Tuesday, July 30, 2024

چ ٤

(فَصْلٌ) :
اور ان معاونین کی تنخواہ جو لوگوں کے مصالح میں تگ و دو کرتے ہیں اور مدعی علیہ کو بلا کے لاتے ہیں اور اس کے علاوہ دیگر حقوق کی پاسداری کرتے ہیں ان کی تنخواہ بیت المال سے نکالی جائے گی اور یہ معانین کی تنخواہ حکم میں قاضیوں کی تنخواہ کی طرح ہے ، مناسب نہیں قاضی کے لیے کہ معاونین کو مسلمانوں کے مال میں سے کوئی چیز دے اور جب بیت المال سے ان کی تنخواہ متعین ہو، ان کو بیت المال سے کفاف مل رہا ہو تو پھر جن قضایا کے سلسلے میں ان کو ادھر ادھر بھیجا جاتا ہے ان قضایا پر ان کو کوئی چیز وصول کرنا جائز نہ ہوگا جس طرح قاضی کے لیے جائز نہیں کہ قضایا پر کوئی پیسہ وغیرہ وصول کرے ہاں اگر ان کو بیت المال سے کوئی چیز نہ ملتی ہو یعنی تنخواہ ان کی بیت المال سے متعین نہ ہو تو پھر قاضی مدعی کو اپنی مہر دے گا تاکہ وہ خود جا کر مدعی علیہ کو مہر دکھا کر بلا کر لائے مجلس قضا میں پس اگر وہ نہ گیا اور نہیں لا سکا اس نے انکار کر دیا خود لانے سے اور پھر قاضی مجبور ہو گیا معاون کو بھیجنے پر تو اس صورت میں قاضی چونکہ معاون کا محتاج ہوا ہے اور اس معاون کو بیت المال سے کچھ بھی نہیں ملتا اس لیے قاضی اس کو اپنے جیب بطور تنخواہ کے دے گا اگر قاضی کے لیے ممکن ہو اور قاضی کو طاقت ہو کہ وہ اپنے جیب سے اسے کچھ دے سکے اگر قاضی عاجز ہو اپنے جیب سے دینے سے تو پھر درست بات اور بہترین وجہ یہ ہے کہ مدعی ہی مستجر ہوگا مدعی علیہ کو حاضر کرنے اور بلا کر لانے میں معاون کےقائم کرنے پر یعنی اس کا مطلب یہ ہوگا جو مدعی ہے وہ بطور مستاجر معاون کو اجرت دے گا کیونکہ معاون مدعی کے لیے ہی کام کر رہا ہے پس مدعی معاون کے ساتھ اتفاق کرے اس اجرت پر جو وہ مناسب سمجھتا ہے ہاں اگر مدعی کے ساتھ مدعی علیہ کا جھگڑا واضح ہو گیا مدعی علیہ بلانے پر بھی نہیں آیا (چاہے معاون بلانے کے لیے گیا تھا یا خود مدعی بلانے گیا تھا) اور اس نے حاضر ہونے سے منع کیا بعد اس کے کہ اس کو بلایا گیا تھا تو اب اس معاون کی اجرت جو اس کو حاضر کرے گا مطلوب ( مدعی علیہ) پر ہوگی، اب یہاں سے مسئلہ یہ ہے کہ اگر معاون اور مدعی کسی اجرت پر متفق نہ ہوئے تھے دراں حالیکہ معاون نے اس کو بلا کر لایا ہے تو اس سلسلے میں قنیہ نامی کتاب میں یہ مسئلہ مذکور ہے کہ صاحب مجلس جس کے لیے قاضی نے لوگوں کا انعقاد کیا ہے،اور لوگوں کو اپنے سامنے بٹھایا ہے،یہ کہ قاضی مدعی سے اس صورت میں پیسے لے گا اس لیے کہ معاون اسی کے لیے عمل کرتا ہے گواہوں کو ترتیب سے بٹھانے کے سلسلے میں اور اس کے علاوہ دیگر کام اسی کے لیے انجام دے رہا ہے لیکن یہ ہے کہ دو رائج دراہم سے زیادہ نہیں وصول کرے گا جو اس زمانے میں رائج ہوں اسی طرح وکلاء کے لیے مسئلہ ہے کہ وہ اجرت لیں گے جن کے لیے وہ کام کرتے ہیں مدعی یا مدعی علیہ سے ہر مجلس کے لیے دو درہموں سے زیادہ نہیں لیں گے یعنی ایک مجلس کی اجرت دو دراہم یا دو سے کم ہونا چاہیے اگر وہ ہر مجلس کے لیے دو سے زیادہ درہم لیں گے تو اس میں حرج عظیم لازم آئے گا اس لیے ہر مجلس کے لیے صرف دو یا دو سے کم دراہم لیں گے اور جو پیدل جاتے ہیں بلانے کے لیے جن کو رجّالہ کہتے ہیں وہ بھی اپنی اجرت لیں گے ان سے جن کے لیے وہ کام کرتے ہیں اور وہ مدعیان ہے لیکن شہر کے اندر میں نصف درہم سے لے کر ایک درہم تک ہی وصول کریں گے چاہے شہر کے کس جگہ بھی جانا پڑے ہاں جب وہ شہر سے باہر نکلیں گے دیگر مضافات کی طرف ان کو جانا ہو یعنی شہر سے زیادہ دور تو پھر وہ ہر فرسخ پر تین یا چار دراہم سے زیادہ نہیں لیں گے چار دراہم تک گنجائش ہے اسی طرح تقویٰ شعار اکابر علماء نے اجرتیں متعین کی ہیں اور یہ تمام مثلی اجرتیں ہے
وَأَرْزَاقُ الْأَعْوَانِ الَّذِينَ يُوَجِّهُهُمْ فِي مَصَالِحِ النَّاسِ وَرَفْعِ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ وَغَيْرِ ذَلِكَ مِنْ حُقُوقِ النَّاسِ يَكُونُ مِنْ بَيْتِ الْمَالِ كَالْحُكْمِ فِي أَرْزَاقِ الْقُضَاةِ، وَلَا يَنْبَغِي لِلْقَاضِي أَنْ يَجْعَلَ لَهُمْ شَيْئًا فِي أَمْوَالِ الْمُسْلِمِينَ، وَإِذَا كَانَ لَهُمْ رِزْقٌ مِنْ بَيْتِ الْمَالِ فَلَا يَجُوزُ لَهُمْ أَخْذُ شَيْءٍ عَلَى الْقَضَايَا الَّتِي يُبْعَثُونَ فِيهَا كَمَا لَا يَجُوزُ لِلْقُضَاةِ أَخْذُ شَيْءٍ، فَإِنْ لَمْ يُصْرَفْ لَهُمْ شَيْءٌ مِنْ بَيْتِ الْمَالِ وَقَّعَ الْقَاضِي لِلطَّالِبِ طَابَعًا يُرْفَعُ بِهِ الْخَصْمُ إلَى مَجْلِسِ الْحُكْمِ، فَإِنْ لَمْ يُرْفَعْ وَاضْطُرَّ إلَى الْأَعْوَانِ فَلْيَجْعَلْ الْقَاضِي لَهُمْ شَيْئًا مِنْ رِزْقِهِ إذَا أَمْكَنَهُ وَقَدَرَ عَلَيْهِ، فَإِنْ عَجَزَ عَنْ ذَلِكَ فَأَحْسَنُ الْوُجُوهِ أَنْ يَكُونَ الطَّالِبُ هُوَ الْمُسْتَأْجَرُ عَلَى النُّهُوضِ فِي إحْضَارِ الْمَطْلُوبِ وَرَفْعِهِ فَيَتَّفِقُ مَعَ الْعَوِينِ عَلَى ذَلِكَ بِمَا يَرَاهُ، إلَّا أَنْ يَتَبَيَّنَ لَهُ لَدَدُ الْمَطْلُوبِ بِالطَّالِبِ، وَأَنَّهُ امْتَنَعَ مِنْ الْحُضُورِ بَعْدَ أَنْ دَعَاهُ، فَإِنَّ أُجْرَةَ الْعَوِينِ الَّذِي يُحْضِرُهُ عَلَى الْمَطْلُوبِ، فَإِنْ لَمْ يَتَّفِقْ الْعَوِينُ وَالْمُدَّعِي عَلَى شَيْءٍ وَأَحْضَرَهُ فَقَدْ ذُكِرَ فِي الْقُنْيَةِ " أَنَّ لِصَاحِبِ الْمَجْلِسِ الَّذِي نَصَّبَهُ الْقَاضِي لِإِجْلَاسِ النَّاسِ وَإِقْعَادِهِمْ بَيْنَ يَدَيْهِ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ الْمُدَّعِي شَيْئًا؛ لِأَنَّهُ يَعْمَلُ لَهُ بِإِقْعَادِ الشُّهُودِ عَلَى التَّرْتِيبِ وَغَيْرِهِ، لَكِنْ لَا يَأْخُذُ أَكْثَرَ مِنْ الدِّرْهَمَيْنِ الْعَدْلِيَّيْنِ الدَّانِقَيْنِ مِنْ الدَّرَاهِمِ الرَّائِجَةِ فِي زَمَانِنَا، وَلِلْوُكَلَاءِ أَنْ يَأْخُذُوا مِمَّنْ يَعْمَلُونَ لَهُ مِنْ الْمُدَّعِينَ وَالْمُدَّعَى عَلَيْهِمْ، وَلَكِنْ لَا يَأْخُذُوا لِكُلِّ مَجْلِسٍ أَكْثَرَ مِنْ دِرْهَمَيْنِ، وَالرَّجَّالَةُ يَأْخُذُونَ أُجُورَهُمْ مِمَّنْ يَعْمَلُونَ لَهُ وَهُمْ الْمُدَّعُونَ، لَكِنَّهُمْ يَأْخُذُونَ فِي الْمِصْرِ مِنْ نِصْفِ دِرْهَمٍ إلَى دِرْهَمٍ، وَإِذَا خَرَجُوا إلَى الرَّسَاتِيقِ لَا يَأْخُذُونَ بِكُلِّ فَرْسَخٍ أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ أَوْ أَرْبَعَةٍ، هَكَذَا وَضَعَهُ الْعُلَمَاءُ الْأَتْقِيَاءُ الْكِبَارُ وَهِيَ أُجُورُ أَمْثَالِهِمْ.
امام سرخسی کی شرح ادب القاضی میں مسئلہ ہے کہ جب قاضی مدعی علیہ کی طرف کسی کو بھیجے اپنی علامت کو لے کر اور وہ علامت اس کے سامنے پیش کی جائے لیکن وہ مدعی علیہ منع کرے آنے سے اور اس پر گواہ بنائے مدعی اور دو گواہوں سے ثابت ہو جائے قاضی کے یہاں کہ اس نے آنے سے انکار کیا ہے تو پھر وہ قاضی دوبارہ اس کی طرف معاون کو بھیجے گا اور اب کے بار اس رجالہ جو بلانے کے لیے جائے گا پیدل اس کی اجرت مدعی علیہ پر لازم ہوگی اب مدعی پر کوئی چیز لازم نہیں ہوگی۔ 
قَالَ فِي شَرْحِ السَّرَخْسِيِّ لِأَدَبِ الْقَاضِي: الْقَاضِي إذَا بَعَثَ إلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ بِعَلَامَةٍ فَعُرِضَتْ عَلَيْهِ فَامْتَنَعَ وَأَشْهَدَ عَلَيْهِ الْمُدَّعِي عَلَى ذَلِكَ وَثَبَتَ ذَلِكَ عِنْدَهُ فَإِنَّهُ يَبْعَثُ إلَيْهِ ثَانِيًا وَيَكُونُ مُؤْنَةُ الرَّجَّالَةِ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ، وَلَا يَكُونُ عَلَى الْمُدَّعِي شَيْءٌ بَعْدَ ذَلِكَ.
مجد الائمہ ترجمانی فرماتے ہیں کہ خلاصہ یہ ہے کہ بلانے کے لیے پیدل جانے والی کی اجرت اولا مدعی پر ہوگی کیونکہ کام تو اس کے لیے کیا جاتا ہے لیکن اگر مدعی علیہ آنے سے انکار کرے تو اب دوسری مرتبہ بجائے مدعی کے مدعی علیہ پر معاون کی اجرت لازم ہوگی، آگے فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ استحسان کے طور پر ہے کہ مدعی علیہ کے ذمے اجرت بطور زجر کے لازم کی گئی ہے ورنہ قیاس کا تقاضہ یہ تھا کہ دونوں حالت میں مدعی پر اجرت لازم ہونی چاہیے کیونکہ دونوں حالتوں میں نفع اسی کو حاصل ہو رہا ہے کام اسی کے لیے کیا جا رہا ہے۔ 
قَالَ مَجْدُ الْأَئِمَّةِ التَّرْجُمَانِيُّ: فَالْحَاصِلُ أَنَّ مُؤْنَةَ الرَّجَّالَةِ عَلَى الْمُدَّعِي فِي الِابْتِدَاءِ، فَإِذَا امْتَنَعَ فَعَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ، وَكَائِنُ هَذَا اسْتِحْسَانٌ مَالَ إلَيْهِ لِلزَّجْرِ، فَإِنَّ الْقِيَاسَ أَنْ يَكُونَ عَلَى الْمُدَّعِي فِي الْحَالَيْنِ لِحُصُولِ النَّفْعِ لَهُ فِي الْحَالَيْنِ.
انہیں لازمی امور میں سے ہے کہ قاضی لوگوں کو اپنے ساتھ سوار ہونا جائز نہ قرار دے مگر کسی حاجت میں یا کسی ظلم کو دور کرنے کے لیے لوگوں کی ضرورت پڑے تو پھر ان کو اپنے ساتھ سوار کرنے میں حرج نہیں ورنہ خواہ مخواہ لوگوں کو اپنے ساتھ سوار نہ کرے لیکن اگر ضرورت ہو اور کسی ظلم کو دور کرنا ہو پس اس صورت میں قاضی کے لیے کوئی حرج نہیں کہ لوگوں کو اپنے ساتھ سوار کرے اس معاملے کے معاینہ کے لیے جس معاملے میں قاضی کے یہاں جھگڑا کیا گیا ہے اور بظاہر کوئی بصورت نہیں اس جھگڑے کو پہچاننے کی مگر یہ کہ خود قاضی جا کر اس کا معائنہ کرے، اس طرح کے مسائل ضرر کے دعوی کے باب میں کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ 
وَمِنْهَا: أَنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يُبِيحَ لِلنَّاسِ الرُّكُوبَ مَعَهُ إلَّا فِي حَاجَةٍ أَوْ رَفْعِ مَظْلِمَةٍ، فَإِنَّهُ لَا بَأْسَ لِلْقَاضِي أَنْ يَرْكَبَ لِيَنْظُرَ إلَى شَيْءٍ مَعَ غَيْرِهِ مِنْ النَّاسِ فِيمَا قَدْ تُشُوجِرَ فِيهِ عِنْدَهُ وَاخْتَلَطَ فِيهِ الْأَمْرُ وَطَالَتْ فِيهِ الْخُصُومَةُ وَلَا يَجِدُ سَبِيلًا إلَى مَعْرِفَتِهِ إلَّا بِمُعَايَنَتِهِ، وَقَدْ يَكْثُرُ هَذَا فِي بَابِ دَعْوَى الضَّرَرِ.
چناں چہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ سوار ہوئے ایک معاملے کے سلسلے میں تاکہ اس میں غور و فکر کریں جا کر پھر ان سے بتایا گیا راستے میں کہ حضرت! حضرت عمر بن خطاب اس سے واقف ہوئے تھے اور اس معاملے میں حکم کر چکے ہیں تو حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ راستے سے ہی واپس لوٹے اور اس معاملے میں غور و فکر نہیں کیا اس سے پتہ چلتا ہے کہ حاکم اس معاملے میں جس میں جھگڑا پڑ گیا ہے اور ضرورت ہے کہ اس معاملے کے لیے قاضی کو معائنہ کرنے کے لیے خود جانا پڑے تو قاضی معائنہ کرنے کے لیے خود جا سکتے ہیں جس طرح کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ معاینہ کرنے کے لیے خود نکلے اگرچہ انہیں راستے سے ہی واپس لوٹنا پڑا۔ 

وَقَدْ رَكِبَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فِي أَمْرٍ لِيَنْظُرَ فِيهِ فَذُكِرَ لَهُ فِي الطَّرِيقِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَقَفَ عَلَيْهِ وَحَكَمَ فِيهِ، فَانْصَرَفَ وَلَمْ يَنْظُرْ فِيهِ.
انہیں لازمی امور میں سے ہے کہ مناسب نہیں قاضی کے لیے کہ بہت زیادہ لوگوں کو اپنے ساتھ داخل کرے یا اپنے ساتھ بہت زیادہ لوگوں کو سوار کرے اور نہ اس شخص کو اپنے ہاں حاضر کرے جس کے حاضر ہونے کی کوئی ضرورت نہیں مگر یہ کہ وہ اہل امانت، خیر خواہ اور صاحب فضل ہوں اور قاضی کے ساتھ بطور معاون کے رہ رہے ہوں تو پھر داخل ہونے میں یا سوار ہونے میں قاضی کے ساتھ کوئی حرج نہیں اور اگر حاجت نہیں اور بغیر حاجت کے وہ قاضی کے ساتھ سوار ہوتے ہو تو پھر اس بیٹھنے والے کا من وہ اپنے آپ کو بڑا سمجھے گا اور بادشاہ کے یہاں اس کا مقام بڑھ جائے گا۔ 
وَمِنْهَا: أَنَّهُ لَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يُكْثِرَ الدُّخَالَ عَلَيْهِ وَالرُّكَابَ مَعَهُ وَلَا مَنْ بِحَضْرَتِهِ فِي غَيْرِ حَاجَةٍ كَانَتْ لَهُمْ إلَّا أَنْ يَكُونُوا أَهْلَ أَمَانَةٍ وَنَصِيحَةٍ وَفَضْلٍ فَلَا بَأْسَ بِذَلِكَ، وَإِنْ كَانُوا عَلَى غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ كَبُرَتْ نَفْسُهُ وَعَظُمَ عِنْدَهُ سُلْطَانُهُ.
اور کافی ہے قاضی کے لیے برے آدمی کا حال پہچاننے کے لیے وہ آدمی بغیر کسی ضرورت اور بغیر کسی ظلم کو دور کرنے بغیر کسی جھگڑے کے رفع دفع کرنے کے قاضی کے س؛ تھ ہولے،بلکہ قاضی پر ضروری و حق ہے کہ ایسے شخص کو اپنا مصاحب ہونے سے روکے اس لیے ایسے لوگ قضاۃ کی مصاحبت اس لیے لازم پکڑتے ہیں کہ وہ حیلہ بازی سے لوگوں کے اموال کو کھا سکیں اس لیے کہ وہ لوگوں کو دکھلاتے پھرتے ہیں کہ ان کی قاضی کے یہاں قدر و منزلت ہے تا کہ لوگ انکا سہارا لے قاضی تک پہنچنے کے لیے اور اس طرح وہ نا حق لوگوں کا مال حاصل کر سکیں اسی وجہ سے کہتے ہیں کہ جو قاضی کے ہاں تین مرتبہ آنا جانا کرے بغیر کسی حاجت کے تو یہ اس شخص کی عدالت میں جرح ہوگی کہ وہ برا اور غیر عادل ہے اور قاضی روکے اس شخص کو اپنی دہلیز پر بیٹھنے سے جو بغیر کسی ضرورت کے قاضی دہلیز پر اپنی مجلس سجاتا ہے اس لیے کہ ان دہلیز نشینوں سے بھی لوگوں کے مال کا کھانا اور ان پر حیلہ کرنا لازم آتا ہے اور قاضی اس شخص کی بیٹھک کی بالکل اجازت نہ دے جو قاضی کی مجالست زیب و زینت کے لیے اختیار کرتا ہے یا احکام قضاء کو سیکھنے کے اختیار کرتا اس لیے کہ یہ بھی حیلہ بازی سے کھانے والوں کا طریقہ ہے تا کہ قضاء کے احکام یاد کر کے لوگوں کو بچنے اور بہانہ بازی کی صورتیں بتائیں گے ہاں البتہ قاضی کے ساتھ بٹھایا جائے گا صرف فقہاء کو اور عادل شخصوں کو جن کے مشورے اور شہادت کے قضاۃ محتاج ہوتے ہیں۔ 

وَيَكْفِي الْقَاضِيَ فِي مَعْرِفَتِهِ قُبْحَ حَالِ الرَّجُلِ أَنْ يَصْحَبَهُ فِي غَيْرِ حَاجَةٍ وَلَا دَفْعِ مَظْلِمَةٍ وَلَا خُصُومَةٍ، وَحَقٌّ عَلَيْهِ أَنْ يَمْنَعَهُ مِنْ ذَلِكَ؛ لِأَنَّهُمْ إنَّمَا يَلْزَمُونَ ذَلِكَ لِاسْتِئْكَالِ أَمْوَالِ النَّاسِ؛ لِأَنَّهُمْ يُرُونَ النَّاسَ أَنَّ لَهُمْ عِنْدَ الْقَاضِي مَنْزِلَةً وَلِهَذَا قَالُوا: مَنْ تَرَدَّدَ إلَى الْقَاضِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فِي غَيْرِ حَاجَةٍ فَذَلِكَ جُرْحَةٌ فِي عَدَالَتِهِ، وَيَمْنَعُ مَنْ يَجْلِسُ فِي دِهْلِيزِهِ لِغَيْرِ حَاجَةٍ؛ لِأَنَّ فِي ذَلِكَ مَأْكَلَةً لِلنَّاسِ وَحِيلَةً عَلَيْهِمْ، وَلَا يُبِيحُ مَجْلِسَهُ لِمَنْ يُرِيدُ أَنْ يَتَزَيَّنَ فِيهِ لِمُجَالَسَتِهِ أَوْ يَتَعَلَّمَ أَحْكَامَهُ، فَإِنَّ ذَلِكَ مِنْ خُلُقِ الْمُسْتَأْكِلِينَ، وَإِنَّمَا يُجَالِسُهُ الْفُقَهَاءُ وَالْعُدُولُ الَّذِينَ يَحْتَاجُ إلَى فِقْهِهِمْ وَشَهَادَتِهِمْ.

اور انہی لازمی احکام میں سے یہ کہ قاضی کسی شخص کے لیے اپنے یہاں قدر و منزلت نہ دکھائے اس طور پر کہ وہ کسی ایک ہی شخص معین کو تزکیہ، جرح، گواہی یا تحقیق کے لیے طلب کرے کیوں کہ اس میں لوگوں کا اعتقاد بگڑ سکتا ہے قاضی کے بارے میں۔ 

وَمِنْهَا: أَنَّهُ لَا يَرَى أَنَّ لِأَحَدٍ عِنْدَهُ مَنْزِلَةً مِثْلَ أَنْ يَدْعُوَ شَخْصًا مُعَيَّنًا لِلتَّزْكِيَةِ وَالتَّجْرِيحِ وَالشَّهَادَةِ وَالْكَشْفِ.

اور انہیں لازمی امور میں سے یہ ہے کہ قاضی لوگوں کے درمیان لوگوں کے لیے اپنے کاموں کو نہ جھکائے اس طور پر کہ جو چاہتا ہے وہ قاضی کے ساتھ کانا پھوسی کر رہا ہے اس لیے کہ اس سے قاضی اپنے اوپر شر عظیم کا دروازہ کھولتا ہے اور اس کا عقیدہ بگڑ جائے گا اہل فضل بری لوگوں کے بارے میں ان باتوں سے جو اھل فضل بری سے متعلق ناحق اس کے کان میں کہیں جائے گی۔
وَمِنْهَا: أَنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يُصْغِيَ بِأُذُنِهِ لِلنَّاسِ فِي النَّاسِ فَيَفْتَحُ عَلَى نَفْسِهِ بِذَلِكَ شَرًّا عَظِيمًا، وَتَفْسُدُ عَقِيدَتُهُ فِي أَهْلِ الْفَضْلِ الْبُرَآءِ مِمَّا قِيلَ فِيهِمْ عِنْدَهُ.
انہیں لازمی امور میں سے یہ بھی ہے کہ مناسب ہے قاضی کے لیے کہ وہ اپنے لیے ایسے شخص کو متعین کرے جو اس کو خبر دے ان باتوں کے بارے میں جو لوگ اس کے احکام، اس کے اخلاق، اس کی سیرت،اس گواہی دینے اور لینے کے سلسلے میں کرتے ہیں اور لوگ جن عیوب یا خوبیوں کے ساتھ قاضی کو متصف کرتے ہیں، ان عیوب و خوبیوں سے قاضی کو با خبر کرے، پس اگر وہ معین شخص قاضی کو کسی ایسی چیز کی خبر دے جو قاضی کے متعلق لوگ کہتے ہیں تو قاضی کو چاہیے اس چیز کی چھان بین کرے اگر لوگ صحیح کہتے ہیں تو اس عیب کو قاضی دور کرے اور اگر غلط کہتے تو قاضی ان لوگوں کی بدگمانی دور کرے،اور اگر کسی خوبی کی خبر دے کس کے متعلق لوگ باتیں کرتے ہیں تو اس خوب میں مزید نکھرنے کی کوشش کی جائے، پس یہ ( مخبر کو متعین کرنا) ایسی چیز ہے جس سے قاضی کے معاملات پختہ ہو جائیں گے اور قاضی کے منصب کو مزید تقویت ملے گی۔ 
وَمِنْهَا: أَنَّهُ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَتَّخِذَ مَنْ يُخْبِرُهُ بِمَا يَقُولُ النَّاسُ فِي أَحْكَامِهِ وَأَخْلَاقِهِ وَسِيرَتِهِ وَشُهُودِهِ، فَإِذَا أَخْبَرَهُ بِشَيْءٍ فَحَصَ عَنْهُ فَإِنَّ فِي ذَلِكَ قُوَّةً عَلَى أَمْرِهِ.
[فَصْل فِيمَا يَتَعَلَّقُ بِمَجْلِسِ الْقَاضِي وَمَسْكَنِهِ]
تیسری فصل ان امور کے بیان میں جو قاضی کی مجلس اور اس کے مسکن کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔ 
الْفَصْلُ الثَّالِثُ: فِيمَا يَتَعَلَّقُ بِمَجْلِسِهِ وَمَسْكَنِهِ۔ 
اور انہی لازمی امور میں سے ہے کہ قاضی کہاں بیٹھے اور رہے گا چناں چہ پہلا امر یہ ہے کہ قاضی اپنی بیٹھک   قبلہ کی رو بٹھائے اس لیے کہ خلفائے راشدین مسجد میں بیٹھتے تھے معاملات کو فیصل کرنے کے لیے اور اس لیے بھی کہ مسجد میں فیصلہ کرنا یہ قاضی سے تہمت کو زیادہ دور کرنے والا ہے  اور لوگوں کے لیے بھی اس میں قاضی کے پاس آنے جانے آسانی ہے، پس زیادہ لائق ہوگا کہ کسی ایک سے والی محجوب نہ رہے یعنی ایسی جگہ اپنی مجلس نہ بٹھائے کہ کو آنے میں دشواری ہو اور بہرحال مشرک تو وہ مسجد میں داخل ہو سکتا ہے اس لیے کہ اس کے اعتقاد میں نجاست ہے اس کے ظاہری بدن پر نجاست نہیں کہ وہ زمین کو لگے اور ناپاک ہو جائے ایسی تو کوئی بات نہیں ہے اس لیے کافر بھی مسجد میں داخل ہو سکتا ہے کیونکہ اس کے ظاہری بدن پر کوئی نجاست نہیں۔ 
وَذَلِكَ أُمُورٌ مِنْهَا: أَنْ يَجْلِسَ لِلْحُكْمِ فِي الْمَسْجِدِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ؛ لِأَنَّ الْخُلَفَاءَ الرَّاشِدِينَ كَانُوا يَجْلِسُونَ فِي الْمَسْجِدِ لِفَصْلِ الْخُصُومَاتِ؛ وَلِأَنَّ الْقَضَاءَ فِي الْمَسْجِدِ أَنْفَى لِلتُّهْمَةِ عَنْ الْقَاضِي وَأَسْهَلُ لِلنَّاسِ لِلدُّخُولِ عَلَيْهِ، فَأَجْدَرُ أَنْ لَا يُحْجَبَ عَنْهُ أَحَدٌ وَأَمَّا الْمُشْرِكُ فَالنَّجَاسَةُ فِي اعْتِقَادِهِ لَا عَلَى ظَاهِرِ بَدَنِهِ فَلَا يُصِيبُ الْأَرْضَ مِنْهُ شَيْءٌ.
اور مسلمان حائضہ عورت! تو ظاہر ہے وہ حالت حیض میں مسجد میں داخل ہونے رکے گی اور وہ قاضی کو خبر دے گی کہ وہ معذور ہے اور جب حائضہ قاضی کو خبر دے تو قاضی مکلف نہیں بنائے گا اس کو مسجد میں داخل ہونے کا البتہ قاضی اس کی طرف باہر نکلے گا یا قاضی مسجد کے دروازے پر آئے گا اور پھر ایک طرف نکل کر یا مسجد کے دروازے پر آ کر عورت کے معاملے میں غور و فکر کرے گا یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ اگر کوئی معاملہ کسی جانور کے سلسلے میں ہو تو ظاہر ہے کہ جانور کو مسجد میں حاضر کرنا ممکن نہیں ہے ہاں البتہ قاضی دعوی اور گواہوں کی گواہی سننے کے لیے مسجد سے باہر نکلے گا  یا مسجد کے دروازے پر دعویٰ اور گواہوں کو سنے گا اور بوقت ضرورت جانور کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرے گا اسی طرح عورت کے معاملے میں بھی اگر عورت حائضہ ہو تو قاضی خود نکل کر عورت کے پاس جائے یا مسجد کے دروازے پر آئے اور عورت کے معاملہ خارج مسجد یا دروازہ پر سماعت کرے گا۔ 
وَالْحَائِضُ مُسْلِمَةٌ فَالظَّاهِرُ أَنَّهَا تَحْتَرِزُ عَنْ دُخُولِ الْمَسْجِدِ فِي حَالَةِ الْحَيْضِ وَتُخْبِرُ أَنَّهَا حَائِضٌ، فَإِذَا أَخْبَرَتْ الْقَاضِيَ لَا يُكَلِّفُهَا دُخُولَ الْمَسْجِدِ، لَكِنْ يَخْرُجُ إلَيْهَا أَوْ يَأْتِي إلَى بَابِ الْمَسْجِدِ فَيَنْظُرُ فِي خُصُومَتِهَا، كَمَا لَوْ وَقَعَتْ الْخُصُومَةُ فِي الدَّابَّةِ فَإِنَّهُ لَا يُمْكِنُ إحْضَارُهَا فِي الْمَسْجِدِ لَكِنْ يَخْرُجُ الْقَاضِي لِسَمَاعِ الدَّعْوَى وَالشَّهَادَةِ مِنْ الشُّهُودِ وَالْإِشَارَةِ إلَيْهَا، فَكَذَا هَذَا.
حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں مناسب ہے قاضی کے لیے کہ وہ جامع مسجد میں فیصلوں کے حل کے لیے بیٹھے اس لیے کہ فریقین میں کبھی غرباء، کبھی شہر والے بھی ہو سکتے ہیں اور جامع مسجد چونکہ مشہور ترین جگہ ہوتی ہے اور جس کی لوکیشن اور جائے وقوع کسی سے پوشیدہ نہیں ہوتی ہے چناں چہ قاضی کا جامع مسجد میں بیٹھنا زیادہ بہتر تو ہے لیکن اس کی بھی گنجائش ہے کہ قاضی کسی گھر میں اپنی بیٹھک سجائے اور لوگوں کو اپنے یہاں داخل ہونے کی اجازت دے اور قاضی اپنے پاس کسی کو داخل ہونے سے نہ روکے اور اپنے ساتھ بٹھائے گا گھر میں اس شخص کو جس کو مسجد میں اپنے ساتھ بٹھاتا تھا اس لیے کہ اگر قاضی گھر میں تنہا بیٹھے گا تو پھر کسی کی طرف مائل ہونے کی تہمت کا خطرہ ہے لوگ کچھ بھی الزام لگا سکتے اور جب قاضی مسجد میں داخل ہو تو کیا  قاضی لوگوں کو سلام کرے گا؟ تحقیق اس بارے میں کہا گیا ہے کہ اگر قاضی مسجد میں داخل ہوتے لوگوں کو سلام کرے تو کوئی حرج نہیں اور اگر سلام کرنا چھوڑ دے تو بھی گنجائش ہے تا کہ قاضی کی ہیبت لوگوں پر برقرار رہے اور اس کا وقار مزید بڑھے جاؤے اسی سے یہ رسم جاری ہوئی ہے کہ والی اور امراء جب داخل ہوتے ہیں تو سلام نہیں کرتے تاکہ ان کی ہیبت باقی رہے اور ان کا وقار زیادہ ہو جائے اسی طرف امام خصاف رحمہ اللہ تعالی کا رجحان ہے 
وَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ (- رَحِمَهُ اللَّهُ -) : يَنْبَغِي لِلْقَاضِي أَنْ يَجْلِسَ لِلْحُكْمِ فِي الْمَسْجِدِ الْجَامِعِ؛ لِأَنَّ فِي الْخُصُومِ الْغُرَبَاءَ وَأَهْلَ الْبَلْدَةِ، وَالْمَسْجِدُ الْجَامِعُ أَشْهَرُ الْمَوَاضِعِ وَلَا يَخْفَى ذَلِكَ عَنْ أَحَدٍ. وَلَا بَأْسَ أَنْ يَجْلِسَ فِي بَيْتِهِ وَيَأْذَنَ لِلنَّاسِ، وَلَا يَمْنَعَ أَحَدًا مِنْ الدُّخُولِ عَلَيْهِ، وَيُجْلِسَ مَعَهُ مَنْ كَانَ يَجْلِسُ مَعَهُ فِي الْمَسْجِدِ؛ لِأَنَّهُ لَوْ جَلَسَ وَحْدَهُ تَتَمَكَّنُ فِيهِ تُهْمَةُ الْمِيلِ. وَإِذَا دَخَلَ الْقَاضِي الْمَسْجِدَ هَلْ يُسَلِّمُ  عَلَى النَّاسِ؟ قِيلَ إنْ سَلَّمَ فَلَا بَأْسَ، وَإِنْ تَرَكَ وَسِعَهُ لِتَبْقَى الْهَيْبَةُ وَتَكْثُرَ الْحِشْمَةُ، وَبِهَذَا جَرَى الرَّسْمُ أَنَّ الْوُلَاةَ وَالْأُمَرَاءَ إذَا دَخَلُوا لَا يُسَلِّمُونَ لِتَبْقَى الْهَيْبَةُ وَتَكْثُرَ الْحِشْمَةُ، وَإِلَى هَذَا مَالَ الْخَصَّاف۔ 
بعض حضرات کا کہنا ہے کہ قاضی پر لازم ہے کہ وہ لوگ کو سلام کرے اس لیے کہ سلام کرنا سنت متبعہ ہے اس لیے قاضی کے لیے گنجائش نہیں کہ سنت کو عمل کے طور پر چھوڑ در چناں چہ سلام چھوڑنے کی بالکل گنجائش نہیں، ہاں البتہ جب قاضی مسجد کے کونے میں بیٹھ جاؤے فیصلے اور حکم کے لیے تو پھر قاضی کسی فریق پر سلام نہیں کرے گا اور نہ فریقین قاضی کو سلام کریں گے محیط برہانی میں یہی مسئلہ مذکور ہے۔ 

وَقِيلَ: عَلَيْهِ أَنْ يُسَلِّمَ وَلَا يَسَعُهُ التَّرْكُ، وَهَكَذَا الْوَالِي وَالْأَمِيرُ إذَا دَخَلَ عَلَيْهِ أَنْ يُسَلِّمَ؛ لِأَنَّهُ سُنَّةٌ، وَلَا يَسَعُهُ تَرْكُ السُّنَّةِ لِلْعَمَلِ فَأَمَّا إذَا جَلَسَ نَاحِيَةً مِنْ الْمَسْجِدِ لِلْفَصْلِ وَالْحُكْمِ لَا يُسَلِّمُ عَلَى الْخُصُومِ وَلَا يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ " اُنْظُرْ الْمُحِيطَ

No comments:

Post a Comment