یہ فصل ان قضایا اور ان معاملات کے بارے میں جو قضائے قاضی کی محتاج ہیں۔
[فَصْلٌ مَا يَفْتَقِرُ إلَى حُكْمِ الْحَاكِمِ]
قضاء قاضی کی ضرورت بنیادی طور پر تین طرح کے معاملات میں پڑتی ہے یا دوسرے الفاظ میں کہئے کہ اصول ثلاثہ کی بنیاد پر قضاء قاضی کا محتاج ہوا جاتا ہے، (١) معاملے کا حکم متفق علیہ ہو لیکن معاملے کا جو سبب ہو وہ مختلف ہو چنانچہ اس سبب میں غور و فکر کی ضرورت پڑتی ہو اور غور و فکر کے بعد ہی اس پر کوئی حکم لگایا جا سکتا ہو تو چونکہ سب میں غور و فکر کی کامل صلاحیت نہیں اور نا ہی ہر کسی و ناکس کی بات ہے کہ وہ حادثات و معاملات کے اسباب کو بصیرت سے پرکھ سکیں اس لیے ان معاملات میں قضاء قاضی کی ضرورت پڑتی ہے (٢) جہاں حق اللہ اور حق العبد متعارض ہوں اس لیے کہ جہاں حق اللہ اور حق العبد متعارض ہوں وہاں لوگوں کے سپرد کی معاملہ کرنے سے نزاع، فتنہ، قتل، فساد جاں اور حق تلفی ہوگی اس وجہ سے اس جگہ عام لوگوں کے بجائے قضاء قاضی کی ضرورت پڑتی ہے (٣) جہاں معاملہ و قضیہ ہی ایسا ہو کہ اس کے حکم میں ائمہ کے درمیان شدید اختلاف ہو تو ایسی معاملے میں بھی قضاء قاضی کی ضرورت پڑتی ہے اور یہ معاملہ بھی قضاء قاضی کا محتاج ہوتا ہے ان تین اصولوں کے بعد اب ان مثالوں کو سمجھئے! جو مصنف رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے بیان کی ہیں فرماتے ہیں وہ معاملات جو حاکم کے حکم کے محتاج ہے ان میں پہلا معاملہ وہ ہے جس میں اس شخص کو مفلس قرار دینا ہے جو اپنے مال میں دین سے گھرا ہوا ہو اس لیے کہ جس مدیون کو مفلس قرار دیا جائے اسی کو محجور بھی کیا جا سکتا ہے،اور حجر ( بیع و شراء اور دیگر تصرفات کرنے سے روکنا) کے صحت کی شرائط میں سے یہ ہے کہ پہلے اس کو مفلس قرار دیا جائے اور مفلس خود یا کسی عام آدمی کے کہنے سے نہیں ہوگا بلکہ قضاء قاضی سے ہوگا پھر اس مفلسی پر حجر ہوگا، اسی لیے کہ قضاء بالافلاس کے بغیر بالاجماع اس پر حجر نہیں ہو سکتا جب تک قاضی کسی مدیون کو مفلس قرار نہ دے تب تک اس پہ حجر نہیں کیا جا سکتا ذخیرہ میں یہی مسئلہ ہے
وَمِمَّا يَفْتَقِرُ إلَى حُكْمِ الْحَاكِمِ تَفْلِيسُ مَنْ أَحَاطَ الدَّيْنُ بِمَالِهِ؛ لِأَنَّ مِنْ شَرْطِ صِحَّةِ الْحَجْرِ عَلَى الْمِدْيَانِ الْقَضَاءُ بِإِفْلَاسِهِ أَوَّلًا ثُمَّ الْحَجْرُ بِنَاءً عَلَيْهِ، وَلِهَذَا لَا يَصِحُّ حَجْرُهُ مِنْ غَيْرِ الْقَضَاءِ بِإِفْلَاسِهِ بِالْإِجْمَاعِ " مِنْ الذَّخِيرَةِ ".
دوسرا مسئلہ جو کہ پہلے بھی بیان ہوچکا ہے کہ ایک شخص مدیون قرضدار تھا اس کے پاس صرف غلام تھا اس نے اس غلام کو آزاد کیا پھر قرض خواہوں نے اس پر دباؤ ڈالا کیوں وہ ان کا مقروض تھا اور قرض خواہ چاہتے تھے کہ مال وغیرہ تو اس کے پاس ہے نہیں کم از کم غلام تو رہے جس کو بیچ کر ہم اپنا قرض وصول کریں گے،اس لیے قرض خواہوں نے اس پر دباؤ ڈالا تو اس نے آزاد کردہ غلام کو اب بیچنا چاہا اب اس غلام نے قاضی کے پاس مقدمہ دائر کیا کہ کل ہمیں آزاد کیا اور آج فروخت کر رہے ہیں،کیا یہ غلام آزاد ہے،اور کیا آزادی کے بعد اس کو بیچنا درست ہے اس بات کو طے کرنے کے لئے قضاء قاضی کی ضرورت پڑے گی کیونکہ یہاں بھی حق العبد اور حق اللہ متعارض ہو رہے ہیں غلام کا آزاد کرنا یہ حق اللہ ہے اور قرض خواہوں کو مدیون کے مال میں حصہ حق دینا حق العبد ہے اب حق اللہ اور حق العبد جب متعارض ہوئے اب اگر یہاں لوگوں یہ معاملہ لوگوں کے سپرد کیا جائے تو نزاع اور فتنہ ہوگا قرض خواہ بیع کا تقاضا کریں گے،اور غلام آزادی کا،اس لئے یہاں بھی قضاء قاضی کی ضرورت پڑے گی، (٣) جمیع حدود قضاء قاضی کے محتاج ہیں اس لیے کہ حدود اللہ کی مقدار اگرچہ من جانب شارع متعین ہیں لیکن حدود اللہ میں ہر عام آدمی کی طرف معاملہ سپرد کرنے سے فساد اور نزاع کا اندیشہ ہے اس لیے یہاں بھی قضاء قاضی کی ضرورت پڑتی ہے اسی کو مصنف نے فرمایا کہ اس اصول کے ساتھ حدود بھی ملیں گے اس لیے کہ وہ بھی حکم حاکم کے محتاج ہیں، اگرچہ ان کی مقدار معلوم ہے شریعت میں لیکن ان کو تمام لوگوں کی طرف سپرد کرنا یہ فتنہ کینہ، قتل ناحق اسی طرح تلف مال کا باعث بنیں گے (٤) جس شخص نے صرف آدھا غلام کو آزاد کیا دوسرا آدھا وہ آزاد نہیں ہوگا اس پر مگر قضاء قاضی سے اس لیے کہ یہاں بھی حق اللہ اور حق العبد کا ٹکراؤ ہوا غلام کی آزادی یہ حق اللہ ہے اور آقا کی ملکیت یہ حق العبد ہے اسی طرح غلام کو آزادی کے لیے کمانا کے ساتھ خاص کرنا یہ بھی حق العبد ہے، اسی طرح غلام پر ملکیت کی قوت یہ بھی حق العبد ہے چنانچہ جب حق العبد اور حق اللہ کا ٹکراؤ ہو تو یہاں بھی قضاء قاضی کی ضرورت پڑے گی (٥) مکاتب کا بدلِ کتابت ادا کرنے سے عاجز آ جانا جبکہ اس کے پاس مال ظاہر تھا یعنی آقا نے اپنے غلام سے کہا کہ آپ اتنا مال مجھے کما کر دے دو آپ آزاد ہو جاؤ گے اب یہاں دو صورتیں ہے کہ غلام کے پاس پہلے سے کوئی مال نہیں تھا تو تب تو ظاہر ہے کہ وہ بدلے کتابت ادا ہی نہ کر پایا اس لیے وہ غلام ہی رہا لیکن اگر غلام کے پاس پہلے سے کوئی مال تھا جسے مصنف نے مال ظاہر سے تعبیر کیا ہے کہ وہ بدل کتابت ادا کر سکتا تھا اور آزاد ہو سکتا تھا لیکن اب آقا کہہ رہا ہے ہم نے شرط لگائی تھی کہ ایک مہینے کے اندر اندر مال کمانے کی یا اس طرح کی کوئی اور شرط کس شرط کی وجہ سے وہ مال ظاہر ہونے کے باوجود آزاد نہ ہو سکا تو یہ معاملہ الجھا اس لیے اب وہ غلام رہے گا یا آزاد ہو جائے گا اس کے لیے قضاء قاضی کی ضرورت پڑے گی (٦) غائبین ،زوج مفقود الخبر و زوج غائب غیر مفقود الخبرکی بیوی پر طلاق کا واقعہ کرنا یہ بھی حکم قاضی سے ہوگا ہر کوئی غائبین یعنی مفقود الخبر زوج یا غائب غیر مفقود الخبر کی بیوی پر طلاق واقع نہیں کر سکتا ہے کیونکہ یہاں اصل میں بسیار تلاش و تتبع کے بعد ہی طلاق کا وقوع ہو سکتا ہے یعنی پہلے یہاں یہ دیکھنا ہے کیا اس شخص کا غائب یا مفقود الخبر ہونا ثابت ہے یا نہیں اور یہ صرف قضاء قاضی سے ہو سکتا ہے یہ تحقیق و تلاش کرنا یہ قاضی کا کام ہے اس لیے یہاں حکم قاضی کی ضرورت پڑتی ہے۔
وَكَذَلِكَ بَيْعُ مَنْ أَعْتَقَهُ الْمِدْيَانُ عِنْدَ مَنْ يَرَاهُ لِتَعَارُضِ حُقُوقِ اللَّهِ تَعَالَى فِي الْعِتْقِ وَحَقِّ الْغُرَمَاءِ فِي الْمَالِيَّةِ، وَيَلْحَقُ بِذَلِكَ الْحُدُودُ فَإِنَّهَا تَفْتَقِرُ إلَى حُکْمِ الْحَاكِمِ وَإِنْ كَانَتْ مَقَادِيرُهَا مَعْلُومَةً؛ لِأَنَّ تَفْوِيضَهَا لِجَمِيعِ النَّاسِ يُؤَدِّي إلَى الْفِتَنِ وَالشَّحْنَاءِ وَالْقَتْلِ وَفَسَادِ الْأَنْفُسِ وَالْأَمْوَالِ، وَكَذَلِكَ مَنْ أَعْتَقَ نِصْفَ عَبْدِهِ فَإِنَّهُ لَا يُعْتَقُ عَلَيْهِ بَقِيَّةُ الْعَبْدِ إلَّا بِالْحُكْمِ لِتَعَارُضِ حَقِّ اللَّهِ فِي الْعِتْقِ وَحَقِّ السَّيِّدِ فِي الْمِلْكِ وَحَقِّ الْعَبْدِ فِي تَخْصِيصِ الْكَسْبِ وَقُوَّةِ الْخِلَافِ فِي التَّمْلِيكِ عَلَيْهِ وَكَذَلِكَ تَعْجِيزُ الْمُكَاتَبِ إذَا كَانَ لَهُ مَالٌ ظَاهِرٌ لَا يَكُونُ إلَّا بِالْحُكْمِ وَكَذَلِكَ التَّطْلِيقُ عَلَى الْغَائِبِينَ مِنْ الْمَفْقُودِينَ وَغَيْرِهِمْ فَلَا بُدَّ فِي ذَلِكَ مِنْ حُكْمِ الْحَاكِمِ.
(٨) اسی طرح مال غنیمت کا تقسیم کرنا اگرچہ مال غنیمت کی مقدار بھی متعین ہے کہ پیدل چلنے والوں کے لیے ایک حصہ اور سوار کے لیے دو حصے اگرچہ مقدار معلوم ہے لیکن اسباب استحقاق میں اختلاف ہے اس لیے کہ سوار والا چاہے گا میرے لیے جو دو حصے ہیں وہ اچھے سے اچھے مال میں میں سے دئیے جائیں کیونکہ ہم سوار تھے اور جو پیدل تھے وہ کہیں گے ہم نے مشقت زیادہ برداشت کی ہم پیدل چل رہے تھے اس لیے اچھے سے اچھے مال میں ہمارا حصہ ہو تو مال میں چونکہ تفاوت ہے اس لیے اسباب استحقاق میں بھی تفاوت ہوگا اس لیے پہلے بات آچکی ہے جہاں اسباب میں اختلاف ہو وہاں بھی قضاء قاضی کی ضرورت پڑتی ہے،قضاء قاضی کے بغیر چارہ نہیں اگر یہ معاملہ تمام لوگوں کی طرف سپرد کیا جائے گا تو پھر لوگ اپنی لالچ و حرص کی بنیاد پر فیصلہ کرنا شروع کر دیں گے اور ہر انسان اپنے لیے مال کا وہ بہترین حصہ چاہے گا جس کا دوسرا تقاضا کرتا ہوگا اور یہ چیز فتنے کا باعث بنے گی۔
وَكَذَلِكَ قِسْمَةُ الْغَنَائِمِ وَإِنْ كَانَتْ مَعْلُومَةَ الْمَقَادِيرِ، وَأَسْبَابُ الِاسْتِحْقَاقَاتِ فَلَا بُدَّ فِيهَا مِنْ حُکْمِ الْحَاكِمِ، وَلَوْ فُوِّضَتْ لِجَمِيعِ النَّاسِ لَدَخَلَهُمْ الطَّمَعُ وَأَحَبَّ كُلُّ إنْسَانٍ لِنَفْسِهِ مِنْ كَرَائِمِ الْأَمْوَالِ مَا يَطْلُبُهُ غَيْرُهُ، وَكَانَ ذَلِكَ يُؤَدِّي إلَى الْفِتَنِ.
(٨) اسی طرح جزیہ یا خراج وصول کرنا ارض عنوۃ میں یعنی اس زمین سے جو دشمنوں سے لڑ جھگڑ کر حاصل کی گئی ہو کتنا خراج اور کس قدر جزیہ لیں گے اگر اس چیز کو عام لوگوں کے حوالے کیا جائے گا تو حالات خراب ہو جائیں گے کیونکہ ہر کوئی اپنی مرضی کے مطابق کم زیادہ لینا چاہے گا اس لیے یہاں بھی قضاء قاضی ضروری ہے۔
وَكَذَلِكَ جِبَايَةُ الْجِزْيَةِ وَأَخْذُ الْخَرَاجَاتِ مِنْ أَرَاضِي الْعَنْوَةِ لَوْ جُعِلَتْ إلَى الْعَامَّةِ لَفَسَدَ الْحَالُ فَلَا بُدَّ فِيهَا مِنْ حُکْمِ الْحَاكِمِ.
اسی طرح وہ تمام معاملات جو ان معاملات کے قائم مقام ہیں یعنی جن میں یہ تین سبب پائے جاتے ہوں یا یوں کہئے کہ جہاں یہ تین اصول پائے جاتے ہوں جو بیان کیے گئے، ان تمام معاملات میں بھی قضاء قاضی کی ضرورت پڑے گی جیسے کہ قصاص کا لینا چونکہ قصاص کے لینے میں پہلے قتل کو ثابت کرنا ہو گا جو قصاص کا سبب ہے اور اثبات قتل قاضی کے بس کا کام ہے اس لیے یہاں قضاء قاضی کی ضرورت پڑتی ہے، اسی طرح بہت سارے احکام ہیں کہ مصنف رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں، اگر ان کو ڈھونڈا جائے ان کو تلاش کیا جائے تو کتاب لمبی ہو جائے گی بات بڑھ جائے گی اس لیے اختصاراً اتنا کافی ہے،
وَكَذَلِكَ مَا جَرَى هَذَا الْمَجْرَى كَاسْتِيفَاءِ الْقِصَاصِ، وَكَثِيرٌ مِنْ الْأَحْكَامِ يَطُولُ تَتَبُّعُهَا.
فصل اول میں ان معاملات کا بیان تھا جو قضاء قاضی کے محتاج تھے اب ایسے معاملات کے بارے میں بتلائیں گے جو قضاء قاضی کے محتاج نہیں ہیں جیسے کہ محرمات حرام چیزوں کی حرمت کا فیصلہ کرنا اور وہ بھی ایسی حرام چیزیں جن کی حرمت پر اتفاق ہو ان میں قضاء قاضی کی ضرورت نہیں پڑتی ہے جیسے کہ شراب و سود وغیرہ ہیں یہ تمام ایسی چیزیں ہیں جن میں قضاء قاضی کی چنداں حاجت نہیں، مصنف نے مثال دیتے ہوئے فرمایا کعصیر اذا اشتد کہ جیسے انگور کا رس جب وہ گاڑھا ہو جائے اور اس میں نشہ پیدا ہوجائے، تو اس کی حرمت پر چونکہ اتفاق ہے اس لیے ایسے معاملہ میں قضاء قاضی کی ضرورت نہیں بلکہ بغیر قاضی کے فیصلے کے یہ چیزیں حرام ہیں اسی طرح وہ معاملات جن کی حرمت کے سلسلے میں علماء کے درمیان اختلاف ہے جیسے درندے کی حرمت کا فیصلہ یہاں بھی قضاء قاضی کی ضرورت نہیں، اسی طرح قرض کا لوٹانا،امانتوں کا لوٹانا غصب کردہ چیز کا لوٹانا اور عبادات کے تمام احکام یہ ان تمام معاملات میں مستقل طور پر قضاء قاضی کی ضرورت نہیں پڑتی ہے ہاں البتہ عرض کے طور پر کبھی ان میں قضاء قاضی کی ضرورت پڑ سکتی ہے وہ کیسے اس کا بیان اپنے محل میں آئے گا۔
الْقِسْمُ الثَّانِي: لَا يَحْتَاجُ إلَى حُكْمِ حَاكِمٍ كَتَحْرِيمِ الْمُحَرَّمَاتِ الْمُتَّفَقِ عَلَيْهَا وَالْمُخْتَلَفِ فِيهَا بَيْنَ الْعُلَمَاءِ كَتَحْرِيمِ السِّبَاعِ، وَكَذَلِكَ وَفَاءُ الدُّيُونِ وَرَدُّ الْوَدَائِعِ وَالْغُصُوبِ وَأَحْكَامُ الْعِبَادَاتِ، فَالْمُبَادَرَةُ بِهَا مُتَعَيِّنَةٌ، وَلَا تَفْتَقِرُ إلَى حُكْمِ الْحَاكِمِ اسْتِقْلَالًا، وَأَمَّا بِطَرِيقِ الْعَرْضِ فَيَدْخُلُهَا حُكْمُ الْحَاكِمِ، وَسَيَأْتِي بَيَانُهُ.
No comments:
Post a Comment