Wednesday, July 24, 2024

چ 2

یہ فصل ان چیزوں کے بارے میں ہے جو قاضی کی ذات کے لیے ضروری ہیں۔
چونکہ منصب قضاء بہت اہم منصب ہے اس لیے قاضی صاحب کو چاہیے کہ اپنے آپ کو شرعی آداب کا خوگر بنائے، صاحب مروت، عالی ہمت بنے اور اپنے آپ کو ان تمام چیزوں سے بچائے، جو اس کے دین میں، اس کی ہمت میں اس کے صاحب مروت ہونے میں اس کو عیب دار بنائے، اور جو اس کی عقل کو عیب دار بنائے، اور ان چیزوں سے بھی بچے جو اس کے منصب اور اس کی ہمت کو گھٹائیں، اس لیے کہ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جس کی طرف دیکھا جاتا ہے اور جس کو ائیڈیل سمجھ کر اس کی اقتدا کی جاتی ہے بہت ساری چیزیں ہیں کہ جو قاضی کے لیے زیبا نہیں جبکہ دوسروں کے لیے اس میں گنجائش ہے اس لیے کہ قاضی صاحب لوگوں کا مطمح نظر یعنی لوگ اس کی طرف دیکھتے ہیں وہ آنکھوں کا نشانہ ہے، خاص لوگوں کی اقتداء اس کی رہنمائی پر موقوف ہے، مناسب نہیں قاضی کے لیے کہ وہ اس منصب کے حاصل ہونے کے بعد چاہیے وہ اس عہدے پر اپنی رغبت اور اپنی رضا سے پہنچا ہو دراں حالیکہ اس نے اس منصب کے لیے اپنے آپ کو پیش کیا ہو یا اس پر آزمائش ڈال کر اس پر یہ عہدہ پیش کیا گیا ہو، یہ کہ وہ نیک حصے کے طلب میں بے رغبتی نہ کرے اور مصلح و درست طریقوں کے طلب میں بے رغبت نہ رکھے اس لیے کہ بسا اوقات ابھارتی ہے اس چیز پر قاضی کو اپنے نفس کی تحقیر( یا اپنے نفس کو حقیر سمجھنا قاضی کو اس چیر پر ابھارتی ہے) اس لئے کہ وہ سمجھتا ہے کہ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو اس منصب کے مستحق نہ تھے اور اپنے زمانہ کے لوگوں سے بے نیازی پر اور ان کی اصلاح سے مایوسی پر اور اس بات کو بعید سمجھنے پر  کہ وہ ان کے معاملے اور اپنے معاملہ کی اصلاح کی امید رکھے اور ان کے معاملے کی اس وجہ سے کہ وہ دیکھتا ہے عمومی فساد کو لوگوں کے درمیان اور خیر کی طرف ان کی جانب کم التفاتی کو۔ 
[فَصْلٌ فِيمَا يَلْزَمُ الْقَاضِي فِي خَاصَّةِ نَفْسِهِ]
فِيمَا يَلْزَمُهُ فِي خَاصَّةِ نَفْسِهِ " وَاعْلَمْ: أَنَّهُ يَجِبُ عَلَى مَنْ وَلِيَ الْقَضَاءَ أَنْ يُعَالِجَ نَفْسَهُ عَلَى آدَابِ الشَّرْعِ وَحِفْظِ الْمُرُوءَةِ وَعُلُوِّ الْهِمَّةِ، وَيَتَوَقَّى مَا يَشِينُهُ فِي دِينِهِ وَمُرُوءَتِهِ وَعَقْلِهِ، أَوْ يَحُطُّهُ فِي مَنْصِبِهِ وَهِمَّتِهِ، فَإِنَّهُ أَهْلٌ لَأَنْ يُنْظَرَ إلَيْهِ وَيُقْتَدَى بِهِ، وَلَيْسَ يَسَعُهُ فِي ذَلِكَ مَا يَسَعُ غَيْرَهُ، فَالْعُيُونُ إلَيْهِ مَصْرُوفَةٌ، وَنُفُوسُ الْخَاصَّةِ عَلَى الِاقْتِدَاءِ بِهَدْيِهِ مَوْقُوفَةٌ، وَلَا يَنْبَغِي لَهُ بَعْدَ الْحُصُولِ فِي هَذَا الْمَنْصِبِ سَوَاءً وَصَلَ إلَيْهِ بِرَغْبَتِهِ فِيهِ وَطَرَحَ نَفْسَهُ عَلَيْهِ، أَوْ اُمْتُحِنَ بِهِ وَعُرِضَ عَلَيْهِ، أَنْ يَزْهَدَ فِي طَلَبِ الْحَظِّ الْأَخْلَصِ وَالسَّنَنِ الْأَصْلَحِ، فَرُبَّمَا حَمَلَهُ عَلٰی ذَلِكَ اسْتِحْقَارُ نَفْسِهِ لِكَوْنِهِ مِمَّنْ لَا يَسْتَحِقُّ الْمَنْصِبَ، أَوْ زُهْدِهِ فِي أَهْلِ عَصْرِهِ وَيَأْسِهِ مِنْ اسْتِصْلَاحِهِمْ وَاسْتِبْعَادِ مَا يَرْجُو مِنْ عِلَاجِ أَمْرِهِمْ وَأَمْرِهِ أَيْضًا لِمَا يَرَاهُ مِنْ عُمُومِ الْفَسَادِ وَقِلَّةِ الِالْتِفَاتِ إلَى الْخَيْرِ.
اس لیے کہ اگر وہ اپنے اہل عصر لوگوں کی خیر خواہی کی گنجائش و امید نہ رکھے تو گویا اس نے ہتھیار ڈال دئیے اور اس نے اپنے آپ کو ہلاکت میں جھونک دیا اور وہ مایوس ہو گیا کہ اللہ تعالی اپنی رحمت سے بندوں کو ڈھانپ لے،اور بندوں سے رحم و کرم کا سلوک کرے یہ اس کو پناہ دلائے گا( رغبت دلائے گا ان ہی چیزوں کی طرف جس کی طرف اس کے زمانہ والے جا رہے ہیں یا یہ اس کو پناہ و رغبت دلائے گا اس راہ کی جس راہ پر اس کے زمانے والے چلتے ہیں اور وہ بے پرواہ ہو جائے گا پر اس چیز سے جس میں لوگ پڑے ہوئے ہیں اس کا فساد حال کے اعتقاد رکھنے کی وجہ سے اور یہ قضاء کی بڑی مصیبتوں میں سے ہیں اور بڑے سنگین اور تاریک مصیبت ہے ان مصائب میں جن مصائب سے بچا جاتا ہے اس قاضی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے آپ کو مجاہدے کے ساتھ لگا دے اور خیر کی طلب میں کوشش کرتا رہے خیر کے حصول میں کوشش کرتا رہے اور خیر کو طلب کرتا رہے اور لوگوں کی خیر خواہی چاہتا رہے پوری رغبت اور خوف و بیم کے ساتھ اور حق کے سلسلے میں ان پر مضبوط رہے اس لیے کہ اللہ تعالی اپنے فضل سے پیدا کریں گے اس کی ولایت کے سلسلے میں اور اس کی امور کے سلسلے میں کشادگی اور نئے راستہ اور وہ ولایت میں سے ملے اس خاص حصہ کو فخر کی چیز نہ بنائے ریاست کے ذریعے فخر کرنے کی چیز اور محض دوسروں پر حکم کو نافذ کرنے کی چیز اور کھانے،پہننےاور رہنے سہنے میں تلذذ کی چیز بس ہوگا وہ ان لوگوں میں سے جن کو فرمانے خداوند سے خطاب کیا گیا ہے کیا تم دنیاوی اس زندگی میں اچھی چیزوں سے فائدہ حاصل کر کے اپنی اخرت برباد کرتے ہو۔ 
فَإِنَّهُ إنْ لَمْ يَسْعَ فِي اسْتِصْلَاحِ أَهْلِ عَصْرِهِ فَقَدْ أَسْلَمَ نَفْسَهُ وَأَلْقَى بِيَدِهِ إلَى التَّهْلُكَةِ وَيَئِسَ مِنْ تَدَارُكِ اللَّهِ تَعَالَى عِبَادَهُ بِالرَّحْمَةِ، فَيُلْجِئُهُ ذَلِكَ إلَى أَنْ يَمْشِيَ عَلَى مَا مَشَى عَلَيْهِ أَهْلُ زَمَانِهِ وَلَا يُبَالِي بِأَيِّ شَيْءٍ وَقَعَ فِيهِ لِاعْتِقَادِهِ فَسَادَ الْحَالِ، وَهَذَا أَشَدُّ مِنْ مُصِيبَةِ الْقَضَاءِ وَأَدْهَى مِنْ كُلِّ مَا يُتَوَقَّعُ مِنْ الْبَلَاءِ، فَلْيَأْخُذْ نَفْسَهُ بِالْمُجَاهِدَةِ وَيَسْعَى فِي اكْتِسَابِ الْخَيْرِ وَيَطْلُبُهُ وَيَسْتَصْلِحُ النَّاسَ بِالرَّهْبَةِ وَالرَّغْبَةِ، وَيَشُدُّ عَلَيْهِمْ فِي الْحَقِّ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى بِفَضْلِهِ يَجْعَلُ لَهُ فِي وِلَايَتِهِ وَجَمِيعِ أُمُورِهِ فَرَجًا وَمَخْرَجًا، وَلَا يَجْعَلُ حَظَّهُ مِنْ الْوِلَايَةِ الْمُبَاهَاةَ بِالرِّيَاسَةِ وَإِنْفَاذَ الْأَوَامِرِ وَالتَّلَذُّذَ بِالْمَطَاعِمِ وَالْمَلَابِسِ وَالْمَسَاكِنِ فَيَكُونُ مِمَّنْ خُوطِبَ بِقَوْلِهِ تَعَالَى {أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا} [الأحقاف:
چاہیے کہ قاضی وہ خوبصورت ہیئت  اور ظاہری شان و شوکت والا ہو اور چلنے پھرنے، اٹھنے بیٹھنے میں با وقار ہو، خوش اسلوب گفتگو اور غیر تھکا دینی والی خاموشی والا ہو،یعنی خوشی بھی اچھی ہو اور اپنے کلام میں فضول و لغویات بکنے سے بچتا ہو اور ان لایعنی باتوں سے بچتا ہو جن کی چنداں حاجت نہیں گویا کہ وہ اپنے آپ پر حروف کو گنتا ہو یعنی بہت کم کلام کرتا ہو گن گن کے کلام کرتا ہو پہلے تولتا ہو پھر بولتا ہو اس لیے کہ قاضی کا کلام وہ محفوظ ہوتا ہے اور اس کی خطا و لغزشیں ملحوظ ہوتی ہے یعنی نظر گذر رکھی جاتی ہے اسے بیان کیا جاتا ہے اور چاہیے کہ اپنے کلام کے وقت اپنے ہاتھ سے بہت کم اشارہ کرے اور اپنے چہہرے کے ساتھ دائیں بائیں کم التفات کرے اس لیے کہ یہ تکلف کرنے والوں کا عمل ہے اور غیر مہذب لوگوں کا طریقہ کار ہے، چاہیے کہ اس کا ہنسنا صرف تبسم ہو اور اس کی نظر فراست بھری ہو اور غور طلب ہو اور اس کا کن انکھیوں سے دیکھنا معاملہ کی سنگینی کو سمجھنے کے لیے ہو اور چاہیے کہ قاضی صاحب اپنے لیے لازم کرے  اچھی خاموشی، سکینت اور وقار کو اور ان چیزوں کو جن سے اس کی مروت برقرار و محفوظ رہے اس لیے کہ خواہشات اس کی طرف مائل ہوتی ہے اور فریقین کے دلوں میں اس کے خلاف جرأت بڑ جاتی ہے ہاں ان صفات کا اپنے اوپر بغیر کسی تکبر اور خود پسندی کے اظہار کرے ( تحدیث بالنعمت اور جو مرتبہ اللہ دیا ہے اس کی حفاظت کے لیے) کیوں یہ دونوں ( تکبر و اعجاب یستشعرہ۔تکبر و خود پسندی) انسان کے دین میں نقص اور اخلاق مومنین میں عیب سمجھی جاتیی ہیں۔ 

 ٢٠] وَلْيَجْتَهِدْ أَنْ يَكُونَ جَمِيلَ الْهَيْئَةِ ظَاهِرَ الْأُبَّهَةِ وَقُورَ الْمِشْيَةِ وَالْجِلْسَةِ حَسَنَ النُّطْقِ وَالصَّمْتِ مُحْتَرِزًا فِي كَلَامِهِ مِنْ الْفُضُولِ وَمَا لَا حَاجَةَ بِهِ، كَأَنَّمَا يَعُدُّ حُرُوفَهُ عَلَى نَفْسِهِ عَدًّا، فَإِنَّ كَلَامَهُ مَحْفُوظٌ وَزَلَلَهُ فِي ذَلِكَ مَلْحُوظٌ، وَلْيُقْلِلْ عِنْدَ كَلَامِهِ الْإِشَارَةَ بِيَدِهِ وَالِالْتِفَاتَ بِوَجْهِهِ، فَإِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَمَلِ الْمُتَكَلِّفِينَ وَصُنْعِ غَيْرِ الْمُتَأَدِّبِينَ، وَلْيَكُنْ ضَحِكُهُ تَبَسُّمًا، وَنَظَرُهُ فِرَاسَةً وَتَوَسُّمًا، وَإِطْرَاقُهُ تَفَهُّمًا، وَلْيَلْزَمْ مِنْ السَّمْتِ الْحَسَنِ وَالسَّكِينَةِ وَالْوَقَارِ مَا يَحْفَظُ بِهِ مُرُوءَتَهُ، فَتَمِيلَ الْهِمَمُ إلَيْهِ، وَيَكْبُرَ فِي نُفُوسِ الْخُصُومِ مِنْ الْجُرْأَةِ عَلَيْهِ، مِنْ غَيْرِ تَكَبُّرٍ يُظْهِرُهُ وَلَا إعْجَابٍ يَسْتَشْعِرُهُ، وَكِلَاهُمَا شَيْنٌ فِي الدِّينِ، وَعَيْبٌ فِي أَخْلَاقِ الْمُؤْمِنِينَ.

No comments:

Post a Comment