باسمه تعالی
دار القضاء امارت شرعیہ، مدرسہ اسلامیہ بتیا مغربی چمپارن بهار (الہند)
معاملہ نمبر ٤٥/۱۸۶۹ ١٤٤٥ھ
گلشن آرا بنت طاہر عالم مرحوم مقام کالی باغ وارڈ ١٠ نزد امام باڑہ ڈاکخانہ بتیا بلاک بتیا ضلع مغربی چمپارن فریقِ اول پن کوڈ 845438 موبائل 8507507561/6200937282
بنام
محمد سرتاج ولد محمد آفتاب عالم مقام گلاب چوک ڈاکخانہ بیریا بلاک ضلع مغربی چمپارن فریق دوم
پن کوڈ موبائل 9540632569
معاملہ ہذا مورخه ۱٤٤۵/۵/۱۸ھ کو ذیلی دار القضاء مدرسہ اسلامیہ بتیا مغربی چمپارن بہار ( الہند) میں بابت فسخِ نکاح دائر نمبر ہوا، حسب ضابطہ کارروائی ہوئی،اطلاع مع مثنی درخواست دعویٰ بنام فریق دوم ، بذرایہ رجسٹری ڈاک جاری ہوئی اور اس سے مؤرخہ ١٠/ جمادی الثانی ١٤٤٥ھ مطابق ٢٤/ دسمبر ٢٠٢٣ء تک بیان تحریری طلب کیا گیا، فریق دوم کی جانب سے پدر فریق دوم نے بیان تحریری داخل داخل دار القضاء کر دیا، لہذا تاریخ ساعت ۱۲ رجب المرجب ۱۴٤۵ھ مطابق ٢٥ جنوری ٢٠٢٤ء روز جمعرات مقرر کی گئی اور فریقین مع گواہان و ثبوت برائے اثبات دعوی و رفع الزام طلب کیے گیے ، مذکورہ تاریخ پر کوئی فریق حاضر نہیں آیا اور نہ کوئی پیروی کی لہذا آئندہ تاریخ سماعت ۲۰ شوال المکرم ۱٤٤۵ھ مطابق ٣٠/ اپریل ٢٠٢٤ء روز منگل مقرر کی گئی، فریق اول ۲۱ شوال المکرم ١٤٤٥ھ کو گواہان کے ساتھ دار القضاء حاضر آئی ان سب کے بیانات قلمبند کئے گئے، فریق دوم نہ حاضر آیا اور نہ اس نے کوئی پیروی کی لہذا فریق دوم کو ایک اور موقع دیتے ہوئے آئندہ تاریخ سماعت ۴ /ذی الحجہ ١٤٤۵ھ مقرر کی گئی اور اس پر واضح کر دیا گیا کہ مذکورہ تاریخ پر حاضر نہ ہونے کی صورت میں معاملہ ہذا کا تصفیہ کر دیا جائے گا، فریق اول کو بھی اصالۃً یا وکالۃً طلب کیا گیا ، مذکورہ تاریخ پر فریق اول اصالۃً حاضر آئی ، فریق دوم حاضر نہیں آیا اور نہ اس نے کوئی پیروی کی جب کہ اس پر واضح کر دیا گیا تھا کہ مذکورہ تاریخ پر حاضر نہ ہونے کی صورت میں معاملہ ہذا کا تصفیہ کر دیا جائے گا، اس کے باوجود وہ حاضر نہیں آیا اور نہ کوئی پیروی کی، بعدہٗ یہ مسل مع رپورٹ برائے تصفیہ مرکزی دار القضاء موصول ہوئی، اور یہاں سے کارروائی ختم کر دی گئی،اب یہ مسل میرے سامنے برائے تصفیہ پیش ہے۔
فریق اول گلشن آرا بنت محمد طاہر عالم مرحوم کے بیان عند القضاء کا خلاصہ ہے کہ اس کا نکاح فریق دوم محمد سرتاج ولد محمد آفتاب عالم سے ١٩ فروری ٢٠١٧ء کو بعوض زر مہر سات ہزار سات سو چھیاسی روپئے ہوا، نکاح کے بعد رخصت ہو کر وہ سسرال گئی اور ایک ہفتہ کے بعد اپنے شوہر کے ہمراہ دہلی چلی گئی پانچ مہینے دس دن دہلی میں شوہر کے ساتھ رہی اس درمیان فریق دوم کا برتاؤ اس کے ساتھ ٹھیک نہیں رہا فریق دوم شراب پی کر آتا اور اس کے ساتھ مار پیٹ کرتا تھا ہاتھ سے چہرے اور پیٹھ پر مارتا تتھا، ب فریق اول حمل سے تھی تو سب کی رضامندی سے وہ اپنے میکہ آئی اور جب بچی کی پیدائش ہوئی تو اس کے بعد فریق دوم یا اس کے گھر والے کوئی بھی خیر خبر لینے نہیں آئے اور نہ رخصت کرانے کے لیے آئے حالاں کہ جس وقت وہ اپنے سسرال یعنی دہلی سے میکے آ رہی تھی تو فریق دوم شوہر نے یہ کہا تھا کہ بچے کی پیدائش کے بعد لے رخصت کرانے کے لیے آوں گا، لیکن فریق دوم رخصت کرانے کے لیے نہیں آیا،اور فریق اول اپنے میں پانچ سال تک رہی، ابھی ڈیڑھ سال قبل فریق دوم کے کہنے پر وہ دہلی گئی دہلی جانے کے بعد معلوم ہوا کہ فریق دوم نے دوسری شادی کر لی ہے جب اس نے فریق دو شوہر سے یہ معلوم کیا تو فریق دوم نے اس کے ساتھ مار پیٹ شروع کر دی، وہ تنگ آ کر اسی طرح اپنی بچی کے ساتھ زندگی بسر کرتی رہی اور تکلیف کو برداشت کرتی رہی یہاں تک کہ فریق دوم اسے چھوڑ کر بھاگ گیا اور پھر دوبارہ اس کے پاس نہیں آیا چھ سال کا عرصہ گذر گیا ہے فریق اول،فریق دوم کی جانب سے ہر طرح کے حقوق کھانا خرچہ، حق زوجیت سے محروم ہے صرف بیچ میں تین مہینے جو ان کے ساتھ دہلی میں دوبارہ جا کر گذارے ہیں اسی درمیان کچھ حقوق ادا کئے، باقی ادھر ایک سال ہو گیا کہ فریق اول مستقل اپنے میکے میں ہے فریق دوم سے فریق اول کو ایک بچی جس کا نام زارہ صدیقی عمر چھ سال ہے اس بچی کا بھی کچھ خیال فریق دوم نے نہیں کیا اور نہ ہی خرچہ وغیرہ دیا اور فریق دوم کا کہنا ہے کہ کب تک وہ اس طرح کی زندگی بسر کرتی رہے گی وہ اب کسی بھی حال میں فریق دوم کے ساتھ رہنے کے لیے تیار نہیں ہے اس لیے قاضی شریعت سے گزارش کرتی ہے کہ اس کا نکاح فریق دوم شوہر سے فسخ کر دیا جائے، فریق اول جوان العمر ہے گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ لگا رہتا ہے، اس لیے اس کے حال پر رحم کھا کر اس کا نکاح فریق دوم سے فسخ کر دیا جائے۔
فریق اول گلشن آرا بنت طاہر عالم کے بیان عند القضاء سے حسب ذیل دعاوی ثابت ہوتے ہیں۔
(١)اس کا نکاح فریق دوم محمد سرتاج ولد محمد آفتاب عالم سے ١٩/ فروری ٢٠١٧ ء کو بعوض زر مہر سات ہزار سات سو چھیاسی روپئے ہوا، اور نکاح کے بعد رخصت ہو کر وہ سسرال بھی گئی۔
(٢) فریق دوم کا برتاؤ فریق اول سے ٹھیک نہیں رہا،فریق دوم شراب پی کر آتا اور فریق اول کے ساتھ مار پیٹ کرتا تھا، ہاتھ سے چہرے اور پیٹھ پر مارتا تھا۔
(٣) جب فریق دوم حمل سے تھی تو وہ سب کی رضامندی سے اپنے میکے آئی لیکن بچی کی پیدائش کے بعد فریق دوم یا اس کے گھر والے کوئی بھی کھوج خبر لینے کے لیے نہیں آئے اور نہ رخصت کرانے کے لیے آئے جبکہ فریق دوم نے اس سے کہا تھا کہ بچی کی پیدائش کے بعد وہ اسے رخصت کرانے کے لیے آئے گا لیکن فریق اول اپنے میکے میں پانچ سال تک رہی اور فریقِ دوم لینے نہیں آیا۔
(٤) فریق دوم نے ابھی ڈیڑھ سال قبل فریق اول کو فون پر دہلی بلایا فریق اول فریق دوم کے کہنے پر دہلی گئی اور وہاں جا کر معلوم ہوا کہ فریق دوم نے دوسری شادی کر لی ہے جب اس نے فریق دوم سے معلوم کیا تو فریق دوم نے اس کے ساتھ مار پیٹ شروع کر دی اور فریق اول کو چھوڑ کر بھاگ گیا۔
(٥) چھے سال کا عرصہ گذر گیا ہے فریق اول فریق دوم شوہر کی جانب سے ہر طرح کے حقوق کھانا خرچ، حق زوجیت سے محروم ہے صرف بیچ میں تین مہینے جو فریق اول نے فریق دوم کے سات دہلی میں دوبارہ گذارے اس درمیان اس نے کچھ حقوق ادا کئے، باقی ادھر ایک سال سے مسلسل فریق اول منجانب فریق دوم ہر طرح کے حقوق سے محروم ہے۔
(٦) فریق اول کی فریق دوم سے ایک بچی زارہ صدیقی عمر چھ سال ہے فریق دوم نے اس کا بھی کچھ خرچہ نہیں دیا اور نہ اس کا کچھ خیال رکھا۔
(٧) فریق اول جوان العمر ہے بغیر شوہر کے زندگی بسر کرنے میں اسے گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے۔
فریق اول کا مطالبہ ہے کہ وہ کب تک اس طرح کی زندگی گزارتی رہے گی وہ کسی بھی حالت میں اب فریق دوم کے ساتھ رہنے کے لیے تیار نہیں ہے، اس لیے اس کا نکاح فریق دوم سے فسخ کردیا جائے۔
فریق اول نے اپنے دعاوی کے اثبات میں دو گواہان پیش کئے ہیں۔ (١) محمد محرم ولد صنوار عالم مرحوم (٢) محمد تنویر عالم ولد طاہر عالم مرحوم۔
فریق اول کے گواہ (١) محمد محرم ولد صنوار عالم مرحوم کے بیان عند القضاء کا خلاصہ ہے کہ میری بھتیجی گلشن آرا بنت طاہر عالم عرف منا مرحوم کا نکاح محمد سرتاج ولد آفتاب عالم سے آٹھ سال قبل ہوا نکاح کے بعد رخصتی بھی ہوئی اور فریق اول کو فریق دوم سے ایک لڑکی بھی ہے جس کی عمر تقریبا چھ سال ہے فریق دوم دہلی میں رہتا ہے نکاح کے بعد فریق اول کو دہلی رہنے کے لیے ساتھ لے کر گیا وہاں فریق دوم کا برتاؤ فریق اول کے ساتھ کیسا رہا یہ مجھے معلوم نہیں ہے مجھے تو اتنا معلوم ہے کہ فریق اول تقریبا چھ سال سے میکے میں ہے اس درمیان فریق دوم کو کبھی بھی فریق اول لے جانے کے لیے نہیں آیا اور نہ کسی کو بھیجا فریق اول خود ہی فریق دوم کے پاس دہلی گئی اور تین مہینے رہ کر جب پریشان ہوئی تو آگئی اور ابھی مستقل ایک سال سے فریق اول اپنے میکے میں ہے اس درمیان فریق دوم یا اس کے گھر والے کبھی بھی فریق اول کو رخصت کرانے کے لیے نہیں آئے اور نہ کھانا خرچہ دیا اور نہ ہی حق زوجیت ادا کیا فریق اول فریق دوم کی جانب سے تمام حقوق سے محروم ہے۔
فریق اول کے گواہ (٢) تنویر عالم ولد طاہر عالم مرحوم کے بیان عند القضاء کا خلاصہ ہے کہ میری سگی چھوٹی بہن گلشن آرا بنت طاہر عالم کا نکاح محمد سرتاج ولد محمد آفتاب عالم سے ٢٠١٧ء کو ہوا، نکاح کے بعد رخصتی بھی ہوئی اور فریق اول کو فریق دوم سے ایک بیٹی زارہ صدیقی عمر لگ بھگ چھ سال ہے، فریق دوم کا برتاؤ فریق اول کے ساتھ ٹھیک نہیں تھا وہ شراب پی کر مارپیٹ کرتا تھا جیسا کہ ہم لوگوں نے سنا ہے اور جب شروع کے پانچ مہینے کے بعد فریق اول اپنے میکہ آئی تو اس وقت فریق اول حمل سے تھی اور اس سے یہ کہا گیا تھا کہ بچے کی پیدائش کے بعد فریق دوم اس کو لے کر جائے گا لیکن فریق دوم یا اس کے گھر والے کوئی بھی نہیں آیا تو پانچ سال تک فریق اول اپنے میکے میں رہی اور فریق دوم کی جانب سے تمام حقوق سے محروم رہی پھر فریق دوم نے فریق اول سے کہا کہ تم دہلی آ جاؤ، فریق اول دہلی چلی گئی لیکن صرف تین مہینے میں فریق اول واپس آگئی کیونکہ فریق دوم نے دوسری شادی کر لی تھی اور فریق اول کے ساتھ مار پیٹ کرتا تھا ابھی فریق اول مسلسل ایک سال سے میکے میں ہیں اس درمیان وہ اپنے شوہر فریق دوم کی جانب سے کھانا خرچ، حق زوجیت ہر طرح کے حقوق سے محروم ہے فریق دوم کی ایک بچی بھی ہے اس کا بھی کوئی خرچہ وغیرہ نہیں دیا۔
فریق اول کے پیش کردہ گواہوں سے اس کے دعوی نمبر (۱) کہ اس کا نکاح ٢٠١٧ء فریق دوم محمد سرتاج ولد محمد آفتاب عالم سے ہوا،اور نکاح کے بعد وہ رخصت ہو کر سسرال بھی گئ، دعوی نمبر (٣) کہ جب فریق دوم حمل سے تھی تو وہ سب کی رضامندی سے اپنے میکے آئی لیکن بچی کی پیدائش کے بعد فریق دوم یا اس کے گھر والے کوئی بھی کھوج خبر لینے کے لیے نہیں آئے اور نہ رخصت کرانے کے لیے آئے جبکہ فریق دوم نے اس سے کہا تھا کہ بچی کی پیدائش کے بعد وہ اسے رخصت کرانے کے لیے آئے گا لیکن فریق اول اپنے میکے میں پانچ سال تک رہی اور فریقِ دوم لینے نہیں آیا (٤) فریق دوم نے ابھی ڈیڑھ سال قبل فریق اول کو فون پر دہلی بلایا فریق اول فریق دوم کے کہنے پر دہلی گئی اور وہاں جا کر معلوم ہوا کہ فریق دوم نے دوسری شادی کر لی ہے جب اس نے فریق دوم سے معلوم کیا تو فریق دوم نے اس کے ساتھ مار پیٹ شروع کر دی اور فریق اول کو چھوڑ کر بھاگ گیا۔
(٥) چھے سال کا عرصہ گذر گیا ہے فریق اول فریق دوم شوہر کی جانب سے ہر طرح کے حقوق کھانا خرچ، حق زوجیت سے محروم ہے صرف بیچ میں تین مہینے جو فریق اول نے فریق دوم کے سات دہلی میں دوبارہ گذارے اس درمیان اس نے کچھ حقوق ادا کئے، باقی ادھر ایک سال سے مسلسل فریق اول منجانب فریق دوم ہر طرح کے حقوق سے محروم ہے۔
(٦) فریق اول کی فریق دوم سے ایک بچی زارہ صدیقی عمر چھ سال ہے فریق دوم نے اس کا بھی کچھ خرچہ نہیں دیا اور نہ اس کا کچھ خیال رکھا۔
٧) فریق اول جوان العمر ہے بغیر شوہر کے زندگی بسر کرنے میں اسے گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے۔
ثابت ہوتے ہیں اور بقیہ دعویٰ (٢) دعویٰ نمبر (١) کا ایک جزء ( مقدار مہر ) دعویٰ نمبر (٣) کا جزء کہ جب فریق دوم حمل سے تھی تو وہ سب کی رضامندی سے اپنے میکے آئی لیکن بچی کی پیدائش کے بعد فریق دوم یا اس کے گھر والے کوئی بھی کھوج خبر لینے کے لیے نہیں آئے اور نہ رخصت کرانے کے لیے آئے جبکہ فریق دوم نے اس سے کہا تھا کہ بچی کی پیدائش کے بعد وہ اسے رخصت کرانے کے لیے آئے گا(٤) کا جزء کہ کہ فریق دوم نے دوسری شادی کر لی ہے جب اس نے فریق دوم سے معلوم کیا تو فریق دوم نے اس کے ساتھ مار پیٹ شروع کر دی اور فریق اول کو چھوڑ کر بھاگ گیا۔ کے حوالہ سے گواہوں کا بیان یا ساکت ہے، یا گواہان ان دعاوی میں سماعی شہادت دے رہے ہیں جو کہ عند القضاء معتبر نہیں ہے ہدایہ میں ہے "ولا يجوز للشاهد أن يشهد بشيء لم يعاينه هدايه، كتاب الشهادات، ۴۳۰/۲)
دوسری طرف فریق دوم کو بار بار رجسٹری اطلاع دے کر رفع الزام کے لیے مرکزی دارالقضاء طلب کیا گیا لیکن وہ کسی بھی تاریخ پیشی پر دار القضاء حاضر نہیں ہوا جبکہ بحیثیت مسلمان اس پر لازم و ضروری تھا کہ وہ دار القضاء حاضر ہو کر رفع الزام کرتا کیونکہ یہی ایک مسلمان کی شایان شان ہے ارشاد خداوندی ہے " إنما كان قول المؤمنين إذا دعوا إلى الله ورسوله ليحكم بينهم أن يقولوا سمعنا وأطعنا " (النور / (۵۱) آیت مذکورہ کے ذیل میں صاحب معین الحکام لکھتے ہیں "وفی الآية دليل على أنه من دعى إلى حاكم فعليه الإجابة ويجرح إن تأخر " (معين الحكام ص، (۱۴۱)
فریق دوم کا دار القضاء حاضر نہ آنا اور حاضری سے مسلسل گریز کرنا اس کی ہٹ دھرمی و سرکشی کی واضح نشانی ہے اور اس کا یہ رویہ اس بات کی مبین دلیل ہے کہ وہ رفع الزام سے عاجز و قاصر ہے بلکہ اس کا یہ طرز عمل نکول عن الحلف کے قائم مقام ہو کر اقرار دعوی کے حکم میں ہے۔
شامی میں ہے " وقضى القاضي عليه بنكوله مرة، لو نكوله في مجلس القاضي، حقيقة كقوله "لا أحلف" أو
حكما إن سکت (شامی (۲۶۹/۸)
زیر بحث معاملہ میں فریق اول عرصہ دراز سے منجانب فریق دوم نان و نفقہ و دیگر تمام حقوق سے محروم ہے جبکہ فریق دوم پر بحیثیت زوج لازم و ضروری تھا کہ وہ فریق اول کے نان و نفقہ کا معقول انظام کرتا کیونکہ شریعت مطہرہ نے بیویوں کا خرچ شوہر کے ذمہ واجب قرار دیا ہے، ارشاد خداوندی ہے " و على المولود له رزقهن وكسوتهن بالمعروف" (البقرة / ۲۳۳) اور اسی طرح لينفق ذو سعة من سعته، ومن قدر عليه رزقه فلينفق مما آتاه الله (الطلاق/۷) ہدایہ میں ہے " النفقة واجبة للزوجة على زوجها مسلمة كانت أو كافرة إذا سلمت نفسها إلى منزله فعليه نفقتها وكسوتها وسكناها۔ هدایه، ۳۷۴/۳-۳۷۵)
بیوی اگر شوہر کی اجازت سے میکہ آئی ہو تو اس کا نفقہ بھی شوہر کے ذمہ لازم ہے ، شامی میں ہے "ولو هي في بيت أبيها إذا لم يطالبها الزوج بالنقلة، به یفتی شامی (۲۸۴/۵) اسی طرح فریق اول نے اپنی بچی کا بھی نفقہ ادا نہیں کیا، جبکہ بحیثیت والد اس پر لازم و ضروری تھا کہ وہ اپنی بچی کا نان و نفقہ ادا کرتا کیونکہ شریعت اسلامیہ نے نابالغ اولاد کا نفقہ باپ کے ذمہ لازم کیا ہے ، ہدایہ میں ہے " ونفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد كما لا يشاركه فى نفقة الزوجة . (هدايه، ۳۹۵/۳)
ایسی عورت جو شوہر کی جانب سے نان و نفقہ سے محروم ہو اور اس کا شوہر اس کو طلاق بھی نہ دے رہا ہو تو شریعت اسلامیہ نے ایسی عورت کو اختیار دیا ہے کہ وہ اپنا معاملہ قاضی کے یہاں لے جائے اور فسخ نکاح کا مطالبہ کرے، قاضی کے یہاں اگر عورت کا دعوی ثابت ہو جائے تو قاضی کو فسخ نکاح کا اختیار حاصل ہے، الحیلة الناجزة میں ہے: "أما المتعنت أى الممتنع . عن الإنفاق ففى مجموع الأمير ما نصه: إن منعها نفقة الحال فلها القيام، فإن لم يثبت عسره أنفق أو طلق وإلا طلق أى طلق عليه الحاكم من غير تلوم .( الحيلة الناجزة، ص ۲۱۳)
اسی طرح فریق اول عرصہ دراز سے فریق دوم کی جانب سے حقوق زوجیت سے محروم ہے اور وظیفہ زوجیت سے محرومی نان و نفقہ سے محرومی کے مقابلہ میں زیادہ ضرر رساں ہے اور ایسی عورت جو اپنے شوہر کی طرف سے وظیفہ زوجیت سے محروم ہو شریعت اسلامیہ نے اختیار دیا ہے کہ وہ قاضی کے یہاں اپنا معاملہ دائر کرے اور قاضی بوجہ محرومی از حق زوجیت بعد ثبوت نکاح فسخ کردے، "وإذا أثبت لهما الطلاق بذلك فليثبت لهما إذا خشية الزنا بالأولى، لأن ضرر ترك الوطء أشد من ضرر عدم النفقة، ألا ترى أن إسقاط النفقة يلزمها، وإسقاطها حقها فى الوطأ لا يلزمها، ولها أن ترجع فيه، أيضا النفقة يمكن تحصيلها لها بتسلف أو سؤال بخلاف الوطء . ( الحيلة الناجزه، ص ۲۱۷)
بہر حال فریق دوم پر بحیثیت زوج لازم تھا کہ وہ فریق اول کو رخصت کرا کر لے جاتا اس کے تمام حقوق ادا کرتا اور اس کو اچھی طرح سے رکھ کر " امساک بالمعروف " پر عمل کرتا ، اور اگر وہ ادائے حقوق پر قادر نہ تھا یا با وجود قدرت کے کسی وجہ سے ادا کرنا نہیں چاہتا تھا تو " تسریح بالا حسان " پر عمل کرتے ہوئے فریق اول کو ایک طلاق بائن دیدیتا لیکن اس نے ان دونوں راہوں کو چھوڑ کر تیسری راہ اپنائی اور فریق اول کو کالمعلقہ بنا کر میکے میں چھوڑے رکھا،جس سے اللہ رب العزت نے منع فرمایا ہے، ارشاد خداوندی ہے " فلا تميلوا كل الميل فتذروها كالمعلقه " (النساء / ۱۲۹) ایک دوسری جگہ ارشاد ہے فلا تمسكوهن ضرارا لتعتدوا،ومن يفعل ذلك فقد ظلم نفسه " (البقرة / ۲۳۱) فریق دوم کا فریق اول کو کالمعلقہ چھوڑ دینے سے فریق اول سخت ضرر و حرج میں مبتلاء ہے، فریق دوم کا یہ رویہ اس پر سراسر ظلم ہے،اور دفع ضرر و حرج و رفع ظلم و جور فریضۂ قضاء ہے معین الحکام میں ہے "أما حكمته فرفع التهارج ورد النوائب وقمع الظالم ونصر المظلوم و قطع الخصومات والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر" (معين الحكام، ص، (۷)
لہذا مندرجہ بالا مباحث و مصالح دینیہ کی رعایت کرتے ہوئے میں درج ذیل حکم دیتا ہوں :
حکم
آج میں نے بر بناء عدم اداء نان و نفقه و عدم اداء حقوق زوجیت و بوجه ترک کالمعلقه از عرصه دراز بنظر دفع ضرر و حرج و رفع ظلم و جور و سد باب فتن و بوجه تحفظ عفت و عصمت فریق اول گلشن آرا بنت طاہر عالم مرحوم کا عقد نکاح فریق دوم محمد سرتاج ولد محمد آفتاب عالم سے فتح کر دیا ، اب وہ اس کی بیوی نہیں رہی ، عدت گزار کر وہ اپنے نفس کی مجاز ہے۔ واضح رہے کہ یہ ایک حکم شرعی ہے۔ فقط
No comments:
Post a Comment