[فَصْلٌ يَلْزَمُ الْقَاضِيَ أُمُورٌ]
چند چیزوں کا قاضی کے لیے ہونا لازم ہے وہ یہ کہ قاضی کسی اجنبی سے ہدیہ کو قبول نہ کرے جب کہ وہ اجنبی عہدۂ قضاء ملنے سے پہلے ہدیہ نہ دیتا ہو اس لیے کہ ایسے اجنبی سے ہدیہ قبول کرنا یہ احتمال رکھتا ہے کہ ہدیہ وہ قضاء کے عہدے کی وجہ سے دیا ہو اس طور پر کہ وہ یہ سمجھتا ہو اگر کبھی قاضی کے پاس کبھی ہمارا معاملہ گیا تو قاضی کا فیصلہ ہماری طرف مائل ہو جائے گا اور اگر قاضی صاحب نے ہدیہ قبول کر لیا تو اب اس ہدیہ کا کیا کیا جائے؟فقہاء فرماتے ہیں کہ جس نے ہدیہ دیا ہے اس اجنبی شخص کو وہ ہدیہ واپس کر دے اگر واپس لوٹانا ممکن ہو اور لوٹانے میں فتنے کا اندیشہ نہ ہو تو مہدی (ہدیہ دینے والے) کو وہ ہدیہ واپس کیا جائے اور اگر لوٹانا ممکن نہ ہو کوئی فتنے کا اندیشہ ہو تو پھر حکم یہ ہے کہ اس ہدیہ کو بیت المال میں رکھ دے یہی مسئلہ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی نے السیر الکبیر نامی کتاب میں اسی طرح مسئلہ ذکر فرمایا ہے۔
وَيَلْزَمُ الْقَاضِيَ أُمُورٌ مِنْهَا: أَنَّهُ لَا يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ مِنْ الْأَجْنَبِيِّ إذَا كَانَ لَا يُهْدِي إلَيْهِ قَبْلَ الْقَضَاءِ لِأَنَّهُ يُحْتَمَلُ أَنَّ الْإِهْدَاءَ لِأَجْلِ الْقَضَاءِ حَتَّى يَمِيلَ إلَيْهِ مَتَى وَقَعَتْ الْخُصُومَةُ، وَإِذَا قَبِلَ الْهَدِيَّةَ مَاذَا يَصْنَعُ؟ قَالُوا: يَرُدُّ عَلَى الْمُهْدِي إنْ أَمْكَنَهُ الرَّدُّ، وَإِنْ لَمْ يُمْكِنْهُ الرَّدُّ عَلَى صَاحِبِهِ يَضَعُهُ فِي بَيْتِ الْمَالِ، هَكَذَا ذَكَرَ مُحَمَّدٌ فِي السِّيَرِ الْكَبِيرِ.
اور اگر وہ اجنبی شخص عہدہ قضاء قبول کرنے سے پہلے بھی قاضی صاحب کو ہدیہ دیتا تھا تو پھر حکم یہ ہے کہ اگر خاص اس اجنبی شخص کا کوئی معاملہ آج کل قاضی کے یہاں درج ہوا ہے تو پھر مناسب ہے قاضی کے لیے کہ وہ ہدیہ قبول نہ کرے امام خصاف نے اس کی صراحت کی ہے کیونکہ اگر دوران معاملہ قاضی اس کا ہدیہ قبول کریے جو اگرچہ پہلے بھی ہدیہ دیتا تھا تو اس میں تہمت خطرہ ہے کہ اس نے اس معاملے کی وجہ سے ہدیہ دیا ہو کہ قاضی کا رجحان ہماری طرف مائل ہو جائے اور قاضی صاحب ہمارے زیر بار احسان رہیں اور اگر اس کا کوئی معاملہ قاضی کے یہاں درج نہ ہو اور یہ جو اس نے ہدیہ دیا ہے یہ مقدار میں اتنا ہی ہے یا اس سے کم ہے جو پہلے قاضی صاحب کو دیتا تھا تو پھر قاضی صاحب اس ھدیہ کو قبول کر سکتے ہیں اس لیے کہ اس ہدیہ کا قبول کرنا یا اس ہدیے کے کھانا یہ قضاء کی وجہ سے کھانا شمار نہ ہوگا بلکہ سابق میں دیے ہوئے ہدیہ کی طرح یہ دلالت کرتا ہے محبت و الفت پر نہ کہ قضاء کے لیے دینا کیونکہ یہ پہلے بھی ہدیہ دیتا تھا اور جتنا پہلے دیتا تھا اتنا ہی آج بھی دیا ہے یا اس سے کم دیا ہے اور اس کا کوئی معاملہ بھی قاضی کے یہاں درج نہیں ہے لیکن اگر پہلے دس روپئے دیتا تھا اور آج بیس روپئے دئیے ہیں تو حکم یہ ہے کہ جتنا اس نے زیادہ دیا ہے اس زیادتی کو قاضی صاحب واپس لوٹائے گا اس لیے کہ وہ زیادتی قضاء کی وجہ سے ہوسکتی ہے کہ اب محترم عہدہ قضاء پر ہیں اس لیے ہدیہ زیادہ دیں گے تاکہ بوقت ضرورت کام آئے اب یہاں جو مسئلہ ذکر کریں گے تبصرۃ الحکام میں یہوضاحت کے سات مذکور ہے کہ یہ جو ابھی تک مسئلہ تھا یہ اجنبی شخص کے سلسلے میں تھا لیکن اگر ہدیہ دینے والا کوئی ذی رحم محرم ہو جیسے قاضی کا بیٹا، باپ یا کوئی بھی ایسا رشتہ دار ہو اگر وہ قاضی صاحب کو ہدیہ دیں تو ہدیہ قبول کرنے میں جائے ہرج نہیں یہی محیط برہانی میں مسئلہ ذکر کیا ہوا ہے اب علامہ طرابلسی فرماتے ہیں کہ میں کہتا ہوں کہ بہتر بات تو یہ کہ ہمارے اس دور میں قاضی صاحب مطلقا ہدیہ قبول نہ کرے چاہے اجنبی شخص پہلے سے ہدیہ دیتا تھا یا نہیں دیتا تھا اور چاہے جتنا پہلے دیتا تھا اتنا ہی آج دیا ہے یا اس سے زیادہ دیا ہے مطلقا ہدیہ قبول نہ کرے اس لیے کہ ہدیہ مہدی یعنی ہدیہ دینے والے میں جرات پیدا کرتا ہے اور جس نے ہدیہ لیا ہے یعنی قاضی صاحب اس میں چشم پوشی پیدا کرتا ہے مہدی کے جری ہونے میں اور قاضی کا چشم پوشی کرنے میں قاضی کا بھی ضرر ہے اور اس پر فساد کے آنے کا بھی اندیشہ ہے چنانچہ بعض حضرات نے فرمایا کہ ہدیہ حکمت کے نور کو بجھا دیتا ہے حضرت ربیعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تم بچو ہدیہ لینے سے اس لیے کہ ہدیہ وہ رشوت کا ذریعہ ہے اور فرماتے تھے کہ نبی رحمت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہدیہ قبول کرتے تھے لیکن وہ حضرت کے خواص میں سے تھا یعنی حضور کی خصوصیت تھی کیونکہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام معصوم تھے ان تمام گناہوں سے، ان تمام مصائب سے ان تمام عیوب سے جن سے دوسروں کو بچنا چاہیے جن سے دوسرے بچتے ہیں بچنے کی کوشش کرتے ہیں
وَإِنْ كَانَ يُهْدَى إلَيْهِ قَبْلَ الْقَضَاءِ فَإِنْ كَانَ لَهُ خُصُومَةٌ لَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَقْبَلَ، نَصَّ عَلَيْهِ الْخَصَّافُ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ خُصُومَةٌ فَإِنْ كَانَتْ هَذِهِ الْهَدِيَّةُ مِثْلَ تِلْكَ أَوْ أَقَلَّ فَإِنَّهُ يَقْبَلُهَا؛ لِأَنَّهُ لَا يَكُونُ آكِلًا بِقَضَائِهِ؛ لِأَنَّ سَابِقَةَ الْمُهَادَاةِ دَلَّتْ عَلَى الْإِهْدَاءِ لِلتَّوَدُّدِ وَالتَّحَبُّبِ لَا لِلْقَضَاءِ، وَإِنْ كَانَ أَكْثَرَ يَرُدُّ الزِّيَادَةَ؛ لِأَنَّهُ إنَّمَا زَادَ لِأَجْلِ الْقَضَاءِ لِيَمِيلَ إلَيْهِ مَتَى وَقَعَتْ الْخُصُومَةُ وَيَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ مِنْ ذِي الرَّحِمِ الْمَحْرَمِ، مِنْ الْمُحِيطِ قُلْت: وَالْأَصْوَبُ فِي زَمَانِنَا عَدَمُ الْقَبُولِ مُطْلَقًا لِأَنَّ الْهَدِيَّةُ تُورِثُ إدْلَالَ الْمُهْدِي وَإِغْضَاءَ الْمُهْدَى إلَيْهِ، وَفِي ذَلِكَ ضَرَرُ الْقَاضِي وَدُخُولُ الْفَسَادِ عَلَيْهِ. وَقِيلَ إنَّ الْهَدِيَّةَ تُطْفِئُ نُورَ الْحِكْمَةِ. قَالَ رَبِيعَةُ: " إيَّاكَ وَالْهَدِيَّةَ فَإِنَّهَا ذَرِيعَةُ الرِّشْوَةِ «وَكَانَ النَّبِيُّ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ» وَهَذَا مِنْ خَوَاصِّهِ وَالنَّبِيُّ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - مَعْصُومٌ مِمَّا يُتَّقَى عَلَى غَيْرِهِ مِنْهَا.
اور جب عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے ہدیہ کو لوٹایا واپس کر دیا جبکہ وہ عہدے قضاء پر فائز ہو چکے تھے تو ان سے کہا گیا کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہدیہ قبول کرتے تھے تو حضرت عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا کہ حضور کے لیے تو وہ ہدیہ ہوتا تھا لیکن ہمارے لیے رشوت ہوتا ہے اس لیے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے نبوت کی وجہ سے تقرب حاصل کیا جاتا تھا جو کہ ضروری اور محمود تھا اور ہمارا تقرب صرف ولایت کی وجہ سے چاہا جاتا ہے حضور سے تقرب حاصل کیا جاتا تھا اور ہمارے ساتھ تو صرف ولایت کے لیے تقرب حاصل کیا جاتا ہے
وَلَمَّا رَدَّ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْهَدِيَّةَ قِيلَ لَهُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَقْبَلُهَا. فَقَالَ: كَانَتْ لَهُ هَدِيَّةً وَلَنَا رِشْوَةً لِأَنَّهُ كَانَ يُتَقَرَّبُ إلَيْهِ لِنُبُوَّتِهِ لَا لِوِلَايَتِهِ، وَنَحْنُ يُتَقَرَّبُ إلَيْنَا لِلْوِلَايَةِ.
نبی رحمت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ لوگ اس میں حرام چیزوں کو ہدیہ سمجھ کر قبول کریں گے ہدیہ جان کر حلال سمجھیں گے اور قتل کو بطور عبرت یا بطور نصیحت کے انجام دیں گے یعنی جو بری شخص ہوگا معصوم شخص ہوگا اسے قتل کیا جائے گا تاکہ عام لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں جس شخص نے کوئی گناہ ہی نہیں کیا اسے قتل کیوں کیا؟ اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہوگا
وَقَالَ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - «يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يُسْتَحَلُّ فِيهِ السُّحْتُ بِالْهَدِيَّةِ وَالْقَتْلُ بِالْمَوْعِظَةِ، يُقْتَلُ الْبَرِيءُ لِيَتَّعِظَ بِهِ الْعَامَّةُ» .
اور انہی امور میں سے یہ بھی ہے کہ قاضی مجلس قضاء میں خرید و فروخت نہ کرے اپنی ذات کے لیے اس لیے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے قاضی شریح کو لکھا کہ تم نہ کسی کو خوش کرو نہ کسی کو تکلیف پہنچاؤ اور نہ کسی سے خرید و فروخت نہ کرو مجلس قضاء میں البتہ قاضی صاحب جنازے میں حاضر ہو سکتے ہیں مریض کی عیادت کر سکتے ہیں دعوت عامہ کو قبول کر سکتے ہیں لیکن ضروری ہے کہ عام دعوت ہو لیکن قاضی کسی بھی مجلس میں دیر تک نہ بیٹھے یعنی اپنی بیٹھنے کو طویل نہ کرے اور نہ قاضی صاحب قدرت دے کسی ایک کو کہ مجلس عام میں عدالتی معاملات کے سلسلے میں گفتگو کرے کیوں کہ عدالت کا معاملہ عدالت میں حل ہوں گے کیوں کہ دوسرا فریق اس سے قاضی پر تہمت لگا سکتا ہے، اسے غلط گردان سکتا ہے کہ قاضی صاحب وہاں مشورہ کر رہے تھے اس نے ہمارے خلاف قاضی کے کان بھرے ہوں گے اس طرح کی دیگر الزامات قاضی پر دوسرا فریق لگا سکتا ہے اور قاضی صاحب عام دعوت کو قبول کر سکتے ہیں جیسے کہ شادی ہو یا کسی کا ختنہ ہوا ہو اور پھر وہ کوئی ولیمہ کر رہا ہو تو اس دعوت میں جو کہ عام دعوت ہے وہ قاضی قبول کر سکتا ہے اور انہی لازم امور میں سے یہ ہے کہ قاضی خاص دعوت کو قبول نہ کرے اب خاص اور عام کی تحدید مصنف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جس دعوت میں دس یا دس سے کم لوگ ہوں وہ خاص دعوت ہے اسی مجلس اور اس دعوت کو قاضی صاحب قبول نہ کرے اور جس دعوت میں دس سے زیادہ لوگ ہوں وہ عام دعوت ہے اس دعوت میں قاضی شرکت کر سکتا ہے اس لیے کہ جو دس سے زیادہ لوگوں پر مشتمل ہے وہ قاضی کی وجہ سے مجلس نہیں سجائی گئی ہے بلکہ وہ دعوت عام لوگوں کے لیے بنائی گئی ہے اس لیے قاضی کا اس دعوت میں شرکت کرنا یہ قضاء کے ذریعے سےکھانے والا قاضی نہیں سمجھا جائے گا۔
وَمِنْهَا: أَنَّهُ لَا يَبِيعُ وَلَا يَشْتَرِي فِي مَجْلِسِ الْقَضَاءِ لِنَفْسِهِ لِمَا رُوِيَ عَنْ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّهُ كَتَبَ إلَى شُرَيْحٍ: " لَا تُسَارَّ وَلَا تُضَارَّ، وَلَا تَبِعْ وَلَا تَشْتَرِ فِي مَجْلِسِ الْقَضَاءِ " وَيَشْهَدُ الْجِنَازَةَ، وَيَعُودُ الْمَرِيضَ، وَيُجِيبُ الدَّعْوَةَ وَلَكِنَّهُ لَا يُطِيلُ مُكْثَهُ فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ وَلَا يُمَكِّنُ أَحَدًا يَتَكَلَّمُ بِشَيْءٍ مِنْ الْخُصُومَاتِ؛ لِأَنَّ الْخَصْمَ الْآخَرَ يَتَّهِمُهُ وَيُجِيبُ الدَّعْوَةَ الْعَامَّةَ كَالْعُرْسِ وَالْخِتَانِ. وَمِنْهَا: أَنَّهُ لَا يُجِيبُ الدَّعْوَةَ الْخَاصَّةَ، الْعَشَرَةُ وَمَا دُونَهَا خَاصَّةٌ وَمَا فَوْقَهَا عَامَّةٌ لِأَنَّ الدَّعْوَةَ الْعَامَّةَ مَا اُتُّخِذَتْ لِأَجْلِ الْقَاضِي بَلْ اُتُّخِذَتْ لِأَجْلِ الْعَامَّةِ وَلَا يَصِيرُ الْقَاضِي آكِلًا بِقَضَائِهِ.
اور انہی لازمی امور میں سے یہ ہے کہ مناسب ہے قاضی کے لیے کہ وہ تمام ضرورت کی چیزوں کے طلب سے بچے جیسے کہ ماعون ( ضرورت کی چیز جو عرفا ایک دوسرے سے عاریت مانگی جاتی ہے جیسے تیل چاول آٹا وغیرہ)اور دابہ یعنی جانور ہے ان چیزوں کے طلب سے بھی قاضی کو بچنا چاہئے ہاں ضرورت ہو تو ضرورت الگ چیز ہے لیکن خامخواہ دوسروں سے مانگتا ہے جو ضرورت کی چیزیں ہیں کھانے پینے کی چیزیں ہیں معاشرت کی چیزیں ہیں قاضی صاحب کو چاہیے کہ دوسروں سے بے نیاز رہے کیونکہ وہ زیر بار احسان کسی کا نہیں ہونا چاہیے۔
وَمِنْهَا: أَنَّهُ يَنْبَغِي لَهُ التَّنَزُّهُ عَنْ طَلَبِ الْحَوَائِجِ مِنْ مَاعُونٍ أَوْ دَابَّةٍ.
اسی طرح لازمی امور میں سے یہ ہے کہ مناسب نہیں قاضی کے لیے کہ وہ لوگوں کے پاس آئے یعنی لوگوں کے ساتھ بیٹھنا شروع کر دے راستوں میں چوراہوں پر یا دیگر مجلسوں میں مگر اس شخص کے پاس جس شخص نے اس کو ولی بنایا ہے صرف اس شخص کے پاس آ سکتا ہے اس لیے کہ جس نے قاضی کو ولی بنایا ہے وہ امیر ہو سکتا ہے اور امیر کے علاوہ جتنے بھی ہیں وہ قاضی کی رعیت ہے قاضی حاکم ہے اور وہ محکم علیہ ہے اس لیے ان کے ساتھ قاضی بیٹھنا شروع نہ کرے
وَمِنْهَا أَنَّهُ لَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَأْتِيَ إلَى أَحَدٍ مِنْ النَّاسِ إلَّا الَّذِي وَلَّاهُ وَحْدَهُ؛ لِأَنَّ مَنْ دُونَهُ رَعِيَّةٌ.
انہیں لازمی امور میں سے یہ ہے کہ مناسب ہے قاضی کے لیے کہ وہ برائی سے بچے اس لیے کہ اکثر قضاۃ کے خلاف اسی طور پر باتیں کسی جاتی ہیں اور ان پر اسی طرح چڑھ دوڑا جاتا ہے کہ ان کے عیوب جو ظاہر ہو گئے پھر ان پر باتیں کسی جاتی ہیں اور جو اس مصیبت میں پڑ گیا اسے پہچان لیا جاتا ہے
وَمِنْهَا: أَنَّهُ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَجْتَنِبَ بِطَانَةَ السُّوءِ؛ لِأَنَّ أَكْثَرَ الْقُضَاةِ إنَّمَا يَأْتِي عَلَيْهِمْ مِنْ ذَلِكَ وَمَنْ بُلِيَ بِذَلِكَ عَرَفَهُ
اور انہی لازمی امور میں سے یہ ہے کہ قاضی اپنے لیے ایک کاتب متعین کرے ایک کاتب کو چنے جو اس کے لیے کتابت کرے مجلس قضاء میں یعنی جو فریقین میں بحث و مباحثہ ہو اسے لکھ لے اور ان کی باتوں کو کسی نامے میں درج کرے۔
وَمِنْهَا أَنْ يَخْتَارَ لَهُ كَاتِبًا يَكْتُبُ لَهُ، وَيَكْتُبُ مَا يَقَعُ فِي مَجْلِسِهِ بَيْنَ الْخُصُومِ.
اور قاضی کسی بچے کو حکم کا لکھنے والا نہ بنائے نہ کسی غلام کو نہ کسی مدبر کو نہ کسی مکاتب کو نہ کسی محدود فی القذف کو نہ کسی ذمی کو بعض حضرات نے ذکر کیا ہے کہ کاتب کے میں چار خصائل کو یعنی چار چیزیں کاتب میں ہونی چاہیے عدالت، عقل، رائے اور عفت و پاک دامنی اگرچہ احکام شرعیہ کا عالم نہ ہو البتہ احکام کتابت کا عالم ہونا چاہیے جاننے والا ہونا چاہیے یہ چیز ضروری ہے
وَلَا يَجْعَلُ كَاتِبَ الْحُكْمِ صَبِيًّا وَلَا عَبْدًا وَلَا مُدَبَّرًا وَلَا مُكَاتَبًا وَلَا مَحْدُودًا فِي قَذْفٍ وَلَا ذِمِّيًّا وَقَدْ ذَكَرَ بَعْضُهُمْ فِي أَوْصَافِهِ أَرْبَعَةً وَهِيَ: الْعَدَالَةُ، وَالْعَقْلُ، وَالرَّأْيُ، وَالْعِفَّةُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ عَالِمًا بِأَحْكَامِ الشَّرْعِ فَلَا بُدَّ أَنْ يَكُونَ عَالِمًا بِأَحْكَامِ الْكِتَابَةِ.
اور بعض حضرات نے فرمایا کہ قاضی کا کاتب عادل شخص ہو فقیہ ہو اور وہ جو کچھ بھی قاضی کے سامنے لکھے قاضی کو چاہیے کہ پھر اس لکھے ہوئے مضمون کو اک نظر دیکھ لے اور متقدمین کے کلام سے ظاہر ہے کہ یہ حکم استحبابی حکم ہے کوئی واجب اور لازم نہیں ہے اور چاہیے کہ قاضی صاحب اس کاتب کو اسی جگہ پر بٹھائے کہ جہاں سے قاضی کو دکھتا ہو کہ وہ کاتب کیا لکھ رہا ہے اس لیے کہ یہ چیز تہمت کو زیادہ دور کرنے والی اور خلط ملط کرنے سے دور ہے کیونکہ جب قاضی دیکھتا ہوگا وہ کیا لکھ رہا ہے تو کاتب اگر کچھ غلط لکھے گا قاضی اسے تنبیہ کر سکتا ہے اس لیے کہ کبھی کبھی کاتب لوگ بھی رشوت لے کر دھوکا دیتے ہیں اسی کو مصنف نے فرمایا کہ کبھی کبھی رشوت لے کر دھوکہ دیا جاتا ہے پس وہ کمی زیادتی کر کے لکھے گا اور اس صورت میں لوگوں کے حقوق مارے جائیں گے۔
وَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَنْ يَكُونَ كَاتِبُهُ عَدْلًا فَقِيهًا يَكْتُبُ بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ يَنْظُرُ هُوَ فِيهِ وَظَاهِرُ كَلَامِ الْمُتَقَدِّمِينَ أَنَّ ذَلِكَ عَلَى وَجْهِ الِاسْتِحْبَابِ، وَيَقْعُدُ حَيْثُ يُرَى مَا يَكْتُبُ؛ لِأَنَّهُ أَنْفَى لِلتُّهْمَةِ وَالتَّخْلِيطِ؛ لِأَنَّهُ رُبَّمَا يُخْدَعُ بِالرِّشْوَةِ فَيَزِيدُ أَوْ يُنْقِصُ فِيمَا يَكْتُبُ فَيُؤَدِّي إلَى إبْطَالِ حُقُوقِ النَّاسِ.
اور کاتب لکھے جو کچھ مجلس قضاء میں گفت و شنید ہوئی ہے یعنی دعوی، انکار دعوی اسی طرح گواہوں کا قائم ہونا تمام کے بیانات کو درج کرے اس بات کے احتمال کی وجہ سے کہ اگر کوئی اختلاف آئندہ ان فریقین میں واقع ہو جائے اس سلسلے میں جو انہوں نے مجلس قضاء میں گفتگو کی ہے قاضی کے فیصلہ سنانے سے پہلے اور پھر ضرورت پڑے گی جو انہوں نے مجلس قضاء میں گفت و شنید کی ہے وہ کیا تھی تو اگر وہ سب کچھ درج ہوگا تو اسے دیکھا جا سکتا ہے اس کی طرف پھر مراجعت کی جا سکتی ہے کہ آپ نے یہ گفتگو مجلس قضاء میں کی ہوئی تھی اور کاتب لکھے گا فریقین کے سامنے تاکہ کاتب کو دھوکہ دہی کے ساتھ متہم نہ کیا جائے کہ ہم نے تو یہ نہیں کہا تھا اس لیے ان کے سامنے لکھے اور لکھنے کے بعد فیصلہ کے بعد ان کے مجلس قضاء سے اٹھنے سے پہلے کاتب وہ کچھ پڑھے گا جو کچھ اس نے لکھا ہے گواہوں کے متعلق یعنی جو کچھ گواہی دی گئی ہے اس مضمون کو جو رجسٹر میں درج کیا گیا ہے اس گواہی کو ان گواہوں کو سنائے گا پس اگر کچھ خلاف واقع چیز لکھی گئی ہو تو وہ اسے خبر دیں گے کہ آپ نے یہ غلط لکھا ہے ہم نے اس طرح کہا ہے تو کاتب صاحب اس کو درست کر سکتے ہیں اس کے بعد قاضی کا فریضہ یہ ہے کہ قاضی بھی اس کاتب کے لکھی ہوئی باتوں کو ایک نظر دیکھے اور اس مضمون کو پڑھے جو کاتب نے لکھا ہے اگر وہ معاملہ بالکل درست درج ہوا ہے کاتب نے صحیح طرح سے معاملہ لکھا ہو کوئی اس میں خلاف واقع بات نہ ہو بالکل وہی باتیں ہوں جو مجلس قضاء میں ہوئیں ہیں تو اب کتاب نامہ کے نیچے قاضی صاحب اپنا دستخط کرے کہ ان گواہوں نے میرے سامنے ایسی گواہی دی ہے
وَيَكْتُبُ مَا جَرَى فِي مَجْلِسِهِ مِنْ الدَّعْوَى وَالْإِنْكَارِ وَقِيَامِ الْبَيِّنَةِ لِاحْتِمَالِ أَنْ يَقَعَ الِاخْتِلَافُ فِيمَا جَرَى قَبْلَ الْقَضَاءِ فَتَمَسُّ الْحَاجَةُ إلَى الْمُرَاجَعَةِ إلَيْهِ، فَيَكْتُبُ بِحَضْرَةِ الْخَصْمَيْنِ لِكَيْ لَا يُتَّهَمَ بِتَغْرِيرٍ، وَيَقْرَأُ مَا كَتَبَ عَلَى الشَّاهِدَيْنِ، فَإِنْ كَانَ فِيهِ خِلَافٌ أَخْبَرَاهُ بِهِ، ثُمَّ يَنْظُرُ فِيهِ الْقَاضِي فَإِنْ كَانَ كَمَا جَرَى وَقَّعَ بِخَطِّهِ أَسْفَلَ الْكِتَابِ شَهِدَا عِنْدِي بِذَلِكَ.
انہی لازمی امور میں سے یہ ہے کہ قاضی ایک مترجم بھی رکھے جب اس کے پاس ایسے فریق اپنا معاملہ لے کے آئیں جو عربی کو نہ جانتے ہوں اور نہ عربی سمجھتے ہوں بس چاہیے کہ قاضی ایک بھروسہ مند مسلمان مامون شخص کو اپنا ترجمان بنائے تاکہ وہ ترجمانی کر کے ان فریقین کو قاضی کی بات سمجھا سکے جو عربی نہیں سمجھتے اس لیے خصمین جو زبان سمجھتے ہوں اسی زبان کا کوئی آدمی مترجم ہونا چاہیے اگر قاضی اردو بولنے والا ہو اور فریقین ایسے کشمیری لوگ ہیں جو اردو سمجھتے ہی نہیں تو قاضی کو چاہیے کسی ایسے آدمی کو اپنا ترجمان بنائے جو کشمیری زبان بھی سمجھا سکتا ہو تاکہ وہ کشمیریوں کو کشمیری میں بات سمجھا سکے ( کشمیری اردو بھی سمجھتے ہیں) لیکن اس کے لیے وہی شرائط ہیں کہ بھروسے مند ہو مسلمان ہو اور مامون ہو جس سے لوگ مطمئن ہوں بلکہ مصنف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں میرے نزدیک یہ زیادہ محبوب ہے کہ دو آدمیوں کو مترجم چنے بعد اس کے کہ کی دونوں عادل ہوں جیسا کہ حضرت امام اعظم ابو حنیفہ اور حضرت امام یوسف کا مسلک ہے لیکن دو شخصوں کا ہونا مستحب ہے ورنہ ایک بھی چلے گا
وَمِنْهَا: أَنَّهُ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَتَّخِذَ مُتَرْجِمًا، وَإِذَا اخْتَصَمَ إلَيْهِ مَنْ لَا يَتَكَلَّمُ بِالْعَرَبِيَّةِ وَلَا يَفْهَمُ عَنْهُ فَلْيُتَرْجِمْ عَنْهُ ثِقَةٌ
مُسْلِمٌ مَأْمُونٌ، وَالِاثْنَانِ أَحَبُّ إلَيْنَا بَعْدَ أَنْ يَكُونَ عَدْلًا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ.
اسی طرح امام شافعی اور امام محمد رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک ضروری ہے کہ ترجمان بھی دو آدمی یا دو عورتیں چاہیے اور وہ بھی عادل ہوں اسی طرح جب قاضی کا قاصد کسی عادل شخص کے پاس جائے تو وہ بھی ان کے نزدیک دو ہونے چاہئیں
وَقَالَ مُحَمَّدٌ وَالشَّافِعِيُّ: لَا يَجُوزُ إلَّا رَجُلَانِ وَامْرَأَتَانِ فَكَذَلِكَ الْعَدْلُ، وَرَسُولُ الْقَاضِي إلَى الْعَدْلِ الْوَاحِدِ يَكْفِي عِنْدَهُمَا." مِنْ الْمُحِيطِ ".
انہی لازمی امور میں سے ہیں کہ قاضی اپنے لیے ایک دیندار امانت دار عادل اور نیک اور صاف ستھرے آدمی کو رازدار بنائے تاکہ شعبہ قضاء میں وہ اس سے مدد لے سکے اور اس کے ذریعے تقویت حاصل کرے ان معاملات کے حل کرنے میں جن کا اس نے ارادہ کیا ہے اور وہ رازدار لوگ بھی قاضی کا بوجھ ہلکا کریں ان معاملات میں جن میں وہ مدد کا محتاج ہوتا ہے اور وہ معاملات جیسے کہ وصایا میں غور و فکر کرنا وقف شدہ چیزوں میں غور و فکر کرنا تقسیم کاری میں غور و فکر کرنا اسی طرح یتیموں اور دیگر لوگوں کے اموال میں غور و فکر کرنا جو غور و فکر کے محتاج ہوتے ہیں۔
وَمِنْهَا: أَنَّهُ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَسْتَبْطِنَ أَهْلَ الدِّينِ وَالْأَمَانَةِ وَالْعَدَالَةِ وَالنَّزَاهَةِ لِيَسْتَعِينَ بِهِمْ عَلَى مَا هُوَ بِسَبِيلِهِ وَيَقْوَى بِهِمْ عَلَى التَّوَصُّلِ عَلَى مَا يَنْوِيهِ، وَيُخَفِّفُوا عَنْهُ فِيمَا يَحْتَاجُ إلَى الِاسْتِعَانَةِ فِيهِ مِنْ النَّظَرِ فِي الْوَصَايَا وَالْأَحْبَاسِ وَالْقِسْمَةِ وَأَمْوَالِ الْأَيْتَامِ وَغَيْرِ ذَلِكَ مِمَّا يُنْظَرُ فِيهِ.
انہی لازمی امور میں سے ضروری ہے کہ قاضی نیک اور متقی لوگوں کو اپنا مشیر اور اپنا معاون بنائے اس لیے کہ آدمی کی شخصیت پر اس کے دوستوں اور اس کے غلاموں کے ذریعے ہی استدلال کیا جاتا ہے اور قاضی ان کو حکم دے نرمی و خفت کا مگر بغیر کسی ضعف و کمزوری اور بغیر کسی کمی بیشی کے یعنی ایسی نرمی اور ایسی خفت نہ ہو جس سے امور قضاء میں ضعف اور کمی یا نقصان ہو جائے اس لیے اس کا بھی خیال رکھنا ہے تو ضروری ہے قاضی کے لیے کہ وہ ایسے مشیر اور ایسے معاون چنے جو اس کے ارد گرد رہیں تاکہ جہاں فریقین میں ڈانٹ ڈپٹ اور سرزنش کی ضرورت پڑے تو وہ فریقین کو ڈانٹ ڈپٹ کریں اور مناسب ہے کہ قاضی جہاں تک ہو سکے ان کے ساتھ یعنی فریقین کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرے۔
وَمِنْهَا: أَنَّهُ يَجِبُ أَنْ يَكُونَ أَعْوَانُهُ فِي زِيِّ الصَّالِحِينَ، فَإِنَّهُ يُسْتَدَلُّ عَلَى الْمَرْءِ بِصَاحِبِهِ وَغُلَامِهِ، وَيَأْمُرَهُمْ بِالرِّفْقِ وَاللِّينِ فِي غَيْرِ ضَعْفٍ وَلَا تَقْصِيرٍ، فَلَا بُدَّ لِلْقَاضِي مِنْ أَعْوَانٍ يَكُونُونَ حَوْلَهُ لِيَزْجُرُوا مَنْ يَنْبَغِي زَجْرُهُ مِنْ الْمُتَخَاصِمَيْنِ، وَيَنْبَغِي أَنْ يُخَفِّفَ مِنْهُمْ مَا اسْتَطَاعَ.
حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ قاضی کا اپنے لیے پولیس یا اسی طرح محافظ کو چننا اس کو ناپسند کرتے تھے لیکن جب حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ خود قضاء کے والی بنے اور الجھن میں پڑھ گئے ان معاملات میں جو لوگوں کی طرف سے اس کے یہاں پیش آئے تو پھر فرمانے لگے بادشاہ و قاضی کے لیے وزراء اور اسی طرح معاونین کا ہونا ضروری ہے اور اگر قاضی معاونین سے بے نیاز رہے تو یہ صورت زیادہ ہی بہتر ہے
وَقَدْ كَانَ الْحَسَنُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - يُنْكِرُ عَلَى الْقُضَاةِ اتِّخَاذَ الْأَعْوَانِ، فَلَمَّا وَلِيَ الْقَضَاءَ وَشَوَّشَ عَلَيْهِ مَا يَقَعُ مِنْ النَّاسِ عِنْدَهُ قَالَ: لَا بُدَّ لِلسُّلْطَانِ مِنْ وَزَعَةٍ، وَإِنْ اسْتَغْنَى عَنْ الْأَعْوَانِ أَصْلًا كَانَ أَحْسَنَ.
بعض حضرات نے فرمایا کہ قاضی کے معاونین ثقہ بھروسہ مند اور مامون لوگ ہی ہوں اس لیے کہ بعض مرتبہ فریقین و مخاصمین ان چیزوں پر مطلع ہو جاتے ہیں کہ فریقین میں سے کسی کو ان پر مبتلا ہونا مناسب نہیں ہوتا اور کبھی کبھی منع کے سلسلے میں یا اجازت دینے کے سلسلے میں رشوت دی لی جاتی ہے اس لیے اگر مامون بھروسے مند ہوں گے تو رشوت نہیں لیں گے کسی کو اندر داخل ہونے کی اجازت یا اندر داخل ہونے سے روکنے میں وہ غلطی نہیں کریں گے اسی طرح کبھی کبھی اندیشہ ہوتا عورتوں پر کہ وہ جھگڑا کریں قاضی کے ساتھ اس لیے معاون کی ضرورت پڑتی ہے پس ہر وہ شخص جس سے قاضی اپنے قضاء اور مشورے میں مدد لے ضروری ہے کہ وہ بھروسے مند اور مامون شخص ہوں
قَالَ بَعْضُهُمْ: وَلَا يَكُونُ الْعَوِينُ إلَّا ثِقَةً مَأْمُونًا، لِأَنَّهُ قَدْ يُطْلِعُ الْخُصُومَ عَلَى مَا لَا يَنْبَغِي أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِ أَحَدُ الْخَصْمَيْنِ، وَقَدْ يُرْشَى عَلَى الْمَنْعِ وَالْإِذْنِ، وَقَدْ يُخَافُ مِنْهُ عَلَى النِّسْوَانِ إذَا احْتَجْنَ إلَى خِصَامٍ، فَكُلُّ مَنْ يَسْتَعِينُ بِهِ الْقَاضِي عَلَى قَضَائِهِ وَمَشُورَتِهِ لَا يَكُونُ إلَّا ثِقَةً مَأْمُونًا.
No comments:
Post a Comment