے پہلے تو حرمت کا فیصلہ سنایا تھا ارضاعِ کبیر کی وجہ سے مشہور مالکی مسلک کے مطابق، لیکن اب چونکہ مالکی قاضی کی رائے بدل گئی وہ سمجھتا ہے ارضاعِ کبیر سے حرمت ثابت نہیں ہوتی تو وہ نکاح کو برقرار رکھے گا۔
(فَرْعٌ) :
إذَا ثَبَتَ مَا قَرَّرْنَاهُ فَإِنَّ الْقَاضِيَ إذَا فَسَخَ نِكَاحًا بَيْنَ زَوْجَيْنِ بِسَبَبِ أَنَّ أَحَدَهُمَا رَضَعَ أُمَّ الْآخَرِ وَهُوَ كَبِيرٌ فَالْفَسْخُ ثَابِتٌ لَا يَنْقُضُهُ أَحَدٌ، وَلَكِنَّهُ إنْ تَزَوَّجَهَا بَعْدَ زَوْجٍ فَرُفِعَ أَمْرُهُمَا إلَى غَيْرِهِ مِمَّنْ وَلِيَ بَعْدَهُ لَمْ يَمْنَعْهُ ذَلِكَ الْفَسْخُ أَنْ يَجْتَهِدَ وَيُبِيحَهَا لَهُ إنْ أَدَّاهُ اجْتِهَادُهُ إلَى أَنَّ إرْضَاعَ الْكَبِيرِ لَا يَنْشُرُ الْحُرْمَةَ، وَكَذَا لَوْ رُفِعَ إلَيْهِ نَفْسِهٖ وَتَغَيَّرَ اجْتِهَادُهُ فَلَهُ أَنْ يُبِيحَهَا لَهُ
 اس فرع میں بھی مصنف رحمت اللہ علیہ ویسا ہی حکم بیان کر رہے ہیں جیسے پہلے کیا تھا بس تھوڑا سا فرق ہے فرما رہے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے ایک عورت سے عدت میں شادی کی یعنی وہ عدت گزار رہی تھی پہلے شوہر سے تو اس نے عدت کے ہوتے ہوئے اس سے شادی کی پھر یہ معاملہ یعنی عدت میں شادی کرنے والا معاملہ ایسے قاضی کے پاس آیا جو مالکی تھا اور مالکیہ کے یہاں مسئلہ یہ ہے کہ وہ فسخ کے ساتھ حرمت مؤبدہ ثابت مانتے ہیں یعنی ان کا مسلک ہے کہ اگر عدت میں کوئی آدمی کسی عورت سے شادی کرتا ہے تو حرمتِ مؤبدہ ثابت ہوگی حرمت تو ہمارے (احناف کے) ہاں بھی ثابت ہوتی ہے، شافعی کے یہاں بھی ہوتی ہے لیکن مالکیہ کے یہاں اس پر اضافہ یہ ہے کہ حرمت مؤبدہ ہوگی اب یہ کبھی بھی اس سے شادی نہیں کر سکتا، کبھی بھی اس سے نکاح نہیں کر سکتا چنانچہ مالکی قاضی نے فیصلہ کیا حرمت مؤبدہ کا باوجود کی مالکی قاضی نے حرمت مؤبدہ کا فیصلہ کیا پھر بھی یہ حکم فسخ سے متجاوز نہیں ہوگا بلکہ اگر مالکی قاضی کے فیصلے کے بعد یہی زوجین عدت گزرنے کے بعد پھر سے نکاح کر لیں اور اب یہ معاملہ حنفی قاضی کے پاس آیا چونکہ احناف کے نزدیک حرمت موبدہ نہیں ہے اس لیے قاضی ثانی یعنی حنفی قاضی اس میں غور و فکر کر کے ان دونوں کے نکاح ثانی کو جائز قرار دے گا کیوں کہ یہ ثانی نکاح عدت گذرنے کے بعد ہوا ہے اب قاضی ثانی یہ نہیں سوچے گا کہ مالکی قاضی نے ان کے درمیان حرمت مؤبدہ کا فیصلہ کیا ہے اس لیے اب یہ کبھی نکاح نہیں کر سکتے، بلکہ حنفی قاضی اپنے مسلک کے مطابق ان کے نکاح ثانی کو برقرار رکھے گا کیونکہ حرمت تو اس وقت ثابت تھی جب یہ عورت کےساتھ عدت میں نکاح کر رہا تھا پھر جب وہ فسخ ہو گیا اگرچہ مالکی قاضی نے حرمت مؤبدہ کا فیصلہ کیا ہے لیکن اب یہ عدت گذرنے کے بعد دوسرے نکاح کے ساتھ حنفی قاضی کے پاس فیصلہ کرانے کے لیے آے ہیں اور ہمارے نزدیک حرمت مؤبد تو ہے نہیں اس لیے حنفی قاضی اب ان کے نکاح کو جائز قرار دے گا اور ان کے نکاح کو برقرار رکھے گا اسی کو مصنف نے فرمایا کہ اگر انہوں نے اس کے بعد یعنی مالکی قاضی کے فیصلے کے بعد پھر سے شادی کر لی اور پھر ان دونوں کا معاملہ ایسے قاضی کے پاس آیا جو حرمت مؤبدہ کا قائل نہ تھا تو پہلے والے قاضی کا حرمت مؤبدہ والا فیصلہ کرنا قاضی ثانی کے حق میں مانع نہ ہوگا اس بات سے کہ قاضی ثانی اس نکاح کو جائز قرار دے اور اس کو برقرار رکھے ہاں فرق یہ ہوگا کہ اس فرع کا حکم ایک عورت کے حق میں سمجھا جائے گا اور اس سے پہلے جو مالکی قاضی نے فیصلہ کیا ہے گویا وہ دو عورتوں کے حق میں تھا یعنی الگ الگ دو عورتیں ایک تو وہ عورت جو پہلا معاملہ لے کر قاضی مالکی کے پاس گئ ایک یہ عورت جو حنفی قاضی کے پاس دوبارہ معاملہ لے کر آئی ہے یعنی فرضی صورت میں وہ دو عورتیں ہوں گی اور مانا جائے گا کہ وہ الگ الگ فیصلہ تھا، پہلا والا فیصلہ الگ تھا اور یہ دوسرا والا فیصلہ الگ ہے گویا دوسرے والی اس فرع کا حکم جو ہے یہ صرف ایک عورت کے حق میں مانا جائے گا اور پہلا والا حکم دو عورتوں کے حق میں مانا جائے گا ایک تو اس عورت کے حق میں جو مالکی قاضی کے پاس گئ تھی اور اس عورت کے حق میں جو اب قاضی کے پاس آ رہی ہے اگرچہ حرمت مؤبدہ ثابت نہیں ہو رہی ہے

(فَرْعٌ) :
وَكَذَا مَنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فِي عِدَّتِهَا وَرُفِعَ ذَلِكَ إلَى قَاضٍ مَالِکِیٍّ فَاِنَہٗ یَرَی مَعَ الْفَسْخِ تَابِیْدَ التَّحْریْمِ وَ مَعَ ھذا فانہ حکم لا یُتعدی الفسخ وَاِذَا تَزَوَّجَ بَعْدَ ذَلِكَ وَرُفِعَ أَمْرُهُمَا إلَى قَاضٍ آخَرَ لَا يَرَى تَأْبِيدَ التَّحْرِيمِ لَمْ يَكُنْ الْقَضَاءُ الْأَوَّلُ مَانِعًا مِنْ أَنْ يُبِيحَهَا لَهُ، وَيَكُونُ الْحُكْمُ فِي حَقِّ الْمَرْأَۃِ فِي هَذَا الْفَرْعِ وَاَلَّذِي قَبْلَهُ حُكْمُ امْرَأَتَيْنِ لَمْ يَتَقَدَّمْ عَلَيْهِمَا حُكْمٌ.
فرع۔ 
اسی طرح جب ایک ادمی عقد نکاح میں نکاح اور بیع کو جمع کیا یعنی نکاح بھی کر رہا ہے ساتھ ساتھ میں بیع بھی کر رہا ہے یا نکاح اور اجارے کو جمع کیا ایک ہی معاملے کے ساتھ دو معاملے ملا دیے پھر یہ معاملہ ایسے قاضی کے پاس گیا جو مالکی تھا اور مالکی قاضی نے اپنے مشہور مذہب کے مطابق اپنی مشہور رائے کے مطابق فسخِ نکاح کا فیصلہ سنایا یا مالکی قاضی کسی ایسے مجتہد کا مقلد تھا کہ اس مجتہد کا یہ قول تھا اور اس قاضی نے اپنے مجتہد کے اسی قول پر فیصلہ کیا اور نکاح کو فسخ قرار دیا پھر اس آدمی نے بعینہ اسی عورت سے شادی کر لی اسی وجہ فساد پر یعنی پھر سے یہ نکاح اور بیع کو جمع کر رہا ہے یا نکاح اور اجارے کو جمع کر رہا ہے ایک معاملے کے ساتھ دو معاملے ملا رہا ہے جبکہ ایک فیصلہ تو پہلے ہو چکا ہے فسخ کا جو مالکی قاضی نے کیا ہے اب یہ دوبارہ بعینہ اسی فساد کے ساتھ پھر اسی عورت کے ساتھ نکاح کر رہا ہے اور اب کی بار ان کا معاملہ پہلے والے قاضی کے علاوہ دوسرے قاضی کے پاس لایا گیا تو پہلے والے قاضی کا حکم اور فیصلہ اس فعل ثانی کے فساد کو شامل نہیں ہوگا پہلے والے معاملے میں فساد الگ تھا اس معاملے میں فساد الگ سمجھا جائے گا بلکہ اگر قاضی ثانی غور و فکر کر کے اس کی رائے اُس رائے کے خلاف ہو جائے جو پہلا اجتہاد تھا تو دوسری رائے کے مطابق فیصلہ کرنا ہوگا،اور وہ سمجھے کہ بیع کو درست قرار دیا جائے اور نکاح کو فسخ یا یہ کہ نکاح کو مطلقا برقرار رکھے اور بیع کو فسخ کر دے جیسا کہ حنفی قاضی ہو۔ 
اس کی مثال یہ ہے کہ ایک آدمی نے عورت کے ساتھ شادی کی ایک ہزار پر اس شرط کے ساتھ کہ عورت اپنا غلام اس کو دے گی یعنی شوہر مہر اس کو ایک ہزار دے گا وہ ساتھ میں شرط رکھ رہا ہے کہ عورت کے پاس جو غلام ہے وہ مجھے دے اب یہ معاملہ تو ایک ہے نکاح کا لیکن اس میں دو معاملے ہیں بیع کا بھی یعنی غلام واپس کرنے کا عورت کی طرف سے اور شوہر کی جانب سے نکاح کا معاملہ ہے اب یہ دو معاملے ہو گئے نکاح کا اور بیع کا یا اس شرط پر نکاح کر رہا ہے کہ بضع کے لیے وہ چیز باقی رہے گی جس چیز پر عقد نکاح باقی رہتا ہے یعنی مہر وغیرہ اس امام کے نزدیک جو اس بات کا قائل ہو تو وہ مجتہد اور وہ قاضی جو اس بات کا قائل ہو وہ اس نکاح کو باقی رکھے گا۔ 

(فَرْعٌ) :
وَكَذَلِكَ لَوْ جَمَعَ رَجُلٌ فِي عَقْدِ النِّكَاحِ بَيْنَ النِّكَاحِ وَالْبَيْعِ أَوْ بَيْنَ النِّكَاحِ وَالْإِجَارَةِ وَرُفِعَ ذَلِكَ إلَى قَاضٍ مَالِكِيٍّ فَحَكَمَ بِالْفَسْخِ عَلَى مَشْهُورِ مَذْهَبِهِ لِرَأْيٍ رَآهُ أَوْ لِتَقْلِيدِهِ الْقَائِلِ بِذَلِكَ الْقَوْلِ ثُمَّ تَزَوَّجَ ذَلِكَ الرَّجُلُ تِلْكَ الْمَرْأَةَ بِعَيْنِهَا عَلَى ذَلِكَ الْوَجْهِ الْفَاسِدِ الَّذِي حَكَمَ الْقَاضِي بِفَسْخِهِ بَيْنَهُمَا فَرُفِعَ أَمْرُهُمَا إلَى الْقَاضِي الْأَوَّلِ أَوْ إلَى قَاضٍ غَيْرِهِ، فَإِنَّ حُكْمَ الْقَاضِي الْأَوَّلِ لَا يَتَنَاوَلُ فَسَادَ هَذَا الْفِعْلِ الثَّانِي، بَلْ إذَا أَدَّى نَظَرُ الْقَاضِي الثَّانِي إلَى خِلَافِ مَا أَدَّى إلَيْهِ اجْتِهَادُ الْأَوَّلِ إمَّا مِنْ إمْضَاءِ الْبَيْعِ وَالنِّكَاحِ مُطْلَقًا كَمَا لَوْ كَانَ حَنَفِيًّا.
مِثَالُهُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا عَلَى أَلْفٍ عَلَى أَنْ تَرُدَّ الْمَرْأَةُ عَلَيْهِ عَبْدًا صَحَّ النِّكَاحُ وَالْبَيْعُ عِنْدَهُ، أَوْ بِشَرْطِ أَنْ يَبْقَى لِلْبُضْعِ مَا يَجُوزُ عَقْدُ النِّكَاحِ عَلَى ذَلِكَ الْبَاقِي عِنْدَ مَنْ يَقُولُ بِهِ.

یہاں سے تیسری فصل کی شروعات ہو رہی ہے مصنف رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا تھا کہ تقریرات قاضی اور پھر اس میں فرمایا تھا کہ اس میں بھی چند فصلیں ہوں گی پہلی فصل تھی تصرفات قاضی کہ وہ حکم کو شامل ہے یا وہ حکم کو شامل نہیں ہے اب یہاں سے اس فصل میں ان جگہوں کو بیان کریں گے جن میں حکام کا تصرف حکم نہیں ہوتا پہلے تو وہ جگہیں تھی جن میں حکام کا تصرف کسی حکم کو شامل ہوتا تھا یہاں ان جگہوں کو بیان کریں گے جن میں حکام اور قاضیوں کا تصرف حکم نہیں ہوتا ہے

[فَصْلٌ الْمَوَاضِعُ الَّتِي تَصَرُّفَاتُ الْحُكَّامِ فِيهَا لَيْسَتْ بِحُكْمٍ]

چنانچہ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ وہ جگہیں جن میں قضاۃ کے تصرفات حکم نہیں ہوتے جب حکم نہیں ہوتا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ دوسرے قاضی کے لیے جائز ہوگا کہ قاضی اول کے تصرف جو کہ حکم کو شامل نہیں ہے اس کو بدل دے اور اس میں دوبارہ غور و فکر کرے اور پھر اپنی صواب دید کے مطابق اس میں کوئی فیصلہ نافذ کر سکتے ہیں

(فَصْلٌ) :

قَالَ بَعْضُهُمْ: الْمَوَاضِعُ الَّتِي تَصَرُّفَاتُ الْحُكَّامِ فِيهَا لَيْسَتْ بِحُكْمٍ وَلِغَيْرِهِمْ مِنْ الْحُكَّامِ تَغْيِيرُهَا وَالنَّظَرُ فِيهَا عَلَى أَنْوَاعٍ كَثِيرَةٍ.

یہاں سے امام قرافی مالکی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ اس بحث میں بہت سارے فقہاء پر معاملات ملتبس رہے ہیں یعنی ان معاملات میں ان کو تشویش رہی ہے اس لیے کہ کبھی کبھی قاضی کا تصرف حکم ہوتا ہے جس کا توڑنا جائز نہیں ہوتا اور کبھی کبھی اس کا تصرف حکم نہیں ہوتا اس لیے اس کا توڑنا جائز ہوتا ہے چنانچہ اس میں بہت سارے فقہاء کو التباس رہا ہے اور اس میں وہ پس و پیش رہے ہیں لہذا امام قرافی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں ان انواع میں سے جن میں فقہاء پس و پیش رہے ہیں ان میں سے بیس ٢٠ انواع کو ذکر کروں گا جو کہ قاضی کی جانب سے عام تصرف ہوں گے حکم نہیں ہوگا محض تصرف ہوں گے اور یہ ذکر اس لیے کروں گا تاکہ اس میں غلطی ہونے سے انسان بچ جائے اور انسان محفوظ رہ سکے ان میں غلطی سے

وَقَدْ الْتَبَسَ أَمْرُ ذَلِكَ عَلَى كَثِيرٍ مِنْ الْفُقَهَاءِ، فَإِنَّ الْحُكْمَ لَا يَجُوزُ نَقْضُهُ وَغَيْرُهُ يَجُوزُ نَقْضُهُ وَأَنَا أَذْكُرُ مِنْ جُمْلَةِ مَا ذَكَرُوهُ عِشْرِينَ نَوْعًا وَهِيَ عَامَّةُ تَصَرُّفَاتِهِمْ فَيَسْلَمُ فِيهَا مِنْ الْغَلَطِ.

پہلی نوع۔ 
تمام عقود جسے قاضی کا بیع و شراء کرنا یتیموں کے مال میں اسی طرح غائبین اور مفقودین کے اموال میں اسی طرح مجانین و سفہاء کے اموال میں اگر قاضی خود یہ بیع و شراء انجام دے، یتیموں کے اموال میں غائبین کے اموال میں مجنونوں کے اموال میں تو یہ قاضی کی جانب سے حکم نہیں ہوگا بلکہ یہ قاضی کا ایک تصرف ہے اسی طرح نکاح کرانا اس لڑکی کا یا اس یتیمہ کا جو بالغہ ہوئی ہے اور وہ قاضی کے زیر کفالت تھی یا اسی طرح اس عورت کا نکاح کرانا جو قاضی کے زیر کفالت تھی اور جس کا کوئی ولی نہ تھا اسی طرح قاضی کا ایسے شخص کی املاک میں اجارہ کرنا جس پر پابندی لگا دی گئی تھی قاضی کی جانب سے یا اس جیسے معاملات، یہ تمام تصرفات قاضی کی جانب سے پائے جائیں تو حکم نہیں ہوگا بلکہ تصرف ہوگا اور دوسرے قاضی کو ان میں دوبارہ غور و فکر کرنے کی اجازت ہوگی
النَّوْعُ الْأَوَّلُ: الْعُقُودُ كَالْبَيْعِ وَالشِّرَاءِ فِي أَمْوَالِ الْأَيْتَامِ وَالْغَائِبِينَ وَالْمَجَانِينِ، وَعَقْدُ النِّكَاحِ عَلَى مَنْ بَلَغَ مِنْ الْأَيْتَامِ وَعَلَى مَنْ هُوَ تَحْتَ الْحَجْرِ مِنْ النِّسَاءِ وَمَنْ لَيْسَ لَهَا وَلِيٌّ، وَعَقْدُ الْإِجَارَةِ عَلَى أَمْلَاكِ الْمَحْجُورِ عَلَيْهِمْ وَنَحْوِ ذَلِكَ، فَهَذِهِ التَّصَرُّفَاتُ لَيْسَتْ حُكْمًا وَلِغَيْرِهِمْ النَّظَرُ فِيهَا.

چنانچہ اگر دوسرا قاضی ان معاملات میں پائے کہ قاضی اول نے غبن فاحش میں وہ معاملے کیے ہیں کم قیمت پر وہ معاملے کئے ہیں اجرت قلیلہ پر وہ معاملے ہوئے ہیں یا اسی طرح اجرت مثل سے کم پر وہ معاملے ہوئے ہیں جیسے کہ نکاح وغیرہ میں یا قاضی ثانی دیکھیے کہ عورت کا نکاح غیر کفو میں ہوا ہے تو قاضی ثانی کے لیے شرعی قوانین کے مطابق اس معاملے کو منتقل کرنا اور فسخ کرنا ضروری ہوگا اور یہ تصرفات ان اعیان اور منافع میں حکم نہیں ہوگا کسی بھی حال میں

فَإِنْ وَجَدَهَا بِالثَّمَنِ الْبَخْسِ أَوْ بِدُونِ أُجْرَةِ الْمِثْلِ أَوْ وَجَدَ الْمَرْأَةَ مَعَ غَيْرِ كُفْءٍ فَلَهُ نَقْلُ ذَلِكَ عَلَى الْأَوْضَاعِ الشَّرْعِيَّةِ، وَلَا تَكُونُ هَذِهِ التَّصَرُّفَاتُ فِي هَذِهِ الْأَعْيَانِ وَالْمَنَافِعِ حُكْمًا فِي نَفْسِهَا أَلْبَتَّةَ.

ہاں البتہ کبھی کبھی جو تصرف قاضی صاحب کر رہے ہیں وہ حکم تو نہیں ہوتا لیکن اس کے پیچھے کوئی تصرف ہوتا ہے کہ قاضی کا اب یہ دوسرا والا معاملہ کرنا پہلے والے پر موقوف ہوتا ہے یعنی پہلے والا اگر فسخ ہوا ہوگا تبھی قاضی کا دوسرا معاملہ درست ہو سکتا ہے گویا پہلے والے معاملے کو قاضی کا حکم از خود شامل ہے مثلا عورت کا کسی آدمی سے نکاح کرنا بعد اس کے کہ وہ پہلے اس شوہر کے علاوہ کسی دوسری شوہر سے نکاح کر چکی تھی اب اگر قاضی صاحب اس عورت کے دوسرے والے نکاح کو باقی رکھ رہے ہیں اگرچہ یہ قاضی صاحب کی طرف سے حکم نہیں ہے لیکن حکم یہ ہے کہ قاضی صاحب اس نکاح کو فسخ اور ختم کر رہے ہیں جو پہلے ہوا ہے دوسرے والے معاملے میں قاضی کا تصرف اگرچہ حکم نہیں ہے لیکن اس سے پہلے والے معاملے میں قاضی کا تصرف حکم کے درجے میں ہے اسی کو امام قرافی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ کبھی کبھی قاضی کا تصرف اس موجودہ معاملے میں حکم نہیں ہوتا بلکہ موجودہ معاملے کے علاوہ کو حکم ہوتا ہے اس طور پر کہ یہ موجودہ تصرف حاکم کی جانب سے ( اس موجودہ تصرف پر) مقدم تصرف کے ابطال پر موقوف ہے جیسا کہ عورت کا نکاح کرنا بعد اس کے کہ اس نے اس شوہر کے علاوہ دوسرے سے نکاح کیا تھا جبکہ قاضی عورت کے پہلے نکاح کا علم رکھتا تھا یا اسی طرح سے قاضی نے کسی آدمی کی کوئی چیز بیچ دی بعد اس کے کہ وہ بیچ چکا تھا کسی دوسرے کے ہاتھ پہلے گویا قاضی کا یہ دوسرا تصرف یعنی کسی اور آدمی کے ہاتھ اسی چیز کو بیچنا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس سے پہلے جو بیع ہوئی تھی قاضی اس بیع کو فسخ کر رہے ہیں کیونکہ قاضی کو اس پر مقدم جو معاملہ ہوا ہے اس کا علم ہے اور اس علم کے باوجود قاضی صاحب دوسرے کے ہاتھ میں اس مبیع کو بیچ رہے ہیں گویا قاضی صاحب پہلے والے بیع کو فسخ کر رہے ہیں ختم کر رہے ہیں اور اس طرح کے دوسرے معاملات میں بھی یہی حکم ہوگا یہ اس لیے کہ اس دوسرے تصرف کا ثبوت عقود میں تقاضا کرتا ہے اس بات کا کہ عقود سابقہ کے فسخ کا اور اس کی وضاحت پہلے آ چکی ہے۔ 

 نعَمْ قَدْ تَكُونُ حُكْمًا فِي غَيْرِهَا بِأَنْ تَتَوَقَّفَ هَذِهِ التَّصَرُّفَاتُ عَلَى إبْطَالِ تَصَرُّفَاتٍ مُتَقَدِّمَةٍ عَلَى هَذِهِ التَّصَرُّفَاتِ الْوَاقِعَةِ مِنْ الْحَاكِمِ الْآنَ كَتَزْوِيجِهَا بَعْدَ أَنْ تَزَوَّجَتْ مِنْ غَيْرِ هَذَا الزَّوْجِ وَالْحَاكِمُ يَعْلَمْ ذَلِكَ، أَوْ بِيعَتْ الْعَيْنُ مِنْ رَجُلٍ بَعْدَ أَنْ بِيعَتْ مِنْ رَجُلٍ آخَرَ وَالْحَاكِمُ يَعْلَمْ ذَلِكَ وَنَحْوِ ذَلِكَ فَإِنَّ ثُبُوتَ هَذِهِ التَّصَرُّفَاتِ الْأَخِيرَةِ فِي هَذِهِ الْعُقُودِ يَقْتَضِي فَسْخَ تِلْكَ الْعُقُودِ السَّابِقَةِ، وَقَدْ تَقَدَّمَ ذِكْرُ ذَلِكَ.

No comments:

Post a Comment