اور اگر وہ حکم قاضی سے بھولے یا غلطی سے صادر ہوا ہے تو اس حکم کو توڑے گا وہ شخص جو قاضی کے بعد دوسرا قاضی ہو جیسا کہ خود وہ قاضی اس توڑتا اگر اس قاضی کو پتہ چلتا۔
وَقَدْ يَذْكُرُ الْقَاضِي فِي حُكْمِهِ الْوَجْهَ الَّذِي بَنَى عَلَيْهِ حُكْمَهُ فَيُوجَدُ مُخَالِفًا لِنَصٍّ أَوْ إجْمَاعٍ فَيُوجِبُ فَسْخَهُ، وَكَذَلِكَ إذَا قَامَتْ بَيِّنَةٌ عَلَى أَنَّهَا عُلِمَتْ بِقَصْدِهِ بِغَيْرِ مَا وَقَعَ وَإِنْ كَانَ هَذَا الْحُكْمُ وَقَعَ مِنْهُ سَهْوًا أَوْ غَلَطًا فَيَنْقُضُهُ مَنْ بَعْدَهُ كَمَا يَنْقُضُهُ هُوَ.
ابھی تک بات چل رہی تھی کہ اگر پہلا قاضی عادل ہو اور عالم ہو تو اس کا حکم ذکر کیا گیا کہ اس کا حکم یہ ہے کہ قاضی ثانی پہلے قاضی عادل اور عالم کا حکم ہرگز نہیں توڑ سکتا پھر درمیان میں علامہ ابو حامد رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی بات آئی کہ انہوں نے فرمایا کہ اگر ایسا قاضی ہو جو مخفی الذکر ( گمنام)ہو جس کے بارے میں، جس کے فیصلوں کے بارے میں کوئی پتہ نہ ہو کہ وہ حق کے موافق فیصلہ کرتا ہے یا حق کے مخالف تو وہاں علامہ ابو حامد رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا کہ اس کے فیصلوں کو قاضی ثانی بطور تجویز تو دیکھ سکتا ہے لیکن بطور تحقیق غور و فکر نہیں کر سکتا ہے اور بطور تعاقب بھی غور و فکر نہیں کر سکتا ہے اب یہاں سے مصنف رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ اگر قاضی عادل تو ہو لیکن جاہل ہے پہلا قاضی عادل بھی تھا اور عالم بھی اب یہ دوسرا قاضی عادل تو ہے لیکن ہے جاہل تو اس کے بارے میں مصنف رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ بہر صورت اس کے فیصلوں کو غور و فکر سے دیکھا جائے گا اور ان کی چھان بین اور تحقیق کی جائے گی جو فیصلے ان میں سے صحیح ہوں گے ان فیصلوں کو برقرار رکھا جائے گا اور جو فیصلے ان میں سے صریح غلط ہوں تو ان کے رد کرنے میں کسی کا اختلاف نہیں۔
وَأَمَّا الْقَاضِي الْعَدْلُ الْجَاهِلُ: فَإِنَّ أَقْضِيَتَهُ تُكْشَفُ، فَمَا كَانَ مِنْهَا صَوَابًا أُمْضِيَ، وَمَا كَانَ خَطَأً بَيِّنًا لَمْ يُخْتَلَفْ فِي رَدِّهِ.
اب یہاں سے مصنف رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ اگر قاضی ظالم تھا اور وہ اپنی اس خوئے بد سے معروف و مشہور تھا اور وہ اپنے حالات اور اپنی سیرت میں غیر منصف تھا قطع نظر اس سے کہ وہ عالم ہے یا جاہل، قطع نظر اس سے کہ اس کا ظلم ظاہر ہے یا مخفی، اس کے ان فیصلوں کو توڑا جائے گا جس میں اس کا ظلم ظاہر ہو یا اس کا ظلم مخفی غیر واضح ہو، اور اس قاضی کے فیصلوں میں غور و فکر اور تحقیق سے کام لیا جائے گا جیسے کہ جاہل عادل قاضی کے فیصلوں میں غور و فکر اور تحقیق سے کام لیا جاتا ہے، ہاں مگر یہ کہ جب قاضی اپنے تمام فیصلوں میں ظلم و جور کے ساتھ معروف و مشہور ہو تو تب قاضی کے ان تمام فیصلوں کو توڑا جائے گا جن میں اس نے ظلم و جور سے کام لیا ہو یا جن میں اس کی حالت مخفی ہو معلوم نہ ہو۔
وَأَمَّا الْقَاضِي الْجَائِرُ فِي أَحْكَامِهِ: إذَا كَانَ مَعْرُوفًا بِذَلِكَ وَكَانَ غَيْرَ عَدْلٍ فِي حَالِهِ وَسِيرَتِهِ عَالِمًا كَانَ أَوْ جَاهِلًا ظَهَرَ جَوْرُهُ أَوْ خَفِيَ فَيُنْقَضُ مِنْهَا مَا تَبَيَّنَ فِيهِ جَوْرُهُ أَوْ اُسْتُرِيبَ وَلَمْ يَتَحَقَّقْ وَيَعْمَلْ فِيهِ بِالْكَشْفِ كَمَا يَصْنَعُ بِأَقْضِيَةِ الْجَاهِلِ، إلَّا أَنْ يُعْرَفَ الْقَاضِي فِيهِ بِالْجَوْرِ وَالْحَيْفِ فِي أَحْكَامِهِ كُلِّهَا أَوْ بَعْضِهَا فَتُرَدُّ أَحْكَامُهُ كُلُّهَا مَا عُرِفَ بِالْجَوْرِ فِيهَا أَوْ جُهِلَ.
یہاں سے مصنف رحمۃ اللہ تعالی علیہ بعض الناس کہہ کر بتانا چاہتے ہیں اوربعض الناس سے مراد علامہ حبیب عبد الملک مالکی ہیں، چنانچہ علامہ حبیب مالک مالکی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا کہ ایک قاضی کے لیے جائز نہیں کہ پہلے قاضی کے فیصلوں میں غور و فکر اور تحقیق کرنے لگ جائے۔
قَالَ بَعْضُ الْعُلَمَاءِ: لَا يَجُوزُ لِلْقَاضِي أَنْ يَنْظُرَ فِي أَقْضِيَةِ غَيْرِهِ
پھر اس پر اعتراض کیا گیا کہ حضرت اگر کوئی شخص کسی قاضی کے پاس حجت قائم کرے کہ قاضی صاحب یہ پہلے قاضی صاحب کا فیصلہ ہے جس میں اس کا ظلم و جور واضح اور مبین ہے، تو کیا پہلے قاضی کا فیصلہ پھر بھی نہیں تھوڑا جائے گا اس کے بعد علامہ حبیب عبد الملک مالکی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس حکم کے سلسلے میں یہ تفصیل بیان کی کہ اگر قاضی اول نے مفصل اور مفسد ( جس میں فساد واضح ہو )فیصلہ کیا ہو تو پھر قاضی اول کا فیصلہ ہر صورت میں توڑ دیا جائے گا اور اگر قاضی نے مجمل اور مبہم فیصلہ کیا ہو تو پھر دوسرے قاضی کو اس میں تحقیق کرنے کی گنجائش نہیں ہے مفصل، مفسد کا مطلب ہے کہ قاضی کے فیصلے میں واضح ظلم و جور مترشح ہو جیسے کہ قاضی نے کسی فیصلے میں نصرانی یا کسی غیر مسلم کی شہادت پر فیصلہ کر دیا یا اسی طرح بغیر کسی گواہ، بغیر کسی اقرار کے بطلان مہر کا فیصلہ کر دیا، یا اسی طرح عنین کو ایک سال کی مہلت ملتی ہے اور قاضی نے عدم تأجیلِ عنین کا فیصلہ کر دیا تو ظاہر ہے کہ یہ واضح مفصل اور مفسد فیصلہ ہے اس لیے اس فیصلے کو توڑ دیا جائے گا۔
وَقِيلَ: فَإِنْ قَامَ عِنْدَهُ قَائِمٌ وَقَالَ: هَذَا الْكِتَابُ الْقَاضِي قَدْ حَكَمَ فِيهِ بِجَوْرٍ بَيِّنٍ قَالَ: أَرَى أَنْ يَنْظُرَ فِيهِ، فَإِنْ تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ حَكَمَ بِجَوْرٍ وَوَجَدَهُ فِي الْقَضَاءِ مُفْسِدًا مِثْلَ أَنْ يَقْضِيَ بِشَهَادَةِ نَصْرَانِيٍّ أَوْ مِثْلَ أَنْ يُبْطِلَ الْمَهْرَ مِنْ غَيْرِ بَيِّنَةٍ وَلَا إقْرَارٍ أَوْ بِعَدَمِ تَأْجِيلِ الْعِنِّينِ وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ، فَأَرَى أَنْ يَفْسَخَهُ.
اور مجمل اور مبہم کا مطلب ہے کہ قاضی کا ایسا فیصلہ جس میں ظلم و جور واضح نہ ہو جیسے کہ قاضی نے یہ کہتے ہوئے فیصلہ کیا کہ میرے پاس گواہوں نے گواہی دی اور میں نے ان کی گواہی کو لیتے ہوئے یہ فیصلہ کیا اب ظاہر ہے گواہ کون تھے ان کا نام کیا تھا یہ ظاہر نہیں کیا،اور گواہوں نے کیا گواہی دی یہ بھی قاضی نے ظاہر نہیں کیا تو یہ مجمل اور مبہم فیصلہ ہے اس سلسلے میں علامہ حبیب عبد الملک مالکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس میں قاضی ثانی کو غور و فکر اور تحقیق کی اجازت نہیں ہے۔
وَأَمَّا إنْ وَجَدَ الْقَضَاءَ بِمَا لَمْ يَتَبَيَّنْ فِيهِ الْجَوْرُ وَلَا الْخَطَأُ الصِّرَاحُ مِثْلَ أَنْ يَجِدَ فِيهِ شَهِدَتْ عِنْدِي بِذَلِكَ بَيِّنَةٌ فَقَبِلْتهَا وَرَأَيْتُ أَنَّ الْحَقَّ لِفُلَانٍ فَقَضَيْتُ لَهُ بِمَا تَبَيَّنَ لِي، فَلَا أَرَى لَهُ أَنْ يَنْظُرَ فِيهِ.
بعض حضرات نے فرمایا ( اس سے مراد قاضی اسماعیل مالکی ہے) کہ علامہ حبیب عبد الملک مالکی نے جو فرمایا کہ اگر قاضی نے مجمل اور مبہم فیصلہ کیا ہو تو قاضی ثانی کو اس میں غور و فکر اور تحقیق کی اجازت نہ ہوگی اس فیصلے کو صحت پر محمول کیا جائے جس میں قاضی اول کا ظلم و جور واضح نہ ہو اس لیے کہ اس جیسے حکم جو صحیح ہو اور جس میں قاضی کا ظلم وجور واضح نہ ہو اس جیسے حکم کے ساتھ تعرض کرنا اس میں عام لوگوں کو بھی ضرر ہے اور اس میں قاضی کے حکم کو ہلکا گرداننا بھی ہے۔
قَالَ بَعْضُهُمْ: وَيُحْمَلُ الْقَضَاءُ عَلَى الصِّحَّةِ مَا لَمْ يَتَبَيَّنْ الْجَوْرُ، وَفِي التَّعَرُّضِ لِذَلِكَ ضَرَرٌ بِالنَّاسِ وَوَهَنٌ لِلْقُضَاةِ.
کیونکہ ایسے سے بہت کم قاضی ہیں جن کے دشمن نہیں ہوتے کیونکہ کوئی قاضی ایسے دشمنوں سے بر نہیں ہے جو دشمن اسے ظلم و جور کے ساتھ متصف نہ جانتے ہوں ظاہر ہے قاضی نے جب فریقین میں کوئی فیصلہ کیا تو جس کے حق میں فیصلہ کیا وہ تو قاضی سے راضی ہے اور جس کے خلاف فیصلہ کیا گیا ہے وہ قاضی کا دشمن ہو جاتا ہے، اس کے دل میں قاضی کے لیے فطرۃ ایک عجیب سی ایک رنجش، ایک گٹھن پیدا ہو جاتی ہے الا ماشاء اللہ بس اگر قاضی مرجاتا ہے یا معزول ہو جاتا ہے تو وہ قاضی سے اس کے فیصلے کو توڑ کر انتقام لینے کی در پہ کھڑے رہتے ہیں اس لیے مناسب نہیں سلطان و بادشاہ کے لیے کہ وہ لوگوں کو ایسا موقع فراہم کرے، لوگوں کو ایسا موقع دے یا ایسی قدرت دے۔
قَالَ: فَإِنَّ الْقَاضِيَ لَا يَخْلُو مِنْ أَعْدَاءٍ يَرْمُونَهُ بِالْجَوْرِ، فَإِذَا مَاتَ أَوْ عُزِلَ قَامُوا يُرِيدُونَ الِانْتِقَامَ مِنْهُ بِنَقْضِ أَحْكَامِهِ، فَلَا يَنْبَغِي لِلسُّلْطَانِ أَنْ يُمَكِّنَهُمْ مِنْ ذَلِكَ.
قلت! سے علامہ طرابلسی کو اعتراض ہے فرماتے ہیں کہ علامہ حبیب مالک مالکی نے جو اوپر فرمایا وہ تو سب درست ہے، سب واضح ہے، مگر یہ کہ علامہ حبیب مالکی نے جو دوسری قسم بیان کی کہ اگر قاضی نے مجمل اور مبہم فیصلہ کیا یہ کہہ کر کہ گواہوں نےمیرے پاس گواہی دی اور میں نے قبول کی اس سلسلے میں جو علامہ حبیب مالکی نے فرمایا کہ یہ مبہم فیصلہ قبول ہے اور قاضی ثانی کو ایسے فیصلے میں غور و فکر اور تحقیق کی اجازت نہیں ہے اس کے بارے میں علامہ طرابلسی رحمتہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے اس میں اعتراض ہے وہ یہ کہ کبھی کبھی تو وہ غیر عادل گواہوں کو بھی قبول کرے گا اس لیے مناسب ہے کہ اس میں بھی غور و فکر کی اجازت ہونی چاہیے بس اگر قاضی اول نے ان گواہوں کے نام بھی بیان کر دیے اور ان کی عدالت بھی ظاہر کر دی گئی تو پھر مناسب نہیں کہ قاضی اول کے فیصلے کو فسخ کیا جائے وگرنہ قاضی اول کے فیصلے کو رد کرنا اور فسخ کرنا ہی مناسب ہے اجمال کے ساتھ۔
قُلْت: وَمَا قَالَهُ بَيِّنٌ إلَّا قَوْلَهُ " شَهِدَتْ بِذَلِكَ بَيِّنَةٌ فَقَبِلْتهَا، فَفِيهِ نَظَرٌ.
فَقَدْ يُقْبَلُ غَيْرُ الْعُدُولِ، وَإِنَّمَا الَّذِي يَنْبَغِي أَنْ يُنْظَرَ فَإِنْ صَرَّحَ بِأَسْمَاءِ الشُّهُودِ وَهُمْ عُدُولٌ وَبَيَّنَ وَجْهَ الْحُكْمِ فَلَا يَنْبَغِي أَنْ يُفْسَخَ، وَأَمَّا مَعَ الْإِجْمَالِ فَلَا.
فصل۔
یہ فصل ان احکام کے سلسلے میں ہے جن کو نافذ نہیں کیا جا سکتا ہے جب ان پر مطلع ہوا جائے، اور ان احکام کے سلسلے میں جن کو نافذ کیا جا سکتا ہے۔
مصنف رحمتہ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ آٹھ جگہیں ہیں جن میں پہلے قاضی کے فیصلوں کو نافذ نہیں کیا جا سکتا ہے بلکہ جب قاضی ثانی کے پاس قاضی اول کے وہ فیصلے آ جائیں تو قاضی ثانی پر لازم و ضروری ہے کہ وہ قاضی اول کے کیے ہوئے فیصلوں کو رد کرے اور ان کو توڑ دے۔
[فَصْلٌ فِيمَا لَا يَنْفُذُ مِنْ أَحْكَامِ الْقَاضِي]
(فَصْلٌ) :
فِيمَا لَا يَنْفُذُ مِنْ أَحْكَامِ الْقَاضِي وَيُنْقَضُ إذَا اُطُّلِعَ عَلَيْهِ وَفِيمَا يَنْفُذُ
ثَمَانِيَةُ مَوَاضِعَ يَلْزَمُ الْقَاضِيَ أَنْ يَرُدَّ حُكْمَ قَاضٍ قَبْلَهُ:
نمبر ایک مسئلہ ہے کہ دو شخصوں کے پاس ایک غلام مشترک تھا یعنی دو شخص ایک غلام کے مالک تھے آدھا ایک کا آدھا دوسرے شخص کا،اب ان میں سے ایک شخص اپنے غلام کو آزاد کر رہا ہے چونکہ عتق میں تجزی نہیں اگرچہ اعتاق میں تجزی ہے لیکن چونکہ عتق میں تجزی نہیں اس لیے جب ایک نے آزاد کر دیا تو دوسرے کے حصے کا بھی خود بخود آزاد ہو جائے گا اب مسئلہ یہ ہے جیسا کہ ابو داؤد میں حدیث شریف کے ضمن میں تفصیلاً اس کی وضاحت آتی ہے کہ جب ایک نے آزاد کیا تو دوسرے کی طرف سے خود بخود آزاد ہو گیا حالانکہ دوسرے کی مرضی تھی نہیں تو اب کیا کیا جائے اس سلسلے میں مسئلہ یہ ہے کہ اگر آزاد کرنے والا مالدار ہو اور وہ طاقت رکھتا ہو تو پھر وہ اپنی طرف سے وہ قیمت ادا کرے گا جو دوسرے شخص کی حصے میں آتی ہو یعنی جتنا دوسرے شخص کو نقصان ہوا ہے وہ قیمت ادا کرے گا اور اگر آزاد کرنے والا معسر ہو تنگدست ہو تو پھر غلام سے سعایا کرایا جائے گا یعنی غلام سے کہا جائے گا آپ اتنی رقم کما کے لاؤ اور دوسرے مالک کو دو جن کا نقصان ہوا جا رہا ہے۔
لیکن یہاں مصنف اس مسئلے کی ایک الگ نوعیت بیان کر رہے ہیں وہ یہ کہ ایک شخص نے مشترک غلام کو اپنی طرف سے آزاد کر دیا وہ دوسرے کی طرف سے بھی آزاد ہو رہا تھا لیکن دوسرے شخص نے اس کو تیسرے شخص کے ہاتھ میں فروخت کر دیا اور پھر قاضی صاحب کے پاس مسئلہ آیا، مسئلہ یہ آیا قاضی صاحب کے پاس کہ فلاں غلام کو آزاد کیا گیا وہ مشترک تھا دو آدمی کے درمیان ایک نے آزاد کیا دوسرے کی طرف سے وہ آزاد ہوا لیکن اس دوسرے آدمی نے اس کوفلاں شخص کے ہاتھ بیچ دیا تو قاضی صاحب نے دوسرے شخص کی بیع کی صحت کا فیصلہ سنا دیا، حالاں کہ یہ غلط ہے، سرے سے غلط ہے کیونکہ جب ایک نے آزاد کیا دوسرے کی طرف سے تو آزاد ہو گیا اب وہ اس کو بیچنے کا مالک ہے ہی نہیں تو قاضی نے یہ جو بیع کی صحت کا فیصلہ کیا یہ غلط ہے تو ایسا فیصلہ اگر دوسرے قاضی کے پاس آتا ہے تو دوسرے قاضی پر لازم و ضروری ہے کہ وہ پہلے قاضی کے فیصلے کو رد کر دے اور اس بیع کی صحت کو توڑ دے اور اس کے بارے میں مردود ہونے کا فیصلہ سنا دے،پس جب یہ فیصلہ کسی حنفی قاضی کے پاس آئے تو وہ اس فیصلے کو باطل قرار دے۔
عَبْدٌ بَيْنَ اثْنَيْنِ أَعْتَقَهُ أَحَدُهُمَا وَهُوَ مُعْسِرٌ فَبَاعَ السَّاكِتُ نَصِيبَهُ فَقَضَى قَاضٍ بِجَوَازِهِ، فَإِذَا رُفِعَ إلَى قَاضٍ حَنَفِيٍّ أَبْطَلَهُ.
No comments:
Post a Comment