Monday, July 29, 2024

d 18

مدعی و مدعی علیہ کی یہ تعریف بھی کی گئی ہے کہ مدعی وہ ہے جو اگر دعوی ترک کرے تو معاملہ ہی ترک کر دیا جائے گا یعنی جھگڑا ہی اس کے ترک دعوی سے منقطع و رفع دفع کیا جائے گا اور مدعی علیہ وہ ہے کہ اگر وہ دعوی ترک کرے تو اسے نہ چھوڑا جائے گا اور معاملے کو ختم نہ کیا جائے گا بلکہ اس کو مجبور کیا جائے گا جوابِ دعوی پر۔ 
حضرت امام قدوری نے اپنے مختصر  القدوری میں مدعی و مدعی علیہ کی تعریف بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ مدعی وہ ہے کہ اگر وہ جھگڑے کو چھوڑ دے تو اسے اس معاملے پر مجبور نہ کیا جائے گا بلکہ معاملہ ہی اٹھا دیا جائے گا اور مدعی علیہ وہ ہے کہ اگر وہ جھگڑے کو چھوڑنا چاہے یہ کہہ کر کہ چھوڑ دیجئے اب کیا لینا دینا تو اسے چھوڑا نہ جائے گا بلکہ اس کو اس معاملے پر مجبور کیا جائے گا کہ وہ قسم کھائے یا محکوم بہ مدعی کے حوالہ کرے۔
بعض حضرات نے فرمایا کہ مدعی اس کو کہتے ہیں جو  ایسے پوشیدہ امر کا قصد کرے جس کے ذریعے ایسے امر جلی کو زائل کرنا چاہتا ہو جو امر واضح ہو اور ظاہر کےوافق ہو چناں چہ علامہ کاسانی کے سسر صاحب تحفۃ الفقہاء نے لکھا ہے تحفہ میں  مدعی و مدعی علیہ کی تعریف بیان کرتے ہوئے کہ مدعی وہ ہے جو اثبات ملک و اثبات حق کا محتاج ہو اور مدعی علیہ وہ ہے جو اثبات ملکیت و اثبات حق کی نفی کرے اور اپنے آپ سے دفاع کرے، چناں چہ دو طرح کی تعریفیں مدعی و مدعی علیہ کی ذکر کئی گئیں،نمبر ایک کہ مدعی اس کو کہتے ہیں جو اگر دعوی ترک کرے تو معاملہ ہی خارج کیا جائے گا کیونکہ معاملہ اس کے دعوی کی وجہ سے ہی دائر نمبر ہوا ہے اگر وہ چاہے تو ترک دعوی سے معاملے کو ختم بھی کرا سکتا ہے اس کے برخلاف اگر مدعی علیہ دعوی سے بے رغبتی یا دعوی سے کنارہ ہونا چاہے تو معاملہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اس کو جواب دعوی و رفع الزام کے لیے ضرور طلب کیا جائے گا،چناں چہ مدعی علیہ کے ترک دعوی سے دعوی کو چھوڑ نہیں  جائے گا اوع معاملے کو ختم نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کو مجبور کیا جائے گا حاکری پر، یہی تعریف دوسرے انداز میں مختصر القدوری میں حضرت امام قدوری نے کی کہ مدعی اگر دعوے کو ترک کرے تو اس کو اس پر مجبور نہیں کیا جائے گا جبکہ مدعی علیہ کے ترک دعوی سے اس کو دعوی پر مجبور کیا جائے گا نفی دعوی پر اور دوسری تعریف یوں کی گئی کہ مدعی وہ ہے جو ایک امر خفی کے اثبات کا ارادہ کرے جس امر خفی کے ذریعہ وہ چاہتا ہو ایک امر جلی کو زائل کرنا، اسی کو صاحب تحفۃ الفقہاء نے اپنے الفاظ میں یوں ذکر کیا کہ مدعی وہ ہے جو اثبات ملکیت و اثبات حق کا محتاج ہو اور مدعی علیہ وہ ہے جو اثبات ملکیت یا اثبات حق کی نفی کرے اور اس کو اپنے آپ سے دور کرے۔ 
وَقِيلَ الْمُدَّعِي مَنْ إذَا تَرَكَ الدَّعْوَى يُتْرَكُ: يَعْنِي تَنْقَطِعُ الْخُصُومَةُ بِتَرْكِهِ، وَالْمُدَّعَى عَلَيْهِ مِنْ إذَا تَرَكَ الدَّعْوَى لَمْ يُتْرَكْ. وَذَكَرَ الْقُدُورِيُّ فِي مُخْتَصَرِهِ: الْمُدَّعِي مَنْ إذَا تَرَكَ الْخُصُومَةَ لَا يُجْبَرُ عَلَيْهَا، وَالْمُدَّعَى عَلَيْهِ مَنْ إذَا تَرَكَهَا يُجْبَرُ عَلَيْهَا. وَقِيلَ الْمُدَّعِي مَنْ يَرُومُ إثْبَاتَ أَمْرٍ خَفِيٍّ يُرِيدُ بِهِ إزَالَةَ أَمْرٍ جَلِيٍّ، وَذَكَرَ فِي التُّحْفَةِ: الْمُدَّعِي مَنْ يَلْتَمِسُ إثْبَاتَ مِلْكٍ أَوْ حَقٍّ، وَالْمُدَّعَى عَلَيْهِ مَنْ يَنْفِيهِ وَيُدَافِعُهُ.
اس کے بعد مصنف رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ  مناسب نہیں کسی فقیہ کے لیے کہ وہ ہر پیش آمدہ مسئلے میں انہی دو تعریفوں پر اعتماد کرے جن کی تعریفوں کے اختلاف کو ہم نے ذکر کیا بلکہ کبھی کبھی ایسا ہو سکتا ہے کہ ایک تعریف سے جب ہم دیکھیں تو ایک آدمی مدعی بن رہا ہے لیکن جب دوسری تعریف یا دوسرے زاویہ سے دیکھتے ہیں تو وہی جو پہلے مدعی بنا تھا اب وہ مدعی علیہ بن رہا ہے اور دوسرا مدعی، اس لیے محض ان دو تعریفوں کے اختلاف پر اعتماد کرکے قاضی مطمئن ہو کر فیصلہ نہ کرے بلکہ یہاں ایک اور اصول پیش نظر رہنا چاہئے جو اصول ان مذکورہ دونوں اصول سے زیادہ موکد اور معتبر ہے اور زیادہ نفع بخش ہے اور اصول ہے  استحاب حال کہ جب بھی دو فریق قاضی کے سامنے پیش ہو تو مدعی و مدعی علیہ کو پہچاننے کے لیے مذکورہ دو تعریفوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اور ایک چیز ( استصحاب حال ) جو اصلِ موکد، معتبر اور انفع ہے اس سے کام لینا چاہیے، اس لیے کہ استحاب حال وہ ایسا اصول ہے جس پر اعتماد کیا گیا ہے غور و فکر کا تقاضا کرنے والی جگہوں میں یعنی جہاں غور و فکر کی ضرورت پڑتی ہے وہاں استصحاب حال کا اصول ضرور زیر نظر رکھا جاتا ہے اور کوئی تردد نہیں ہوتا ان اصولوں میں اور نہ کسی کو کوئی اشکال ہوتا جب ایک حال دوسرے حال کے معارض نہ ہو یعنی معاملہ آیا  دونوں اصولوں کو سامنے رکھا گیا ایک مدعی بنا ایک مدعی علیہ کیوں کہ ایک استصحاب حال دوسرے کے موافق ہے اس لیے جو مدعی بن رہا ہے وہ دونوں تعریفوں اور دونوں زاویوں سے مدعی بن رہا ہے اور جو مدعی علیہ بن رہا ہے وہ دونوں تعریفوں سے مدعی علیہ بن رہا ہے تو ایسی جگہ میں مدعی و مدعی علیہ کے پہچاننے میں کوئی تردد و کوئی اشکال و دشواری نہیں ہوتی ہاں جہاں ایک استصحاب حال دوسرے کے مخالف ہوتا ہے وہ مدعی و مدعی علیہ کو پہچاننے میں دشواری ہوتی ہے کیوں ایک تعریف سے جو مدعی بنتا ہے وہی دوسری تعریف سے مدعی علیہ بنتا ہے اب کس کو مدعی اور کس کو مدعی علیہ بنائے یہ بڑا کار درد مسئلہ ہے تو ایسی جگہ میں مذکورہ دونوں اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے استصحاب حال کو دیکھنا پڑتا ہے،اسی کو مصنف نے فرمایا کہ کبھی کبھی دو حال ٹکرتے ہیں، ایک فریق کا استصحاب حال استساب یعنی اصلی حالت دوسرے فریق کے استصحاب حال کے متضاد و خلاف ہوتی ہے بس یہاں مشکل واقع ہو جاتی ہے اور پھر ان دو مذکورہ تعریفوں کے بعد استصحاب حال کو بھی دیکھنا پڑتا ہے،چنانچہ اہل نظر ائمہ نے اختلاف کیا ہے اس جگہ مدعی علیہ سے مدعی کی کس طرح تمییز کی جائے گی مدعی کو مدعی علیہ سے کس طرح پہچانا جائے گا اور ان میں سے ہر ایک محتاج ہوا جاتا ہے اس حالت کی ترجیح کا جو استصحاب کے موافق ہو۔
وَمَا ذَكَرْنَا مِنْ اخْتِلَافِ الْحَدَّيْنِ الْمَذْكُورَيْنِ لَا يَنْبَغِي أَنْ يَعْتَمِدَ الْفَقِيهُ عَلَيْهِ فِي كُلِّ مَسْأَلَةٍ تَعْرِضُ، بَلْ هَا هُنَا مَا هُوَ آكَدُ وَاعْتِبَارُهُ أَنْفَعُ مِمَّا قَدَّمْنَا ذِكْرَهُ، فَإِنَّهَا هِيَ الْأَصْلُ الْمُعْتَمَدُ عَلَيْهِ فِي مُقْتَضَى النَّظَرِ، وَلَا تَرَدُّدَ فِي ذَلِكَ وَلَا إشْكَالَ إذَا لَمْ يُعَارِضْ الْحَالُ الْحَالَ، وَلَكِنْ قَدْ يَعْتَرِضُ حَالَانِ، اسْتِصْحَابُ أَحَدِهِمَا يُضَادُّ اسْتِصْحَابَ الْحَالِ الْآخَرِ، فَهَاهُنَا يَقَعُ الْإِشْكَالُ فَيَخْتَلِفُ أَهْلُ النَّظَرِ مِنْ الْأَئِمَّةِ فِي تَمْيِيزِ الْمُدَّعِي مِنْ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ وَيَفْتَقِرُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا إلَى تَرْجِيحِ الْحَالَةِ الَّتِي اسْتَصْحَبَهَا.
اب یہاں سے مصنف رحمۃ اللہ علیہ اس کی مثال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں  قابض نے دافع سے کچھ دنانیر لیے، اس کے بعد دافع اپنے دئیے ہوئے دنانیر کا قابض سے مطالبہ کرتا ہے جبکہ قابض کہہ رہا ہے اپنے گمان کے مطابق کہ میں نے تو ان دنانیر پر قبضہ کیا ہے جو میں دافع کو پہلے قرض دے چکا ہوں، اب یہاں مسئلہ پیدا ہو گیا، جب ہم پہلی تعریف (المدعی مَنْ لَوْ سَكَتَ لَتُرِكَ و سُكُوتَهِ)کو سامنے رکھتے ہیں اور مصنف کی دی ہوئی مثال کو دیکھتے ہیں تو دافع مدعی بنتا ہے کیوں کہ اگر مدعی دعوی چھوڑ دے تو معاملہ کو ختم کرنا اور خارج کرنا درست ہوگا جبکہ اگر قابض معاملہ کو چھوڑنا چاہئے تو معاملہ کو اٹھانا درست نہ ہوگا (وَالْقَابِضُ لَوْ سَكَتَ عَنْ جَوَابِ الطَّالِبِ مَا تُرِكَ وَسُكُوتَهُ) اس لیے دافع کا مدعی بننا پہلی تعریف کے مطابق صحیح ہے،جب دوسرے تعریف ( وَهُوَ دَعْوَى الْأَمْرِ الْجَلِيِّ أَوْ الْخَفِيِّ ) کو سامنے رکھ کر دیکھتے ہیں تو قابض مدعی بنتا ہے اور دافع مدعی علیہ کیوں قابض امر خفی ( کہ میں نے آپ سے جو دنانیر لیے ہیں وہ آپ کے ذمہ میرا دیا ہوا قرض تھا ) کے ذریعہ امر جلی ( الاصل برأۃ الذمۃ ”القواعد الفقہیہ“کہ اصل ہر شخص کا برئ الذمۃ ہونا ہے اس لیے دافع بھی پہلے سے کسی قرض سے بری ہوگا ) ککو زائل ختم کر رہا ہے اس لیے قابض مدعی اور دافع مدعی علیہ ہوا، اسی کو مصنف نے فرمایا کہ جب ہم نے قابض کے اس قرض سے دافع کا برئ الذمۃ ہونا پر استصحاب حال کو پایا تو ہم نے دافع کی تصدیق کر کے اس کو مدعی علیہ بنایا اس قرض کا جس کی اصل نہ ہونا ہے،اور اس لیے بھی کہ ظاہری حال اسی کے موافق ہے والیمین علی من وافق الظاہر والبینۃ علی من یدعی خلاف الظاہر اور یہاں قابض ظاہر و استصحاب حال کے خلاف دعویٰ کررہا کیوں کہ ہر شخص کا برئ الذمۃ ہونا استصحاب حال کا بھی تقاضا ہے اور ظاہری حالت کا بھی، اس طرح اسی تعریف کے دورسے زاویہ سے دیکھتے ہیں تو لگتا ہے قابض بھی مدعی علیہ ہے  کیوں دافع جو اس کو کہتا ہے میرا قرض چکتا  کیجئے دافع کا یہ دعویٰ بھی ظاہر و استصحاب کے خلاف ہے اس لیے کہ قابل کی بھی تو اصل برئ الذمۃ ہونا ہے تو اس حساب سے دافع مدعی و قابض مدعی علیہ اب دیکھ لیجئے کتنی دشواری ہے پہلے تعریف سے دافع مدعی و قابض مدعی علیہ دوسری تعریف کے ایک زاویہ سے بھی دافع مدعی و قابض مدعی علیہ اور دوسری تعریف کے دوسرے زاویہ سے قابض مدعی دافع مدعی علیہ ثابت ہو رہا ہے انہیں احوال و اصولوں کے تقاضے کے وقت اشکالات در پیش ہوتے ہیں دشواریاں حائل ہوجاتی ہیں کہ کس کو مدعی و کس کو مدعی علیہ قرار دیا جائے، تو ایسی حالت میں ایک استصحاب کو دوسرے استصحاب پر ترجیح دینے کا محتاج ہوا جاتا ہے، اور اسی استصحاب حال سے ایسے مسئلہ کی عقدہ کشائی ممکن ہے۔ 
مِثَالُهُ: رَجُلٌ قَبَضَ مِنْ رَجُلٍ دَنَانِيرَ، فَلَمَّا طَالَبَهُ بِهَا دَافِعُهَا زَعَمَ أَنَّهُ إنَّمَا قَبَضَهَا عَنْ سَلَفٍ كَانَ أَسْلَفَهُ لِدَافِعِهَا.وَقَالَ دَافِعُهَا: بَلْ أَنَا أَسْلَفْتُك إيَّاهَا وَمَا كُنْتُ أَنْتَ أَسْلَفْتَنِي شَيْئًا قَطُّ، فَإِنْ اعْتَبَرْنَا الْفَرْقَ بَيْنَ الْمُدَّعِي وَالْمُدَّعَى عَلَيْهِ بِأَنَّ الْمُدَّعِيَ مَنْ لَوْ سَكَتَ لَتُرِكَ لِسُكُوتِهِ وَجَدْنَا هَا هُنَا الدَّافِعَ هُوَ الْمُدَّعِي؛ لِأَنَّهُ لَوْ سَكَتَ لَتُرِكَ وَسُكُوتُهُ، وَالْقَابِضُ لَوْ سَكَتَ عَنْ جَوَابِ الطَّالِبِ مَا تُرِكَ وَسُكُوتُهُ، وَإِنْ بَنَيْنَا عَلَى الْأَصْلِ الْآخَرِ وَهُوَ دَعْوَى الْأَمْرِ الْجَلِيِّ أَوْ الْخَفِيِّ فَإِنَّا إنْ اسْتَصْحَبْنَا كَوْنَ الدَّافِعِ بَرِيءَ الذِّمَّةِ مِنْ سَلَفِ هَذَا الْقَابِضِ صَدَّقْنَا الدَّافِعَ وَجَعَلْنَاهُ هُوَ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ السَّلَفُ الَّذِي الْأَصْلُ عَدَمُهُ، وَإِنْ اعْتَبَرْنَا حَالَ الْقَابِضِ هُوَ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ فَمَا يَعْرِضُ الْإِشْكَالُ إلَّا عِنْدَ تَصَادُمِ مُقْتَضَى الْأَحْوَالِ فَيُفْتَقَرُ إلَى تَرْجِيحِ اسْتِصْحَابِ أَحَدِ الْحَالَيْنِ عَلَى الْآخَرِ.
یہاں سے قاضی شریح اپنا واقعہ ذکر کر رہے ہیں کہ جب وہ قاضی بنائے گئے، ولایت قضاء کی بھاگ ڈور ان کے ہاتھ آئی، فرماتے ہیں میرا عندیہ تھا کہ میں کبھی فریقین کے معاملے کی معرفت سے عاجز نہیں آؤں گا یعنی کون سا مشکل ہے مدعی و مدعی علیہ کو پہچانا پھر فرماتے ہیں کہ جب پہلا  معاملہ میرے پاس فریقین لے کے آئے اور اپنا معاملہ مجھ پر پیش کیا تو تب آنکھیں کھلیں کہ جیسا میں آسان سمجھ رہا تھا وہ تو بڑی خار زار وادی اور بہت پیچیدہ بات ہے مصنف فرماتے ہیں میں کہتا ہوں کہ قاضی شریح نے اسی کی طرف اشارہ کیا ہے جس پر ہم نے آپ کو متنبہ کیا۔ 
وَقَدْ ذَكَرَ شُرَيْحٌ الْقَاضِي أَنَّهُ قَالَ: وُلِّيتُ الْقَضَاءَ وَعِنْدِي أَنِّي لَا أَعْجِزُ عَنْ مَعْرِفَةِ مَا يُتَخَاصَمُ إلَيَّ فِيهِ، فَأَوَّلُ مَا ارْتَفَعَ إلَيَّ خَصْمَانِ أَشْكَلَ عَلَيَّ أَمْرُهُمَا مَنْ الْمُدَّعِي وَمَنْ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ قُلْت: وَلَعَلَّهُ أَشَارَ إلَى هَذَا الَّذِي نَبَّهْنَا عَلَيْهِ

No comments:

Post a Comment