Friday, July 19, 2024

d 3

دوسرا مسئلہ ایک انسان کا دوسرے انسان پر کوئی حق تھا لیکن اس نے اپنے حق کا مطالبہ کئی سالوں تک نہیں کیا تو بعض حضرات کی رائے ہے کہ اگر کافی وقت تک اپنے حق کا مطالبہ نہ کرے تو وہ حق ساقط ہو جائے گا،اب اگر کسی قاضی نے اس رائے پر فیصلہ کر دیا اور اس کے حق کو مردود کر دیا، اس استحقاق کو باطل قرار دیا جو کسی دوسرے شخص پر تھا پھر یہی فیصلہ کسی حنفی قاضی کے پاس آیا تو حنفی قاضی پر ضروری ہے کہ وہ اس فیصلے کو رد کرے اور اسے توڑ دے۔

 رَجُلٌ لَهُ حَقٌّ عَلَى إنْسَانٍ لَمْ يُطَالِبْهُ بِهِ سِنِينَ فَقَضَى قَاضٍ بِبُطْلَانِ حَقِّهِ بِتَأْخِيرِهِ الْمُطَالَبَةَ، فَرَفَعَ قَضَاءَهُ إلَى حَنَفِيٍّ أَبْطَلَهُ.

تیسرا مسئلہ ایک شخص نے کسی شخص کو قتل کر دیا پھر مقتول کے وارثین چونکہ قصاص کے درپے تھے تو اسی درمیان مقتول کے وارثین میں سے یا مقتول کے اولیاء میں سے ایک عورت نے قصاص معاف کر دیا اور جب قصاص اولیاء میں سے کوئی ایک شخص بھی معاف کرے تو سارے اشخاص سے معاف ہو جاتا ہے اب قاتل کو قصاصاً قتل نہیں کیا جائے گا اب جب کہ عورت نے قاتل سے قصاص کو معاف کیا پھر یہ فیصلہ قاضی کے پاس گیا اور قاضی نے عورت کی اس معافی کو رد کر دیا یہ سمجھ کر کہ عورت معاف نہیں کر سکتی ہے، عورت کو معافی کا اختیار نہیں ہے اور مقتول کے مذکر اولیاءیعنی مردوں کے لیے قصاص کو لکھ دیا، پھر یہ فیصلہ حنفی قاضی کے پاس آئے تو حنفی قاضی پر لازم و ضروری ہے کہ وہ قاضی اول کے اس فیصلے کو رد کرے۔

 امْرَأَةٌ عَفَتْ عَنْ دَمِ الْعَمْدِ فَأَبْطَلَ الْقَاضِي عَفْوَهَا وَقَضَى بِالْقَوَدِ لِوَرَثَتِهَا مِنْ الرِّجَالِ بِاعْتِبَارِ أَنَّهُ لَا عَفْوَ لِلنِّسَاءِ، فَإِنَّ الْقَاضِيَ الثَّانِيَ يُبْطِلُهُ.
چوتھا مسئلہ، ایک عورت نے شوہر کی اجازت کے بغیر شوہر کی مرضی کے بغیر اپنی زندگی میں کسی شخص کے لیے دین کا اقرار کیا،مال میں وصیت بھی کی کسی شخص کے لیے اسی طرح جو عورت کے پاس غلام تھا اسے بھی آزاد کر دیا پھر شوہر میاں کو غصہ آیا وہ قاضی صاحب کے پاس گیا کہ میری بیوی نے میری مرضی کے خلاف اپنے مال میں کسی شخص کے لیے دین کا اقرار کیا اور وصیت بھی کی دوسرے شخص کے لیے اور جو بچا کچا غلام تھا اسے بھی آزاد کر دیا اور قاضی نے عورت کے اس تصرف کو باطل قرار دیا اور شوہر کے حق میں فیصلہ لکھ دیا پھر یہ فیصلہ قاضی حنفی کے پاس آیا دوسرے قاضی کے پاس آیا تو قاضی پر لازم و ضروری ہے کہ وہ قاضی اول کے اس فیصلے کو جو اس نے عورت کے تصرف کو باطل قرار دیا ہے اس کو رد کر دے اور اسے باطل قرار دے کیونکہ عورت نے اپنے مال میں تصرف کیا ہے اور اپنی زندگی میں کیا ہے اور عورت اپنے مال کی مالک ہے جس طرح مرد اپنے مال کا مالک ہوتا ہے اپنی مرضی سے جو تصرف کرنا چاہے وہ کر سکتی ہے۔ 

امْرَأَةٌ أَقَرَّتْ بِدَيْنٍ وَأَوْصَتْ بِوَصِيَّةٍ وَأَعْتَقَتْ عَبْدَهَا بِغَيْرِ رِضَا زَوْجِهَا فَأَبْطَلَ الْقَاضِي تَصَرُّفَهَا، فَإِذَا رُفِعَ إلَى قَاضٍ آخَرَ أَبْطَلَهُ

پانچواں مسئلہ۔ عورت کا نکاح ہوا شوہر نے اسے نصف مہر دے دیا عورت نے اس نصف مہر کا کچھ سامان وغیرہ خریدا پھر دخول سے پہلے اس عورت کو طلاق ہوئی اب یہ فیصلہ کسی قاضی کے پاس چلا گیا قاضی صاحب نے عورت کے بارے میں فیصلہ لکھا کہ عورت شوہر میاں کو سارا سامان لوٹائے تو یہ فیصلہ جب قاضی ثانی کے پاس گیا تو قاضی ثانی پر لازم و ضروری ہے کہ قاضی اول کے فیصلے کو رد کرے اس لیے کہ اول نے جو فیصلہ کیا ہے کہ عورت آدھے سامان کو بھی جو دئے گئے آدھے مہر سے خریدا گیا ہے وہ شوہر کو لوٹائے یہ فیصلہ غلط کیا کیونکہ عورت تو دخول سے قبل نصف مہر کی مالک تھی، اس نے اسی میں سے سامان خریدا ہے تو شوہر میاں کو اس میں کیا حق۔

 امْرَأَةٌ قَبَضَتْ نِصْفَ صَدَاقِهَا وَتَجَهَّزَتْ ثُمَّ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا قَبْلَ الدُّخُولِ بِهَا فَقَضَى قَاضٍ لَهَابِنِصْفِ جِهَازِهَا أَبْطَلَهُ قَاضٍ آخَرُ إذَا رُفِعَ إلَيْهِ.
چھٹا مسئلہ۔ کسی قاضی نے ایسے گواہ کی گواہی قبول کی جو اپنے باپ کے خط کو پڑھ کر گواہی دے رہا تھا خود وہ چشم دید گواہ نہیں چشم دید گواہ تو اس کا باپ تھا اور اس کے باپ نے پھر ایک تحریر لکھی ہوئی تھی اب اس کا باپ فوت ہو گیا تو قاضی نے اس کے باپ کو طلب کرنا چاہا وہ چونکہ مر گیا تھا تو بیٹے نے اپنے باپ کی لکھی ہوئی تحریر سے گواہی دی اور اس قاضی نے اس گواہ کی گواہی قبول کی تو حنفی قاضی پر ضروری ہے کہ اس قاضی اول کے فیصلے کو رد کرے اور اس کے فیصلے کو باطل کرے۔ 
ساتواں مسئلہ۔ قاضی صاحب نے بغیر کسی گواہ اور بغیر کسی اقرار کے مہر کے باطل ہونے کا فیصلہ سنا دیا تو حنفی قاضی پر ضروری ہے کہ قاضی اول کے اس فیصلے کو رد کرے اور اس کے فیصلہ کو توڑ دے کیونکہ بغیر بینہ اور بغیر اقرار کے مہر کو باطل نہیں کیا جا سکتا۔ 
آٹھواں مسئلہ۔ قاضی صاحب نے عنین کو تعجیل یعنی مہلت دیے بغیر فسخ نکاح کا حکم دیا، کیونکہ اگر عورت نے عدالت میں دعوی کیا کہ میرا شوہر عنین ہے میرے شوہر میں مردانہ کوئی پریشانی ہے تو قاضی صاحب پر ضروری ہے کہ وہ اس عنین کو ایک سال کی مہلت دے علاج و معالجے کے لیے لیکن کسی قاضی نے اگر عنین کو مہلت دیے بغیر ہی عورت کے حق میں فیصلہ لکھ دیا اور نکاح فسخ کر دیا پھر یہ فیصلہ قاضی حنفی کے پاس آیا تو قاضی حنفی پر ضروری ہے کہ وہ قاضی اول کے فیصلے کو رد کرے اور توڑ دے۔ 
نواں مسئلہ۔ شوہر نے بعد دخول کے عورت کے مہر میں اضافہ کیا پہلے جو مہر متعین تھا پھر شادی کے بعد جب بی بی کو امیدوں سے زیادہ حسین پایا تو بی بی کے مہر میں اضافہ کر دیا، قاضی نے اس زیادتئ مہر کو باطل قرار دیا پھر فیصلہ کسی حنفی قاضی کے پاس آیا تو اسے چاہیے کہ قاضی اول کے اس بطلانِ مہر بعد دخول کے فیصلے کو باطل قرار دے کیونکہ شوہر کا مہر میں اضافہ کرنا درست ہے وہ عورت کا حق ہے وہ عورت کو دیا جائے گا۔ 
یہ کل نو مسئلے ہوئے جبکہ مصنف نے فرمایا تھا صرف آٹھ جگہوں میں قاضی اول کے فیصلے کو رد کیا جا سکتا ہے حالانکہ مصنف رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے نو مسئلے ذکر کئے، خیر یہ کوئی بڑی بات نہیں، بخاری جلد اول میں حدیث وفد بنی قیس میں آیا ہے، فامرنا باربع ونھانا باربع، جبکہ حدیث میں پانچ چیزوں کا حکم موجود ہے، فیہ ما فیہ البتہ اس طرح ہوتا۔ 

 قَاضٍ قَضَى بِشَاهِدٍ عَلَى خَطِّ أَبِيهِ أَوْ بِبُطْلَانِ الْمَهْرِ مِنْ غَيْرِ بَيِّنَةٍ وَلَا إقْرَارٍ أَوْ بِعَدَمِ تَأْجِيلِ الْعِنِّينِ أَوْ بِبُطْلَانِ مَا زَادَ الزَّوْجُ عَلَى مَهْرِهَا بَعْدَ الدُّخُولِ فَلِلْحَنَفِيِّ أَنْ يُبْطِلَ قَضَاءَهُ " مِنْ شَرْحِ التَّجْرِيدِ ".

No comments:

Post a Comment