ثُمَّ الدَّعْوَى الصَّحِيحَةُ أَنْ يَدَّعِيَ شَيْئًا مَعْلُومًا عَلَى خَصْمٍ حَاضِرٍ فِي مَجْلِسِ الْحُكْمِ دَعْوَى تُلْزِمُ الْخَصْمَ أَمْرًا مِنْ الْأُمُورِ،
اب یہاں سے مصنف رحمتہ اللہ علیہ دعوی صحیحہ کی تعریف کے فوائد قیود بیان کر رہے ہیں،چنانچہ فرمایا کہ ہم نے جو شئ مدعیٰ کے معلوم ہونے کی شرط لگائی یہ اس لیے کہ دعویٰ سے جو مقصود ہے اس کا حاصل ہونا جہالت کے ساتھ ممکن نہیں ہے یعنی اگر پتہ ہی نہیں کس چیز کے بارے میں دعوی کیا جا رہا ہے تو حاصل کس چیز کو کیا جائے گا اس لیے شئ مدعا کا معلوم ہونا ضروری ہے جہالت کے ساتھ دعوی نہیں سنا جائے گا اب شئ مدعیٰ کیسے معلوم ہوگی، اور پہچاننے کا کیا طریقہ ہوگا چناں چہ و اعلامہ سے اسی کو بیان کر رہے ہیں کہ اگر وہ غیر منقول چیزوں میں سے ہے جیسے زمین وغیرہ تو اس کے حد بندی اور اس کی جائے وقوع کے ذکر سے اس کی تعیین کرنا کرے گا مثلا یہ کہے کہ میری زمین فلاں مقام پر ہے اور اس کے شمال میں، جنوب میں، مغرب کی طرف اور مشرق کی جانب فلاں فلاں کی زمین ہے یا فلاں کا مکان وغیرہ ہے اگر تین ہی جہتوں کو بیان کرے تو بھی صحیح ہے لیکن تین جہتوں کا متعین اور بیان کرنا ضروری ہوگا اور جائے وقوع بھی بیان کرنا ہوگا اس کا تفصیلی بیان عنقریب تصحیحِ دعوی کی فصل میں آئے گا۔
وَإِنَّمَا اشْتَرَطْنَا كَوْنَ الْمُدَّعَى مَعْلُومًا؛ لِأَنَّ مَا هُوَ الْمَقْصُودُ مِنْ الدَّعْوَى لَا يُمْكِنُ مَعَ جَهَالَتِهِ، وَإِعْلَامُهُ إنْ كَانَ عَقَارًا بِذِكْرِ حُدُودِهِ وَمَوْضِعِهِ، وَسَيَأْتِي فِي فَصْلِ تَصْحِيحِ الدَّعْوَى
اور ہم نے جو شرط لگائی کہ مدعی علیہ کا مجلس قضاء میں حاضر ہونا شرط ہے یہ اس لیے کہ قضاء علی الغائب و قضاء للغائب یعنی غائب شخص کے حق میں اور غائب شخص پر دعوی کرنا ہمارے نزدیک جائز نہیں( لیکن اب حالات کے پیش نظر مالکیہ کے قول پر فتویٰ دیتے ہوئے علماء احناف متفق ہے کہ قضاء علی الغائب و قضاء للغائب بعض وجوہ کی بنا پر جائز ہے،جیسے مفقود الخبر عنھا زوج کے معاملہ میں فیصلہ کیا جاتا ہے) اور ہم نے جو شرط لگائی کہ دعوی ملزمہ ہو یعنی ایسا دعوی جس سے کسی پر کوئی چیز لازم ہوتی ہو یہاں تک کہ اگر کوئی شخص دعوی کرتا ہے کہ وہ فلاں کا وکیل ہے اور فلاں مؤکل انکار کر دے کہ میں نے اس کو وکیل نہیں بنایا تو وکالت کا دعوی کرنے والے کا دعوی نہیں سنا جائے گا اس لیے کہ وکالت یہ عقد لازم نہیں ہے اور جس طرح ماضی میں مؤکل کا وکیل کو معزول کرن اصحیح ہے اس طرح فی الحال بھی اس کا عزل کرنا ممکن ہے ٹھیک ہے اگر پہلے اس کو معزول نہیں کیا ہوگا تو اب چونکہ وہ کہہ رہا ہے کہ میں نے اس کو وکیل نہیں بنایا مؤکل یہ کہنا گویا معزول کرنے کے قائم مقام ہے چنانچہ اس کا دعوی کوئی فائدہ نہیں دے گا اس پر ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں کہ یہ وکالت کا دعوی کرنا اگرچہ عقد لازم نہیں ہے لیکن یہ تب ہے جب مرافعہ الی القاضی یعنی قاضی کے پاس معاملہ جانے سے پہلے پہلے وکیل نے مؤکل کے لیے کوئی عقد نہ کیا ہو اگر عقد کر چکا ہو تو پھر یہ دعویٰ لازمہ ہوگا پھر کا دعوی سنا جائے گا۔
وَإِنَّمَا شَرَطْنَا كَوْنَ الْخَصْمِ حَاضِرًا؛ لِأَنَّ الْقَضَاءَ عَلَى الْغَائِبِ وَلِلْغَائِبِ لَا يَجُوزُ عِنْدَنَا، وَإِنَّمَا شَرَطْنَا كَوْنَ الدَّعْوَى تَلْزَمُهُ حَتَّى إنَّ مَنْ ادَّعَى أَنَّهُ وَكِيلُ فُلَانٍ وَأَنْكَرَ فُلَانٌ لَا تُسْمَعُ هَذِهِ الدَّعْوَى؛ لِأَنَّهُ عَقْدٌ غَيْرُ لَازِمٍ يُمْكِنُ عَزْلُهُ فِي الْحَالِ فَلَا تُفِيدُ الدَّعْوَى فَائِدَتَهَا.
دعویٰ صحیحہ کی تعریف اور اس کے فوائد قیود بیان کرتے ہوئے دعویٰ غیر ملزمہ کی مزید مثالیں بیان کر رہے کہ ایسا دعوی جو غیر ملزمہ ہونے کی بنا پر نہیں سنا جائے گا بلکہ دعویٰ خارج کیا جائے گا اس کی مثال بیان کرتے ہوئے مصنف رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر زید نے کہا کہ عمرو نے مجھے یہ چیز ہدیہ دی ہے اور عمر انکار کرے کہ میں نے زید کو ہدیہ نہیں دیا ہے تو مصنف رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہم کہتے ہیں کہ ہدیہ کرنا یہ قول سے لازم نہیں ہوتا ہے یعنی زبان سے کہنا کہ میں نے تمہیں نبی کیا نبی میں دی ہوئی چیز لازم نہیں ہوتی ھدیہ دینے والا اپنی بات سے رجوع کر سکتا ہے جب تک کہ مہدی الیہ یعنی جس کو ہدیہ دیا گیا ہے اس نے اس چیز پر قبضہ نہ کیا ہو اس لیے زید کا عمرو پر ھبہ کا دعویٰ کرنے سے عمرو مدعی علیہ سے اس سلسلے میں جواب کاروائی لازم نہیں ہوگی یعنی جواب دینا لازم نہ ہوگا اس لیے کہ جس سے سوال ( عمرو مدعی علیہ) کیا گیا ہے، جس کے بارے میں مقدمہ درج کیا گیا ہے اگر وہ اقرار بھی کر لے کہ ہاں میں نے ہدیہ کیا ہے اور پھر یہ کہے کہ میں نے ہدیہ کر کے رجوع بھی کیا ہے تو پھر بھی ( اقرار مدعی علیہ کے بعد بھی) اس سے کسی چیز کا مطالبہ لازم نہیں ہوگا کیوں کہ وہ عقد اس پر لازم نہیں ہوا ہے چہ جائے کہ بغیر اقرار مدعی علیہ محض مدعی زید کے دعویٰ سے عقد لازم ہو پھر کیا فائدہ زید کے لیے عمرو کو اس چیز کا الزام دے کے جو عمرو کے اقرار کے باوجود عمرو پر لازم نہیں۔
دوسری مثال، اسی طرح ان وصایا میں جن میں موصی کو رجوع کا حق حاصل ہو مثلاً اگر کوئی شخص کہیے کہ فلاں نے میرے بارے میں وصیت کی ہے اگر موصی زندہ ( کیوں کہ زندگی میں رجوع کا حق حاصل) ہے تو پھر مدعی کا دعوی نہیں سنا جائے گا اس لیے کہ اگر موصی اقرار بھی کر لے کہ ہاں میں نے وصیت کی تھی اور ساتھ میں یہ بھی کہہ دے کہ وہ وصیت کے بعد میں نے رجوع بھی کیا ہے تو بھی اس پر کوئی چیز لازم نہیں ہوگی باوجود موصی کے اقرار کے تو بغیر اقرارِ موصی محض مدعی موصی لہ کے بدرجہ اولی مدعی علیہ موصی پر کوئی چیز لازم نہیں اور مدعی کا دعوی اس کے خلاف نہیں سنا جائے گا کیونکہ اس سے کوئی چیز اس پر لازم ہوتی نہیں وصیت کوئی عقد لازم ہے نہیں جت تک موصی زندہ ہو ( کیوں کہ اسے رجوع کا حق حاصل ہے) ہاں اگر موصی مر جاتا اور پھر مدعی گواہ قائم کرتا تو مرنے کے بعد چونکہ وصیت عقد لازم بن جاتا ہے اس لیے اس کا دعویٰ دعویٰ ملزمہ ٹھہر کر ضرور مسموع ہوتا۔
تیسری مثال۔اسی طرح حضرت امام شافعی رحمتہ اللہ تعالی کا مسلک ہے کہ اگر کسی آقا نے اپنے غلام سے کہا تم میرے مرنے کے بعد آزاد ہو یعنی غلام کو مدبر بنایا تو جب تک آقا زندہ ہے اسے رجوع کا حق حاصل ہے، اب اگر غلام قاضی کے پاس مقدمہ دائر کرے کہ میرے آقا نے مجھے مدبر بنایا تھا لیکن وہ میرے ساتھ عام غلاموں والا معاملہ کر رہا ہے مثلا مجھے بیچ رہا ہے حالاں کہ میں مدبر تھا تو یہ تدبیر چوں کہ امام شافعی کے ہاں عقد لازم نہیں ہے تو جب تک آقا زندہ ہے اسے رجوع کا حق حاصل ہے اس لیے غلام کا دعویٰ غیر ملزمہ ٹھہرا تو اور اس دعویٰ سے آقا پر کوئی چیز لازم نہیں ہوگی کیوں کہ اگر آقا کہے ہاں میں نے مدبر بنایا تھا اور میں رجوع بھی کر چکا تھا تب بھی اس پر کچھ لازم نہیں اقرار کے باوجود اور بغیر اقرار کے بدرجہ اولی اس پر کوئی چیز لازم نہ ہونی چاہیے اسی لیے غلام کا دعوی نہیں سنا جائے گا۔
وَمِثْلُهُ: لَوْ ادَّعَى رَجُلٌ عَلَى رَجُلٍ هِبَةً وَقُلْنَا إنَّ الْهِبَةَ لَا تَلْزَمُ بِالْقَوْلِ وَلِلْوَاهِبِ الرُّجُوعُ عَنْهَا مَا لَمْ تُقْبَضْ، فَإِنَّهُ لَا يَلْزَمُ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ الْجَوَابُ عَنْ ذَلِكَ؛ لِأَنَّ الْمَسْئُولَ عَنْ هَذَا لَوْ قَالَ ذَلِكَ وَقَالَ رَجَعْتُ عَنْهُ فَإِنَّهُ لَا يَلْزَمُ مُطَالَبَتُهُ بِشَيْءٍ وَلَا فَائِدَةَ فِي إلْزَامِهِ مَا لَوْ أَقَرَّ بِهِ لَمْ يَلْزَمْهُ إذَا رَجَعَ عَنْهُ وَكَذَلِكَ الْوَصَايَا الَّتِي لَهُ الرُّجُوعُ عَنْهَا
وَكَذَلِكَ التَّدْبِيرُ عَلَى مَذْهَبِ الشَّافِعِيِّ الَّذِي يَرَى أَنَّ لَهُ الرُّجُوعَ عَنْهُ،
بس اسی اصول کی بنا پر بعض ائمہ اس طرف گئے ہیں کہ مدعی علیہ پر شئ مدعیٰ لازم نہیں ہوگی یہاں تک کہ مدعی اپنی دعوی کے ساتھ وہ چیز بھی ملائے جو چیز مدعی علیہ پر لازم کرے اس چیز کو جس کا دعویٰ اس پر کیا جا رہا ہے یہ طریقہ بتلایا مدعی کا دعوی صحیح ہونے کے لیے اسے اپنے دعوے میں کسی اور چیز کا اضافہ کرنا پڑے گا تب یہ دعویٔ عقد لازم کے طور پر سنا جائے گا مثلا اگر یہی زید مدعی کہے کہ عمرو نے مجھے ہدیہ دیا ہے اور ہدیہ سے رجوع بھی نہیں کیا ہے اور اب عمرو پر لازم تھا کہ ہدیہ کی ہوئی چیز مجھے دیتا لیکن اس نے نہیں دی چونکہ یہاں مدعی زید اپنے دعویٰ میں اضافہ کیا ہے کہ عمرو نے اپنے دعوے سے رجوع نہیں کیا ہے تو اب یہ دعوی صحیحہ ہوگا اور سنا بھی جائے گا اور عمرو کو جواب دعویٰ کے لیے بلایا جائے گا اسی طرح اگر وصیت میں ایک شخص کہہ رہا ہے کہ فلاں نے میرے لیے وصیت کی اور وصیت کے بعد اس نے رجوع بھی نہیں کیا یا رجوع سے پہلے مر گیا، لہذا وصیت کئ ہوئی چیز دینا لازم ہو گیا ہے چونکہ یہاں بھی مدعی نے اضافہ کیا ہے اپنی دعوے میں اس چیز کا جس سے مدعی علیہ پر وہ چیز لازم ہوتی ہے جس کا اس پر دعوی کیا گیا ہے اسی کو مصنف رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا مدعی ھبہ میں اس طرح کہیے گا کہ مدعی علیہ پر اس چیز کا سپرد کرنا لازم تھا کیونکہ رجوع نہیں کیا تھا
تیسری مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ دو آدمیوں کے درمیان بیع ہوئی تو بائع نے خیار مجلس لیا لیکن مجلس کے اختتام تک بائع نے بیع کو فسخ نہیں کیا اس لیے عقد لازم ہوگیا، اب اگر مشتری دعوی کرے کہ میرے اور بائع کے درمیان بیع ہو خیار مجلس تھا لیکن بائع مبیع میرے سپرد نہیں کی تو مشتری کا دعویٰ نہیں سنا جائے گا اور یہ دعویٰ غیر ملزمہ ہے کیوں ممکن ہے کہ بائع نے اختتام مجلس سے پہلے پہلے خیار کے تحت بیع کو فوج کیا ہو اس لیے ایسا دعوی مسموع نہ ہوگا ہاں اگر مشتری اپنے دعوی میں ان الفاظ کا اضافہ کرے انہ لم یقع الفسخ بعد بیع کہ عقد بیع ہونے کے بعد بائع نے بیع کو خیار مجلس کے تحت فسخ نہیں کیا اس لیے بائع پر مبیع کا ادا کرنا لازم تھا تو مشتری کا ایسا دعوی سنا جائے گا، کیوں کہ اب دعویٰ صحیحہ ملزمہ ہے۔
فَإِنَّ مِنْ هَذَا الْأَصْلِ ذَهَبَ بَعْضُ الْأَئِمَّةِ إلَى أَنَّهُ لَا يَلْزَمُ الْجَوَابُ عَنْهُ حَتَّى يُضِيفَ إلَيْهِ مَا يُلْزِمُ الْمَطْلُوبَ بِمَا ادَّعَى عَلَيْهِ، فَيَقُولُ فِي هَذِهِ الْهِبَةِ يَلْزَمُ تَسْلِيمُهَا، وَكَذَلِكَ فِي الْبَيْعِ بِخِيَارِ الْمَجْلِسِ يُضِيفُ إلَيْهِ أَنَّهُ لَمْ يَقَعْ الْفَسْخُ بَعْدَ الْعَقْدِ.
پھر بعض ائمہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک اس قول ( یعنی مدعی اپنے کی صحت کے لیے کسی الزامی لفظ کا اضافہ کرے)کی توجیہ اس بنیاد پر ہوگی کہ کسی چیز کے اصل کا انکار کرنا رجوع کے قائم مقام نہیں ہوگا اور اسی طرح کسی بیع کے لازم یا رد کرنے کا اختیار رجوع کے قائم مقام نہ ہوگا مثلا مہدی کا انکار کرنا کہ میں نے ھدیہ نہیں کیا ہے کیا یہ انکار ھدیہ رجوع ہوگا جواب ہے نہیں اس لیے مہدی محض انکار رجوع کے قائم مقام نہیں بلکہ رجوع کے لیے الگ الفاظ کا استعمال کرنا ہوگا، اسی طرح بائع کہے ہمارے درمیان خیار مجلس تھا کیا خیار مجلس رجوع عن البیع نہیں کیوں کہ اگر خیار ہی رجوع ہوتا تو مشتری کا اپنے دعویٰ میں بیع فسخ نہ کرکے بیع کے لازم ہونے دعویٰ کرنا بھی صحیح نہ ہوگا یعنی جو دعویٰ صحیحہ ملزمہ کا طریقہ بتایا اس کا پھر فائدہ نہیں ہوگا کیوں اس صورت ( کہ خیار ہی رجوع ہے) میں بیع تو لازم ہوگی نہیں اس لیے مشتری کا اپنے دعویٰ میں یہ کہنا کہ اختتام مجلس تک بائع نے بیع کو فوج نہیں کیا کوئی فائدہ نہیں دے اس لیے خلاصہ یہ ہے کہ خیار مجلس رجوع کے قائم مقام نہیں کہ خیار کو واجب کرنے والے سبب ( اختتام مجلس) کے اٹھ جانے سے بیع لازم ہو! ایسا نہیں ہے پس جب معاملہ کی بنیاد اسی اصول پر ہے تو متوجہ ہوگا وہ جو ہم بیان کیا بعض ائمہ سے تو ہم نے اسی توجیہ بیان کر دی بعض ائمہ سے ۔
قَالَ بَعْضُ الْأَئِمَّةِ: وَهَذَا عِنْدِي إنَّمَا يَتَّجِهُ عَلَى الْبِنَاءِ عَلَى أَنَّ الْإِنْكَارَ لِأَصْلِ الشَّيْءِ لَا يَحِلُّ مَحَلَّ الرُّجُوعِ وَعَلَى أَنَّ مَا فِيهِ الْخِيَارُ بَيْنَ إمْضَائِهِ أَوْ رَدِّهِ مَحْلُولٌ حَتَّى يَنْعَقِدَ بِرَفْعِ السَّبَبِ الْمُوجِبِ لِلْخِيَارِ، فَإِذَا بُنِيَ الْأَمْرُ عَلَى هَذَا اتَّجَهَ مَا حَكَيْنَاهُ عَنْ بَعْضِ الْأَئِمَّةِ.
سماعِ دعویٰ کے شرائط میں سے چوتھی شرط یعنی جو اوپر جو بیان کیا کہ دعوی صحیحہ کب سنا جائے گا اس کی جو چند شرطیں ذکر کی ہیں ان میں سے چوتھی شرط یہ ہے کہ دعوی ان چیزوں کے متعلق ہو جن سے کوئی حکم متعلق ہوتا ہے یہ جن امور میں سے کوئی امر لازم ہوتا ہے جن سے انسان پر الزام نہیں اتا ان چیزوں کے بارے میں دعوی کرنا قابل قبول نہیں ہوگا۔
الشَّرْطُ الثَّالِثُ مِنْ شُرُوطِ سَمَاعِ الدَّعْوَى: أَنْ تَكُونَ مِمَّا يَتَعَلَّقُ بِهَا حُكْمٌ أَوْ أَمْرٌ مِنْ الْأُمُورِ.
پھر یہاں بعض حضرات نے فرمایا کہ دعویٰ صحیح تب ہوگا جب دعویٰ سے مدعی کو کچھ نہ کچھ فائدہ ہوتا ہو اور بعض حضرات نے فرمایا دعوی تب صحیح ہے جب مدعی کے دعویٰ سے مدعی علیہ سے کسی چیز کا استخراج لازم آتا ہو یعنی مدعی سے کوئی چیز نکلے اور وہ مدعی کے قبضے میں آئے اسی کے متعلق مصنف نے فرمایا کہ اس چیز کی مثال جس کے ساتھ حکم متعلق ہے وہ یہ کہ زید نے دعوی کیا عمرو پر کسی قرض کا اور گواہ بھی قائم کیے دراں حالیکہ گواہوں کی تعدیل بھی ہو گئی لیکن اس کے بعد عمرو مدعی علیہ قاضی سے کہہ رہا ہے قاضی صاحب میں کچھ نہیں کہوں گا آپ زید مدعی سے قسم لیجئے اس بات پر کہ وہ گواہوں کی مجروحیت سے ناواقف ہے یعنی عمرو مدعی علیہ قاضی کے سامنے زید مدعی کے پیش کردہ گواہوں کی مجروحیت کا دعویٰ کر رہا ہے اب جو حضرات فرماتے ہیں کہ دعویٰ صحیحہ ہونے کے لیے بس اتنا ضروری ہے کہ مدعی کو دعویٰ سے کچھ نہ کچھ فائدہ ہونا چاہیے ان کے نزدیک اس مسئلہ میں عمرو مدعی علیہ کا دعویٰ جرح (جس کی وجہ سے وہ مدعی جرح بن رہا ہے) سنا جائے گا اگرچہ مدعی علیہ زید ( جو کہ مدعی تھا قرض کا) سے کسی چیز کا استخراج لازم نہیں آتا لیکن عمرو مدعی جرح کا فائدہ ہو رہا ہے بلکہ بڑا فائدہ ہے وہ اس طور پر کہ اگر مدعی علیہ زید اپنے گواہوں پر جرح کا اقرار کر لے تو اس کا عمرو پر قرض کا دعویٰ ہی ثابت نہ ہوگا اور عمرو قرض دینے سے بچ جائے گا اس لے عمرو مدعی ثانی کو دعویٰ جرح سے چوں کہ فائدہ ہو رہا ہے اس جو حضرات فرماتے ہیں کہ دعوی صحیحہ وہ ہے جس سے مدعی کو کچھ نہ کچھ فائدہ ہو ان کے نزدیک عمرو کا دعویٰ جرح مسموع ہوگا اور جن حضرات کے نزدیک دعوی صحیحہ وہ ہے جس سے مدعی علیہ سے کسی شئی کا استخراج لازم آتا ان کے نزدیک عمرو مدعی علیہ کا اب مدعی بن کر زید مدعی کے گواہوں پر دعوی جرح سماعت کے قابل نہیں کیوں کہ اس سے زید مدعی علیہ سے کسی شئ کا استخراج لازم نہیں آتا کیوں وہ صرف گواہوں پر جرح کا دعویٰ ہے اسی کو مصنف نے فرمایا جو زید مدعی علیہ پر قسم کھانا واجب گردانتے ہیں وہ اس کی علت یہ بیان کرتے ہیں کہ دعوی کی حقیقت یہ ہے کہ وہ کسی ایسے امر کے استحقاق کے ساتھ متعلق ہو جس استحقاق سے مدعی علیہ سے کوئی چیز نکالی جائے اور یہاں قاضی سے ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا جا رہا ہے جس سے کوئی چیز نکالی جائے ا س شخص سے جس کے لیے گواہوں نے کسی حق کی گواہی دی ہے۔ اور وہ زید ہے جس کے لیے گواہوں نے قرض کی گواہی دی ہے اور اس سے عمرو مدعی علیہ کے ( جو اب دعوی جرح مدعی بن رہا ہے) دعوی سے کسی چیز کا استخراج نہیں ہوتا ہے۔
مِثَالُ مَا يَتَعَلَّقُ بِهِ حُكْمٌ: أَنْ يَدَّعِيَ رَجُلٌ عَلَى رَجُلٍ بِدَيْنٍ وَيُقِيمَ الْبَيِّنَةَ عَلَى ذَلِكَ وَعُدِّلَتْ الْبَيِّنَةُ فَقَالَ الْمَطْلُوبُ لِلْقَاضِي: اسْتَحْلِفْ لِي الطَّالِبَ أَنَّهُ لَا يَعْلَمُ كَوْنَ شُهُودِهِ مَجْرُوحِينَ، فَإِنَّ هَذَا مِمَّا اخْتَلَفَ فِيهِ الْعُلَمَاءُ، هَلْ تَجِبُ فِيهِ الْيَمِينُ أَوْ لَا تَجِبُ؟ فَمَنْ لَمْ يُوجِبْهَا اعْتَلَّ بِأَنَّ حَقِيقَةَ الدَّعْوَى أَنْ تَكُونَ مُتَعَلِّقَةً بِاسْتِحْقَاقِ أَمْرٍ يُسْتَخْرَجُ مِنْ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ، وَهَا هُنَا لَا يُطْلَبُ مِنْ الْقَاضِي اسْتِخْرَاجُ شَيْءٍ مِنْ الَّذِي شَهِدَتْ لَهُ الْبَيِّنَةُ بِحَقِّهِ.
No comments:
Post a Comment