Friday, July 19, 2024

d 10

امام قرافی رحمۃ اللہ علیہ کی ذکر کردہ بیس انواع میں سے دوسری نوع یعنی جہاں قاضی کا تصرف کسی حکم کو شامل نہیں ہوتا۔ 
چنانچہ امام قرافی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ کسی ذوات و شخصیات میں صفات کا ثابت کرنا یہ قاضی کی جانب سے حکم نہیں ہوگا مثلا قاضی صاحب نے کسی شخص کو عادل قرار دیا تو عدالت ایک صفت ہے ذات کی یا کسی پر جرح کر دی اور مجروح قرار دیا تو مجروح بھی صفت ہے ذات کی یا اسی طرح کسی شخص کے لیے قاضی نے اہلیت امامت کا فیصلہ کیا یہ کسی کے لیے یہ اھلیۃ حضانت کا فیصلہ کیا کہ یہ دودھ پلا سکتی ہے یا اسی طرح کسی کے لیے اہل وصیت کا فیصلہ کہ یہ وصی بن سکتا ہے چنانچہ یہ تمام ایسے تصرفات و تقریرات تھیں جو کسی ذات کے اندر صفت کے طور پر پائے جاتے ہیں اور ذات کے اندر صفات کا ثابت کرنا یہ قاضی کی جانب سے فیصلہ نہیں ہوتا کیونکہ ایسا ممکن ہے کہ ایک شخص کسی قاضی کے پاس عادل ہو لیکن وہی شخص دوسرے قاضی کے پاس غیر عادل اور مجروح ہو، غیر منصف ہو اسی طرح یہ ممکن ہے کوئی ایک شخص کسی قاضی کے پاس امامت کے لائق ہو لیکن دوسرا قاضی اس کو امامت کے لائق نہ سمجھتا ہو چنانچہ ان تمام صفات کا ثبوت جو اس قبیل سے ہوں وہ قاضی کی جانب سے حکم نہیں ہوگا، جب قاضی کی جانب سے حکم نہیں تو دوسرے قاضی کے لیے جائز ہوگا کہ وہ پہلے قاضی کا فیصلہ قبول نہ کرے اور اس شخص کے لیے فسق کا اعتقاد رکھے جس کی عدالت پہلے قاضی کے ظاہر ہوگئ ہہ، لیکن یہ تب ہے کہ دوسرے قاضی کے پاس اس شخص کا فسق ظاہر ہواہو جس کی عدالت پہلے قاضی کے پاس ظاہر ہوئی تھی یا دوسرا قاضی اس مجروح کو قبول کرے اگر دوسرے قاضی کے پاس اس شخص کی عدالت ظاہری ہوئی حالانکہ پہلے قاضی کے پاس اس کی جرح ثابت ہو گئی تھی اسی طرح تمام اس جیسی صفات ان کا ثبوت اگر کوئی قاضی کرتا ہے تو ضروری نہیں کہ دوسرے قاضی کے پاس بھی وہی صفات پائی جائیں انہی صفات کا ثبوتہو، دوسرا قاضی اس پر جرح کر سکتا ہے۔ 

النَّوْعُ الثَّانِي: إثْبَاتُ الصِّفَاتِ فِي الذَّوَاتِ نَحْوُ ثُبُوتِ الْعَدَالَةِ عِنْدَ حَاكِمٍ أَوْ الْجَرْحِ أَوْ أَهْلِيَّةِ الْإِمَامَةِ لِلصَّلَاةِأَوْ أَهْلِيَّةِ الْحَضَانَةِ أَوْ أَهْلِيَّةِ الْوَصِيَّةِ وَنَحْوِ ذَلِكَ، فَجَمِيعُ إثْبَاتِ الصِّفَاتِ مِمَّا هُوَ مِنْ هَذَا النَّوْعِ لَيْسَ حُكْمًا، وَلِغَيْرِهِ مِنْ الْحُكَّامِ أَنْ لَا يَقْبَلَ ذَلِكَ، وَيُعْتَقَدُ فِسْقُهُ إنْ ثَبَتَ سَبَبُهُ عِنْدَهُ، وَيُقْبَلُ ذَلِكَ الْمَجْرُوحُ إنْ ثَبَتَ عِنْدَهُ عَدَالَتُهُ، وَكَذَلِكَ جَمِيعُ هَذِهِ الصِّفَاتِ.
تیسری نوع۔ 
جن چیزوں کا مطالبہ کیا جاتا ہے ان کے اسباب کی مقدار کو ثابت کرنا قاضی کی جانب سے حکم نہیں ہے جیسے کسی تلف شدہ چیز کی قیمت کی مقدار کا ثبوت اپنی ہم مثل چیزوں میں، یعنی ایک شخص نے کوئی چیز تلف کی، پھر قاضی نے اس چیز پر غور کیا تو قاضی صاحب کو معلوم ہوا کہ اس جیسی چیزیں جو مارکیٹ میں ہیں ان کی قیمت دس روپے ہیں چنانچہ اس نے ضمان کے طور پر تلف کرنے والے کو دس روپے کے جرمانہ کا حکم کر دیا، پھر یہی معاملہ دوسرے قاضی کے پاس آیا تو ضروری نہیں دوسرا قاضی غور و فکر کر کے انہی دس روپئے کا حکم دے، اگر دوسرے قاضی کو یہ معلوم ہو کہ اس کی قیمت مارکیٹ میں دس روپے سے زیادہ ہے یا دس روپے سے کم ہے تو وہ اپنے اعتبار سے حکم دے گا گویا مثلی چیزوں میں تلف شدہ چیز کی قیمت کے مقدار کا ثبوت یہ قاضی کی جانب سے حکم نہیں ہوگا، اسی طرح قرض خواہوں پر قرض کا ثابت کرنا یہ قاضی کی جانب سے حکم نہیں ہوگا مثلا ایک شخص نے چند آدمیوں سے قرض لے رکھا ہو جیسے ایک کا قرض پچاس ہزار ہے، دوسرے کا قرض تیس ہزار ہے، تیسرے کا قرض بیس ہزار ہے، تو قاضی نے ان غرماء کے لیے حصہ مقرر کیا اس مقروض سے پھر دوسرے قاضی کے پاس یہی معاملہ آیا تو ضروری نہیں کہ دوسرا قاضی بھی یہی فیصلہ کرے بلکہ وہ بھی اپنے اعتبار سے غور و فکر کرے گا اور جس کے لیے جو چیز مناسب سمجھے گا اسی کے اعتبار سے فیصلہ کرے گا گویا قرض خواہوں پر دیون کا اثبات کرنا کہ کس قرض خواہ کو کتنا اور دوسرے کو کتنا یہ قاضی کی جانب سے حکم نہیں ہوگا، اسی طرح بیویوں اور رشتہ دار ( جن کا نفقہ ذمہ میں ہو)کے لیے نفقہ کا ثبوت یہ بھی قاضی کی جانب سے حکم نہیں ہوگا اس لیے ممکن ہے کہ پہلا قاضی بیوی کے لیے تین ہزار، رشت داروں کے لیے تین ہزار نفقہ کا حکم دے اور پھر دوسرا قاضی دو دو ہزار ہی کا فیصلہ کرے یعنی پہلے قاضی نے زیادہ نفقہ دینے کا حکم دیا تھا حالانکہ یہ سب اس سے کم کے حقدار ہیں تو دوسرا قاضی دو دو ہزار نفقے کا حکم دے سکتا ہے، یا پہلے قاضی نے جو تین تین ہزار کا حکم دیا ہے وہ کم ہو اور دوسرا قاضی چار چار ہزار کا حکم دے۔اسی طرح اعیان یعنی چیزوں کے جو منافع ہوتے ہیں ان میں اجرت مثل کا ثبوت ان چیزوں میں بھی قاضی کا فیصلہ حکم نہیں ہوتا ہے ممکن ہے پہلے قاضی کی رائے کچھ اور ہو اور دوسرے قاضی کی رائے کچھ اور بنتی ہو تو وہ اپنے اعتبار سے اجرت طے کر سکتا ہے

النَّوْعُ الثَّالِثُ: ثُبُوتُ مِقْدَارِ أَسْبَابِ الْمُطَالَبَاتِ، نَحْوُ ثُبُوتِ مِقْدَارِ قِيمَةِ الْمُتْلَفِ فِي الْمِثْلِيَّاتِ وَإِثْبَاتِ الدُّيُونِ عَلَى الْغُرَمَاءِ وَإِثْبَاتِ النَّفَقَاتِ لِلْأَقَارِبِ وَالزَّوْجَاتِ وَإِثْبَاتِ أُجْرَةِ الْمِثْلِ فِي مَنَافِعِ الْأَعْيَانِ وَنَحْوِهِ.

پس بے شک قاضی کا ان تمام اسباب کے لیے کسی چیز کو ثابت کرنا وہ حکم نہیں ہوگا اور اسی لیے دوسرے قاضی کے لیے جائز ہے ، اور اس کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ان اجرت اور نفقات اور ان جیسے اسباب کی مقدار کو بدل دے جو اسباب مطالبے کا تقاضہ کرنے والی ہیں
فَإِنَّ إثْبَاتَ الْحَاكِمِ لِجَمِيعِ هَذِهِ الْأَسْبَابِ لَيْسَ حُكْمًا، وَلِغَيْرِهِ مِنْ الْحُكَّامِ أَنْ يُغَيِّرَ مِقْدَارَ تِلْكَ الْأُجْرَةِ وَتِلْكَ النَّفَقَةِ وَغَيْرِهَا مِنْ الْأَسْبَابِ الْمُقْتَضِيَةِ لِلْمُطَالَبَةِ.

چوتھی نوع۔ کسی حق کے لیے واجب کرنے والے اسباب کے ثبوت کے لیے واجب کرنے والی حجتوں کا ثبوت ان میں قاضی کا فیصلہ حکم نہیں ہوتا یعنی کسی حق کے لیے ان اسباب کو ثابت کرنا جو اس حق کو واجب کرتی ہوں اور ان اسباب موجبہ للاستحقاق کو ثابت کرنا ایسے دلائل سے جن سے وہ اسباب واجب ہوں جن سے وہ حق ثابت ہوتا ہو، یا یوں کہئے کہ دلائل سے اسباب ثابت کرنا اور اسباب سے حق، بالفاظ دیگر حق، اسباب سے ثابت ہوگا اور اسباب دلائل سے ثابت ہوں گے۔ 
یہاں تین چیزیں جمع ہو گئیں دلائل اسباب اور حق اس کو اس مثال سے سمجھیے کہ والدین کے لیے بیٹے کا ثبوت نکاح سے ہوگا الولد للفراش وللعاہر الحجر، کے تحت تو بچہ یہ حق ہے اور یہ حق ثابت ہوگا اسباب سے چنانچہ اس بچے کی پیدائش کا بذریعہ والدین نکاح ہے اور یہ نکاح ثابت ہوگا دلائل و بینہ سے یعنی جب نکاح پر گواہ قائم ہوں گے تو نکاح ثابت ہوگا گواہ کے ذریعے سے اور جب گواہوں کے ذریعے نکاح ثابت ہوا تو نکاح کے بعد بچے کا ثبوت بھی الولد للفراش کے تحت ہوگا اسی کو مصنف رحمتہ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا کہ حق کو واجب کرنے والے اسباب کے ثبوت کے لیے واجب کرنے والے دلائل کا ثابت کرنا اس کے لیے قاضی کا فیصلہ، قاضی کا تصرف حکم نہیں ہوگا بلکہ ممکن ہے کہ دوسرے قاضی کے پاس دوسرے دلائل ہوں ثابت کرنے کے لیے یا دوسرا طریقہ ہو ثابت کرنے کے لیے اس کی مثال دیتے ہوئے مصنف رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ جیسے حاکم کے پاس اس شخص کے لیے قسم کا کھانا ثابت ہو گیا جس شخص پر قسم متعین ہو گئی یعنی مدعا علیہ، منکر اسی طرح گواہ کے قائم کرنے کا ثبوت ہو گیا اس شخص کے لیے جس پر گواہ کا قائم کرنا ضروری ہو اسی طرح فیصلے کا ثبوت فریقین میں اور اس کے علاوہ جتنے بھی معاملات ہیں چنانچہ یہ ایسے دلائل ہیں جو ایسے اسباب کے ثبوت کو واجب کرتی ہیں جو اسباب حق کو ثابت کرتی ہے حق کو واجب کرتی ہے مسببات کے لیے، کسی شخص پر گواہ ضروری تھے وہ گواہ قائم نہ کر سکا تو مدعی علیہ سے قسم لی جائے گی اور جب اس سے قسم لی گئی تو گویا یہ قسم اب دلیل ہے کہ اس مدعا علیہ کے لیے حق کو ثابت کیا جائے کیونکہ سبب پایا گیا وہ ہے قسم چنانچہ یہاں تین چیزیں ہیں جنہیں یاد رکھنا ہوگا ایک دلیل ہے دلیل کہتے ہیں جسے ادلۂ اربعہ، قران سنت اجماع اور قیاس اور یہ دلائل عام ہے جہاں بھی یہ پائی جائیں گی تو ان کی وجہ سے ان کے اوپر حکم بھی مرتب ہوگا دوسری چیز حجت ہے حجت خاص ہے وہ کسی فریق یا کسی جھگڑے یا معاملہ کے ساتھ خاص ہوتی ہے، تیسرا ہے سبب، سبب الگ چیز ہے اگرچہ ان تینوں کو کبھی کبھی ایک ہی جگہ استعمال کیا جاتا ہے اور کبھی کبھی ایک کو دوسرے کی جگہ استعمال کیا جاتا ہے، سبب جیسے کہ نماز کے لیے وقت سبب ہے سبب پایا گیا تو نماز کا وجوب انسان کی طرف متوجہ ہوتا ہے آ گے فرماتے ہیں کہ لازم نہیں آتا ہے کہ جو چیز حاکم و قاضی کے یہاں ثابت ہوئی ہو کہ وہ حکم ہو ہر ایک کے لیے بلکہ دوسرے قاضی کے لیے جائز ہے کہ وہ اس جیسے معاملے میں جب دوبارہ آئے تو غور و فکر کرے پھر اگر درست معلوم ہوتا ہو اور اسے لگ رہا ہو کہ یہاں ایسے دلائل پائے جا رہے ہیں جن کی وجہ سے سبب پایا جا رہا ہے اور پھر اس سبب کے ذریعے سے حق ثابت ہو رہا ہے تو وہ فیصلے کو برقرار رکھے گا ورنہ فیصلے کو باطل قرار دے گا گویا دوسرے قاضی کے غور و فکر پہ کسی چیز کو باطل قرار دے گا کسی چیز کو باطل قرار نہ دے گا بلکہ اگر وہ اس میں سے کسی خلل پر مطلع ہو تو وہ اس خلل کے رفع دفع کے لیے اس کا پیچھا کرے گا اس خلل کو دور کرنے کی کوشش کرے گا اور وہ سابق ثبوت اس دوسرے قاضی کے لیے مانع نہ ہوگا کہ ان حجتوں میں خلل کو دور کرے بلکہ دوسرے قاضی کے لیے گنجائش ہے اگر اسے کوئی خلل واقع نظر آ رہا ہے تو وہ ان حجتوں سے اس خلل کو دور کرے گا
النَّوْعُ الرَّابِعُ: إثْبَاتُ الْحِجَاجِ الْمُوجِبَةِ لِثُبُوتِ الْأَسْبَابِ الْمُوجِبَةِ لِلِاسْتِحْقَاقِ، نَحْوُ كَوْنِ الْحَاكِمِ يَثْبُتُ عِنْدَهُ التَّحْلِيفُ مِمَّنْ تَعَيَّنَ عَلَيْهِ الْحَلْفُ وَثُبُوتُ إقَامَةِ الْبَيِّنَاتِ مِمَّنْ أَقَامَهَا، وَثُبُوتُ الْإِقْرَارَاتِ مِنْ الْخُصُومِ وَنَحْوُ ذَلِكَ، فَإِنَّ هَذِهِ حِجَاجٌ تُوجِبُ ثُبُوتَ أَسْبَابٍ مُوجِبَةٍ لِاسْتِحْقَاقِ مُسَبَّبَاتِهَا، وَلَا يَلْزَمُ مِنْ كَوْنِ الْحَاكِمِ أَثْبَتَهَا أَنْ يَكُونَ حُكْمًا، بَلْ لِغَيْرِهِ أَنْ يَنْظُرَ فِي ذَلِكَ فَيُبْطِلُ أَوْ لَا يُبْطِلُ، بَلْ إذَا اطَّلَعَ فِيهَا عَلَى خَلَلٍ تَعَقَّبَهُ وَلَا يَكُونُ ذَلِكَ الْإِثْبَاتُ السَّابِقُ مَانِعًا مِنْ تَعَقُّبِ الْخَلَلِ فِي تِلْكَ الْحِجَاجِ.

پانچویں نوع۔ 
شرعی احکام کے اسباب کو ثابت کرنا یہ بھی قاضی کے جانب سے حکم نہیں ہوگا بلکہ دوسرے قاضی کے لیے گنجائش ہے کہ وہ غور و فکر کر کے احکام شریعہ کے لیے کوئی دوسرا سبب ثابت کرے مثلا زوال کا وقت پہلے قاضی نے متعین کیا دوسرے قاضی کو محسوس ہوا کہ پہلے قاضی نے غلطی کی ہے، زوال کا درست وقت یہ ہے تو دوسرا قاضی دوسرے وقت کو متعین کرے، اسی طرح رمضان کا چاند دیکھنا کہ پہلے قاضی نے رویت ہلال کا فیصلہ کیا تو ضروری نہیں کہ دوسرا قاضی بھی رؤیت ہلال کا فیصلہ کرے، اسی طرح شوال کا چاند یا ذوالحجہ کا چاند جن پر صوم یا فطر کا حکم مرتب ہوتا ہے یا قربانی کرنے کا حکم مرتب ہوتا ہے یا اس جیسی عبادات جن کے ساتھ متعلق ہے ان احکام شریعت کا سبب ثابت کرنے کے لیے قاضی کا جو فیصلہ ہوگا وہ حکم نہیں ہوگا بلکہ محض ایک فیصلہ ہوگا دوسرے قاضی ان میں غور و فکر کر کے دوسرا سبب متعین کر سکتا ہے چنانچہ ان تمام عبادات کے سبب کو ثابت کرنا یہ حکم نہیں ہوگا بلکہ وہ صفات کا اثبات ہوگا قاضی کے لیے گنجائش ہے کہ وہ رمضان کا روزہ نہ رکھے جبکہ شافعی قاضی نے رمضان کے روزے کا فیصلہ کیا ہو ایک گواہ کے ذریعے کیونکہ احناف کے نزدیک مسئلہ یہ ہے کہ اگر مطلع صاف ہو تو پھر جمع غفیر کی شہادت درکار ہے ایک دو گواہوں سے کام نہیں چلے گا جبکہ شوافع حضرات کے نزدیک چاہے مطلع صاف ہو یا مطلع ابرالود ہو ایک دو آدمی گواہی دیں چاند کی تو رمضان کے روزے کا فیصلہ کیا جائے گا اس لیے اگر شافعی قاضی نے مطلع صاف ہونے کے باوجود ایک آدمی کی گواہی سے حکم دیا رمضان کے روزے کا تو ضروری نہیں کہ حنفی قاضی بھی حکم دے کیونکہ حنفی قاضی کے نزدیک تو جم غفیر کی گواہی چاہے اور یہاں تو ایک آدمی نے گواہی دی اس لیے حنفی قاضی رمضان کے روزے کا حکم نہ دے گا کیونکہ حنفی قاضی کے یہاں سبب ہی پایا نہ گیا چنانچہ ایک گواہ کے ذریعے رمضان کے روزے کا فیصلہ کرنا جب کہ آسمان ابر آلود نہ ہو جیسا کہ شافعی قاضی کے نزدیک، تو یہ حکم نہ ہوگا بلکہ یہ صرف سبب کا اثبات ہوگا تو جس کے نزدیک وہ سبب ہے وہ روزہ رکھے اس کے روزہ رکھنے سے لازم نہیں آتا کہ اس پر حنفی قاضی بھی وہی حکم مرتب کرے۔ 
 النَّوْعُ الْخَامِسُ: إثْبَاتُ أَسْبَابِ الْأَحْكَامِ الشَّرْعِيَّةِ نَحْوُ الزَّوَالِ وَرُؤْيَةِ الْهِلَالِ فِي رَمَضَانَ وَشَوَّالٍ وَذِي الْحِجَّةِ فِيمَا يَتَرَتَّبُ عَلَيْهِ الصَّوْمُ أَوْ وُجُوبُ الْفِطْرِ أَوْ فِعْلُ النُّسُكِ وَنَحْوُ ذَلِكَ، فَجَمِيعُ إثْبَاتِ ذَلِكَ لَيْسَ بِحُكْمٍ بَلْ هُوَ إثْبَاتُ الصِّفَاتِ، وَلِلْحَنَفِيِّ أَنْ لَا يَصُومَ فِي رَمَضَانَ إذَا أَثْبَتَهُ الشَّافِعِيُّ بِوَاحِدٍ وَلَمْ يَكُنْ غَيْمٌ؛ لِأَنَّهُ لَيْسَ بِحُكْمٍ، وَإِنَّمَا هُوَ إثْبَاتُ سَبَبٍ، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ ذَلِكَ عِنْدَهُ سَبَبًا فَيَلْزَمُهُ أَنْ يُرَتِّبَ عَلَيْهِ حُكْمًا.

چھٹی نوع۔ 
حکام کا تصرف( حکم)عبادات اور اس کے علاوہ دوسری چیزوں میں یعنی بضع کی حرمت یا حلت،پانی کی پاکی و عدم پاکی،اعیان کی تطہیر و عدم تطہیر میں فتوے کی حیثیت رکھتا ہے نہ کہ حکم کی حیثیت، یعنی جتنی بھی عبادات ہیں ان میں جو قاضی صاحب کا حکم ہوگا وہ فتوے کی حیثیت سے ہوگا وہ قاضی صاحب کا حکم نہیں ہوگا یہ تمام چیزیں جو قاضی سے پائی جائیں گی تو یہ فتوے کی حیثیت رکھتی ہے یہ حکم نہیں ہوگا بلکہ جو اعتقاد رکھتا ہو ان میں اس بات کا کہ فتویٰ دے اس کے بر خلاف جو پہلے قاضی نے دیا ہے یا امام اعظم نے دیا ہے تو وہ دے سکتا ہے اسے گنجائش ہے اسی طرح امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اس میں بھی قاضی کا فیصلہ وہ فتوے کی مانند ہے قضاء کی مانند نہیں ہے چنانچہ دوسرا قاضی کسی چیز کو منکر یا کسی چیز کو معروف سمجھ سکتا ہے جبکہ پہلا قاضی اس کے خلاف اس کو سمجھتا ہو پس جو شخص ایسا نہ سمجھتا جو پہلا سمجھتا ہے تو وہ وہ کام نہ کرے ہاں جب امام کی جانب سے انکار کے لیے حکم آ جائے اور اس سے یہ ثابت ہو جائے کہ امام کی مخالفت شقاق کا سبب ہوگی تو پھر اس امام کی اطاعت اس چیز میں ضروری ہے یعنی اس عبارت میں یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ ایک قاضی کا حکم عبادات میں یا پانی کی پاکی اور عدم پاکی یا بضع کی حلت اور حرمت یعنی اس سے فائدہ اٹھانا اور فائدہ نہ اٹھانے کے سلسلے میں حلت و حرمت کا جو منجانب قاضی فیصلہ ہوگا وہ حکم نہیں ہوگا بلکہ فتوی ہوگا دوسرے قاضی کے لیے گنجائش ہے کہ وہ اس میں دوسرا حکم دے پہلے قاضی کے برخلاف لیکن یہ تب ہے جب امیر شریعت یا امام وقت نے روک نہ لگا رکھی ہو کہ قاضی کی کوئی مخالفت نہ کرے اگر امیر شریعت کی طرف سے حکم آیا ہو کہ جو پہلے قاضی نے حکم دیا ہے بس وہی حکم ہوگا تو پھر دوسرے قاضی پر بھی وہ لازم ہو جائے گاالبتہ ہاں قاضی نے جو فیصلہ کیا ہے امیر شریعت اور امام وقت اس کا پابند نہ ہوگا بلکہ وہ اس کے برخلاف عمل کر سکتا ہے اگر اس کا اعتقاد ہو اس کے برخلاف جو پہلے قاضی نے حکم دیا ہے مگر وہ بھی تب کہ حاکم بھی فتنہ کا خوف کھاتا ہو سمجھتا ہو کہ فتنہ ہو سکتا ہے تو شریعت پھر امام وقت کو بھی اس چیز سے روکتی ہے۔ 
النَّوْعُ السَّادِسُ: مِنْ تَصَرُّفَاتِ الْحُكَّامِ الْفَتَاوَى فِي الْعِبَادَاتِ وَغَيْرِهَا مِنْ تَحْرِيمِ الْأَبْضَاعِ وَإِبَاحَةِ الِانْتِفَاعِ وَطَهَارَةِ الْمِيَاهِ وَنَجَاسَةِ الْأَعْيَانِ، فَلَيْسَ هَذَا بِحُكْمٍ بَلْ لِمَا يُعْتَقَدُ ذَلِكَ أَنْ يُفْتِيَ بِخِلَافِ مَا أَفْتَى بِهِ الْحَاكِمُ أَوْ الْإِمَامُ الْأَعْظَمُ، وَكَذَلِكَ إذَا أَمَرُوا بِمَعْرُوفٍ أَوْ نَهَوْا عَنْ مُنْكَرٍ وَهُوَ يَعْتَقِدُهُ مُنْكَرًا أَوْ مَعْرُوفًا، فَلِمَنْ لَا يَعْتَقِدُ ذَلِكَ أَنْ لَا يَفْعَلَ مِثْلَ فِعْلِهِمْ إلَّا أَنْ يَدْعُوَهُ الْإِمَامُ لِلْإِنْكَارِ وَتَكُونُ مُخَالَفَتُهُ شِقَاقًا فَتَجِبُ الطَّاعَةُ لِذَلِكَ.
وَأَمَّا الْحَاكِمُ فَلَا يُسَاعِدُهُ عَلَى مَا يَعْتَقِدُ نَحْوَ خِلَافِ مَا هُوَ عَلَيْهِ إلَّا أَنْ يَخْشَى فِتْنَةً نَهَى الشَّرْعُ عَنْ الْمُسَامَحَةِ فِيهَا.

ساتویں نوع۔ 
قاضیوں سے صادر ہونے والے احکام کی تنفیذ ان معاملات میں جن میں حکم گزر گیا ہے غیر منفذ کی طرف سے ہوگا، مثلا قاضی ثانی اس طرح کہے کہ میرے پاس یہ ثابت ہوا کہ قاضی اول کے پاس یہ معاملہ اس طرح ثابت ہوا ہے تو پہلے قاضی کے پاس جو معاملہ ثابت ہوا ہے وہ حکم نہیں ہے پہلے قاضی کا، اور نہ دوسرے قاضی کا یہ کہنا کہ فلاں کے پاس یہ ثابت ہوا ہے،حکم ہوگا،اس لیے یہ قاضی اس میں غور و فکر کر کے حکم دے سکتا ہے کیونکہ پہلے قاضی نے جو حکم نافذ کیا، اب وہی معاملہ قاضی ثانی کے پاس آیا اور اس نے غور و فکر کے بعد کہا کہ فلاں کے پاس معاملہ یوں ثابت ہوا ہے، تو قاضی ثانی کا یہ ککہنا ہرگز حکم نہ ہوگا، پہلے قاضی منفذ کی طرف سے، 

النَّوْعُ السَّابِعُ: تَنْفِيذُ الْأَحْكَامِ الصَّادِرَةِ عَنْ الْحُكَّامِ فِيمَا تَقَدَّمَ الْحُكْمُ فِيهِ مِنْ غَيْرِ الْمُنَفِّذِ بِأَنْ يَقُولَ: ثَبَتَ عِنْدِي أَنَّهُ ثَبَتَ عِنْدَ فُلَانٍ مِنْ الْحُكَّامِ كَذَا، فَهَذَا لَيْسَ بِحُكْمٍ مِنْ الْمُنَفِّذِ أَلْبَتَّةَ.

اسی طرح جب قاضی ثانی کہے کہ میرے پاس یہ بات ثابت ہوئی کہ یہ معاملہ فلاں قاضی کے پاس یا فلاں قاضی نے اس معاملے میں یہ حکم دیا ہے تو فلاں قاضی کی جانب سے جو حکم ہے وہ حکم نہیں ہوگا بلکہ جب وہ حکم نہیں تو قاضی ثانی اگر اعتقاد رکھتا ہو کہ پہلے قاضی کا حکم خلاف اجماع ہے تو دوسرے قاضی کے لیے جائز و صحیح ہوگا کہ دوسرا قاضی کہے کہ فلاں کے پاس معاملہ اس طور پر ثابت ہوا ہے، ان دلائل سے ثابت ہوا ہے اور یہ قاضی ثانی کا یہ کہنا حکم بھی نہ ہوگا، اس لیے کہ تصرف فاسد اور تصرف حرام وہ قاضی کے پاس ثابت ہوتا ہے اس لیے تاکہ اس پر پہلے مخطی قاضی کی تأدیب کی جائے یا اس کو معزول کیا جائے جس نے اس میں غلط فیصلہ کیا ہے۔
 
وَكَذَلِكَ إذَا قَالَ: ثَبَتَ عِنْدِي أَنَّ فُلَانًا حَكَمَ بِكَذَا فَلَيْسَ حُكْمًا مِنْ هَذَا الْمُثْبِتِ، بَلْ لَوْ اعْتَقَدَ أَنَّ ذَلِكَ الْحُكْمَ عَلَى خِلَافِ الْإِجْمَاعِ صَحَّ مِنْهُ أَنْ يَقُولَ: ثَبَتَ عِنْدِي أَنَّهُ ثَبَتَ عِنْدَ فُلَانٍ كَذَا وَكَذَا؛ لِأَنَّ التَّصَرُّفَ الْفَاسِدَ وَالْحَرَامَ قَدْ ثَبَتَ عِنْدَ الْحَاكِمِ لِيُرَتََبَ عَلَيْهِ تَأْدِيبُ ذَلِكَ الْحَاكِمِ أَوْ عَزْلُهُ.

اس جگہ مصنف رحمۃ اللہ تعالی علیہ تنبیہ کرنا چاہتے ہیں کہ ہر اندراج بینہ کے بعد یعنی ہر معاملہ بینہ سے ثابت ہونے کے بعد اندراج وہ غائب کے لیے، بچے کے لیے حاضر کے لیے، ہر ایک کے لیے حجت کی امید کو متضمن ہوتا ہے یعنی ہر اندراج حجت کی امید کو شامل ہوتا ہے غائبین کے لیے بچوں کے لیے حاضرین کے لیے بینہ کے بعد بھی تو ثانی کے لیے جائز ہوگا کہ وہ اس اندراج کا تعقب کرے ان دلائل کو دوبارہ کھنگالے اور دیکھے جیسا کہ اس پر واجب ہے، برخلاف جو اندراجات مطلقہ ہوں یعنی جن اندراج کے بارے میں یہ واضح ہو کہ اب انہیں نہیں دیکھا جائے گا، تو ان اندراج کے علاوہ جتنے بھی اندراج ہیں ان کو دوبارہ سے دیکھا جائے گا ان معاملات کو دوبارہ چھان بین کی جائے گی۔ 
(تَنْبِيهٌ) :
كُلُّ تَسْجِيلٍ يَتَضَمَّنُ إرْجَاءَ الْحُجَّةِ لِغَائِبٍ أَوْ لِصَغِيرٍ أَوْ حَاضِرٍ بَعْدَ بَيِّنَتِهِ فَلِلْقَاضِي الثَّانِي أَنْ يَتَعَقَّبَهُ بِمَا يَجِبُ بِخِلَافِ التَّسْجِيلَاتِ الْمُطْلَقَةِ.

No comments:

Post a Comment