[فَصْلٌ فِي مَعْنَى تَنْفِيذِ الْحُكْمِ]
تنفیذ کی دو قسمیں ہیں نمبر (١) اپنا دیا ہوے حکم کو نافذ کرنا نمبر (٢) دوسرے کے حکم کو نافذ کرنا، پھر تنفیذ کی دو قسمیں ہے پہلی قسم کی تنفیذ کا معنی ہے الزام حسی، اور دوسری قسم کی تنفیذ کے معنی ہے الزام معنوی، الزام حسی کہتے ہیں کہ جبرا قوت قاہرہ سے امتثال امر کرانا، محکوم بہ ( جس شرعی حکم کی لزوم کے ساتھ خبر دی گئی ہے) کو طاقت کی بنیاد پر محکوم لہ کے سپرد کرنا اور الزام معنوی کا مطلب ہے صرف الاخبار عن حکم شرعی علی سبیل الالزام کہ حکم شرعی کی الزام کے طریقہ پر خبر دینا محکوم بہ محکوم لہ کو ملے یا نا ملے، امتثال امر ہو یا نا ہو اس سے کوئی غرض نہیں،مصنف رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے معین الحکام کے پہلے صفحہ میں اس پر بحث کی ہے کہ ایک الزام معنوی ہے دوسرا الزام حسی ہے اکثر و بیشتر قاضی کو صرف الزام معنوی کا اختیار ہوتا ہے الزام حسی کا اختیار اکثر و بیشتر قاضی کو نہیں ہوتا الا کہ امام کی طرف سے صراحتاً الزام حسی کا اختیار بھی قاضی کو ملے تو الگ بات ہے، الزام حسی ہی قوت تنفیذ کا دوسرا نام ہے اس طور پر کہ حاکم وقت قاضی کو شرطہ، پولیس وغیرہ بھی دیے دے کہ لیجئے قاضی صاحب پاور آف اتھارٹی کے ذریعے سے بوقت ضرورت آپ اپنا حکم منوا بھی سکتے ہیں اور عمل درآمد بھی کرا سکتے ہیں،ورنہ عمومی طور قاضی کو صرف الزام معنوی کا اختیار ہوتا ہے یعنی وہ حکم شرعی کو بیان کرتا ہے بطور الزام کے قوت تنفیذ و الزام حسی عمومی طور قاضی کو حاصل نہیں ہوتا، اسی کو مصنف رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اپنے حکم کو ںافذ کرنا،قوت اور طاقت سے کسی سے مال کو لے کر مستحق کو دینا، تمام حقوق سے چھٹکارا دلوانا چ جیسے کسی نے زمین غصب کر رکھی ہو اس زمین کا چھٹکارا دلا کر مستحق کو دلانا)اور طلاق کا واقعہ کرنا اس عورت پر جس پر طلاق کا واقعہ کرنا جائز ہو یعنی کسی آدمی پر اسباب فسخ نکاح کا ثابت ہو جائیں تو اس کی طرف سے اس کی بیوی پر طلاق واقع کرنا اسی طرح دوسری چیزیں یہ سب چیزیں الزام حسی کے معنیٰ میں آتی ہیں، ورنہ الزام معنوی میں نہ تو انسان کس کا مال جبراً لے کر مستحق کو دے سکتا ہے نہ ہی حقوق سے چھٹکارا دلوا سکتا ہے اور نہ ہی قاضی کسی کی بیوی پر طلاق واقع کر سکتا ہے پس ثابت ہوا کہ تنفیذ وہ ثبوت اور حکم کے علاوہ ایک تیسری چیز ہے اس سے پہلے مصنف نے جو فصل بیان کی اس میں بتایا تھا کہ بعض حضرات کے نزدیک ثبوت اور حکم ایک ہی چیز ہے جبکہ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ ثبوت اور حکم الگ الگ چیزیں ہیں، اس طور پر کہ ثبوت تو اس چیز کا نام ہے جو فریقین پر گواہوں کے ذریعہ ثابت ہو جائے اور اس ثبوت پر جو اثر مرتب ہوتا ہے وہ حکم ہے اور اس حکم پر بھی اگر کوئی چیز مرتب ہو تو وہ تنفیذ ہے، چناں چہ ثبوت پہلا، حکم دوسرا، اور تنفیذ تیسرا رتبہ ہے، عمومی طور پر قاضی کو صرف پہلا اور دوسرا رتبہ حاصل ہوتا ہے تیسرا رتبہ کبھی کبھی حاصل نہیں ہوتا ہے اور کبھی کبھار حاصل ہوتا ہے،جب کہ امام نے بطور خاص اجازت دے رکھی ہو۔
وَهُوَ عَلَى قِسْمَيْنِ: تَنْفِيذُ حُكْمِ نَفْسِهِ وَتَنْفِيذُ حُكْمِ غَيْرِهِ فَالْأَوَّلُ: مَعْنَاهُ الْإِلْزَامُ بِالْحِسِّیْ وَأَخْذُ الْمَالِ بِيَدِ الْقُوَّةِ وَدَفْعِهِ لِمُسْتَحِقِّهِ وَتَخْلِيصُ سَائِرِ الْحُقُوقِ وَإِيقَاعُ الطَّلَاقِ عَلَى مَنْ يَجُوزُ لَهُ إيقَاعُهُ عَلَيْهِ وَنَحْوُ ذَلِكَ، فَالتَّنْفِيذُ غَيْرُ الثُّبُوتِ وَالْحُكْمِ، فَالثُّبُوتُ هُوَ الرُّتْبَةُ الْأُولَى. وَالْحُكْمُ هُوَ الرُّتْبَةُ الثَّانِيَةُ.وَالتَّنْفِيذُ هُوَ الرُّتْبَةُ الثَّالِثَةُ،
چنانچہ ہر قاضی کو قوت تنفیذ حاصل نہیں ہوتی بطور خاص ایسا ضعیف القدرت قاضی جو ظالم بادشاہ کے تحت ہو پس اگر بادشاہ کا کوئی معاملہ ایسے ضعیف القدرت قاضی کے پاس آے تو قاضی صاحب اس ظالم بادشاہ پر الزام ( معنوی) کا انشاء تو کر سکتا ہے یعنی حکم تو بیان کر سکتا ہے لیکن اس ظالم بادشاہ پر حکم کا نفاذ بالکل نہیں کر سکتا، ظالم بادشاہ پر نفاذِ حکمِ قاضی کے متعذر ہونے کی وجہ سے، پس حاکم اس اعتبار سے کہ وہ حاکم ہے اس کو صرف انشاء حکم ( انشاء الزام معنوی ) حاصل ہوتا ہے، اور بہرحال قوت تنفیذ یعنی نافذ کرنے کی اتھارٹی و طاقت، وہ حاکم و قاضی ہونے پر ایک امر زائد ہے یعنی اس اتھارٹی کے بغیر بھی قاضی ہو سکتا ہے، قاضی کو قوت تنفیذ کا حاصل ہونا ایک خارجی امر زائد ہے کسی قاضی کو حاصل ہوتی ہے کسی قاضی کو حاصل نہیں ہوتی ہے اور اس کا مفصل بیان مصنف رحمتہ اللہ علیہ نے فصل ثالث میں ولایت کے چھٹے رتبے میں بیان کیا ہے، من شاء الاطلاع فلیراجع۔
وَلَيْسَ كُلُّ الْحُكَّامِ لَهُمْ قُوَّةُ التَّنْفِيذِ لَا سِيَّمَا الْحَاكِمُ الضَّعِيفُ الْقُدْرَةِ عَلَى الْجَبَابِرَةِ، فَهُوَ يُنْشِئُ الْإِلْزَامَ وَلَا يَحْصُلُ لَهُ تَنْفِيذُهُ لِتَعَذُّرِ ذَلِكَ عَلَيْهِ، فَالْحَاكِمُ مِنْ حَيْثُ هُوَ حَاكِمٌ لَيْسَ لَهُ إلَّا الْإِنْشَاءُ، وَأَمَّا قُوَّةُ التَّنْفِيذِ فَأَمْرٌ زَائِدٌ عَلَى كَوْنِهِ حَاكِمًا - أَلَا يُرَى أَنَّ الْمُحَكَّمَ لَيْسَ لَهُ قُوَّةُ التَّنْفِيذِ، وَقَدْ تَقَدَّمَ هَذَا فِي الرُّتْبَةِ السَّادِسَةِ مِنْ رُتَبِ الْوِلَايَةِ.
دوسری قسم یعنی دوسرے کے حکم کو نافذ کرنا یہ بات بھی پہلے آ چکی ہے کہ ایک معاملہ سے متعلق پہلا قاضی فیصلہ کر چکا تھا اب وہ معاملہ دوسرے قاضی کے پاس آ رہا ہے تو دوسرا قاضی اگر یہ کہتا ہے کہ میرے نزدیک یہ ثابت ہوا ہے کہ یہ معاملہ فلاں قاضی کے پاس اس طرح ثابت ہوا ہے تو محض اس قاضی کا یہ کہنا کہ میرے نزدیک یہ ثابت ہوا ہے کہ فلاں قاضی کے پاس اس طرح ثابت ہوا ہے یہ اس قاضی کی طرف سے حکم نہ ہوگا اور نہ پہلے قاضی کی طرف سے حکم نافذ کرنا ہوگا بلکہ پہلے قاضی کے پاس جو معاملہ جس نوعیت سے ثابت ہوا ہے اس نے اسی اعتبار سے حکم دیا ہے اور دوسرے قاضی کو لگ رہا ہے کہ پہلے قاضی کے پاس یہ معاملہ اس طرح ثابت ہوا ہے تو دوسرا قاضی اس حکم کی خبر بیان کر رہا ہے چنانچہ مصنف نے فرمایا کہ دوسرے کے حکم کو نافذ کرنا بایں طور کہ دوسرا قاضی کہے اس معاملہ سے متعلق جس معاملہ کا حکم پہلے قاضی دے چکا ہو کہ میرے نزدیک ثابت ہوا ہے کہ یہ معاملہ فلاں حاکم کے پاس اس طرح ثابت ہوا ہے تو دوسرے قاضی کا یہ کہنا پہلے قاضی کے حکم کو نافذ کرنا نہیں ہوگا یعنی یہ نہیں سمجھا جائے گا کہ یہ دوسرا قاضی اس کو نافذ کرنے والا ہے اور اسی طرح اگر قاضی ثانی کہے میرے نزدیک ثابت ہوا ہے کہ فلاں نے اس معاملے میں اس طرح حکم دیا ہے اس طرح حکم دیا ہے تو یہ بھی حکم نہیں ہوگا اس مثبت کی طرف سے یعنی دوسرے قاضی کی طرف سے جو اس معاملے کو پہلے قاضی سے ثابت کر رہا ہے بلکہ اگر یہ قاضی یعنی قاضی ثانی اعتقاد رکھتا ہو اس بات کا کہ پہلے والے نے خلاف اجماع حکم دیا ہے تو بھی صحیح ہے اس قاضی کے لیے کہنا کہ میرے نزدیک یہ ثابت ہوا ہے کہ یہ معاملہ فلاں قاضی کے پاس اس طرح اور اس طرح ثابت ہوا ہے حالانکہ وہ اجماع کے خلاف ہے خلاصہ یہ کہ غلط فیصلہ،خلاف اجماع فیصلہ کا بھی ثبوت ہو سکتا ہے اسی لیے اس قاضی کا کہنا کہ فلاں قاضی کے پاس یہ معاملہ اس طرح اور اس طرح ثابت ہوا ہے اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ یہ قاضی پہلے قاضی کے حکم کو نافذ کر رہا ہے یہ تو خلاف اجماع ہے یہ کیسے اس کو نافذ کرے گا بس یہ صرف خبر دے رہا ہے کہ فلاں کے پاس اس طرح ثابت ہوا ہے، اسی کو مصنف نے فرمایا کہ اس لیے بھی کہ کبھی کبھی تصرف فاسد بھی قاضی کے یہاں ثابت ہوتا ہے تاکہ اس تصرف فاسد پر اس کا موجب مرتب ہو سکے اور وہ موجب کیا ہے اس فیصلے کو توڑ دینا یا اس قاضی کو سزا دینا جس نے غلط فیصلہ کیا ہے یہ بات پہلے گزر چکی ہے تو محض ثابت ہونے سے یہ نہیں سمجھا جائے گا کہ پہلے قاضی نے حکم نافذ کیا ہے یا یہ دوسرا قاضی پہلے قاضی کے فیصلے کو نافذ کر رہا ہے نہیں بس یہ دوسرا قاضی صرف اس کے ثبوت کو بتا رہا ہے اور ثبوت کی خبر دے رہا ہے،امام قرافی نے جہاں قاضی کی تصرفات کی بیس انواع بیان کی تھی وہاں پر ساتویں نوع میں اس کا حکم بیان ہو چکا ہے خلاصہ کے طور پر نہ تو تنفیذ میں قاضی کی جانب سے ہرگز حکم ہوگا اور نہ ہی اثبات میں یہ کہنا کہ فلاں کا حکم وہ اتفاق کرنے والا ہے یا مدد کرنے والا ہے سابق قاضی کے حکم کی صحت کو اور نہ ہی قاضیوں کے یہاں اثبات حکم کی کثرت کا کوئی شمار و اعتبار کیا جاتا ہے چاہے جتنی مرتبے بھی معاملہ ثابت ہو جائے ثابت ہونے سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ حکم ہے ثابت ہونا الگ چیز ہے اس پر حکم لگنا الگ چیز ہے اور اس کو نافذ کرنا الگ چیز ہے ثابت ہزار مرتبہ ہوجائے ثابت ہونے کی کثرت سے اس کو حکم یا اس کو نفاذ شمار نہیں کیا جائے گا پس یہ معاملہ جتنی مرتبہ بھی حاکموں کے پاس ثابت ہو جائے وہ حکم واحد کی طرح ہے وہ تمام پہلے حکم کی طرف لوٹتے ہیں مگر یہ کہ دوسرا قاضی بھی اگر کہے کہ میں بھی وہی حکم دیتا ہوں جو پہلے قاضی نے حکم دیا واضح الفاظ میں، اور یہ کہے کہ میں بھی اس کے موجب کو لازم کر رہا ہوں یا اس کے مقتضی کو لازم کر رہا ہوں جو پہلے قاضی نے واجب کیا ہے تو پھر یہ دو قاضیوں کا حکم شمار کیا جائے گا۔
وَالْقِسْمُ الثَّانِي: تَنْفِيذُهُ حُكْمَ غَيْرِهِ، وَذَلِكَ بِأَنْ يَقُولَ فِيمَا تَقَدَّمَ الْحُكْمُ فِيهِ مِنْ غَيْرِهِ: وَثَبَتَ عِنْدِي أَنَّهُ ثَبَتَ عِنْدَ فُلَانٍ مِنْ الْحُكَّامِ كَذَا، فَهَذَا لَيْسَ بِحُكْمٍ مِنْ الْمُنَفِّذِ أَلْبَتَّةَ، وَكَذَا إذَا قَالَ: ثَبَتَ عِنْدِي أَنَّ فُلَانًا حَكَمَ بِكَذَا وَكَذَا، فَلَيْسَ حُكْمًا مِنْ هَذَا الْمُثْبِتِ، بَلْ لَوْ اعْتَقَدَ أَنَّ ذَلِكَ الْحُكْمَ عَلَى خِلَافِ الْإِجْمَاعِ صَحَّ مِنْهُ أَنْ يَقُولَ: ثَبَتَ عِنْدِي أَنَّهُ ثَبَتَ عِنْدَ فُلَانٍ كَذَا وَكَذَا؛ لِأَنَّ التَّصَرُّفَ الْفَاسِدَ قَدْ يَثْبُتُ عِنْدَ الْحَاكِمِ لِيُرَتَّبَ عَلَيْهِ مُوجَبُ ذَلِكَ وَقَدْ تَقَدَّمَ هَذَا فِي النَّوْعِ السَّابِعِ مِنْ تَصَرُّفَاتِ الْحُكَّامِ وَبِالْجُمْلَةِ لَيْسَ فِي التَّنْفِيذِ حُكْمٌ أَلْبَتَّةَ وَلَا فِي الْإِثْبَاتِ أَنَّ فُلَانًا حَكَمَ مُسَاعَدَةٌ عَلَى صِحَّةِ الْحُكْمِ السَّابِقِ، فَلَا يُعْتَدُّ بِكَثْرَةِ الْإِثْبَاتِ عِنْدَ الْحُكَّامِ، فَهَذَا كُلُّهُ كَحُكْمٍ وَاحِدٍ وَهُوَ رَاجِعٌ إلَى الْحُكْمِ الْأَوَّلِ، إلَّا أَنْ يَقُولَ الثَّانِي: حَكَمْتُ بِمَا حَكَمَ بِهِ الْأَوَّلُ وَأَلْزَمْتُ بِمُوجَبِهِ وَمُقْتَضَاهُ.
(تَنْبِيهٌ) :
یہاں سے مصنف رحمۃ اللہ علیہ یہ تنبیہ کرنا چاہتے ہیں کہ یہ مسئلہ تب ہوگا جب کہ پہلے قاضی اور دوسرے قاضی ان دونوں کا مذہب ایک ہو یعنی وہ دونوں ایک ہی امام کے مقلد ہوں لیکن اگر دونوں کا مسلک مختلف ہو مثلا ایک مالکی ہو دوسرا قاضی حنفی ہو یا پہلا قاضی شافعی تھا دوسرا حنبلی ہو چنانچہ اگر دونوں قاضیوں کا مسلک مختلف ہو تو پھر خارج مذہب ( حنفیوں کے علاوہ) بعض حضرات نے فرمایا کہ جب قاضی ثانی کے پاس مذاہب اربعہ مشورہ میں سے کسی ایک قاضی کا حکم وارد ہو جائے جبکہ جس قاضی ( ثانی ) پر حکم وارد ہو رہا ہے اس کا اعتقاد دوسرا مذہب ہو ( دوسرے مذہب کے مطابق)یعنی وہ دوسرے امام کا مقلد ہو تو کیا اس حکم کو نافذ کرنا لازم ہو جائے گا (پہلے والے قاضی کے حکم کو )اور محکوم علیہ پر اس مال کا لوٹانا لازم ہوگا جس کے بارے میں قاضی اول نے حکم دیا ہے۔
هَذَا حُكْمُ مَا إذَا كَانَ الْحَاكِمُ الْأَوَّلُ وَالْمُنَفِّذُ الثَّانِي مَذْهَبُهُمَا وَاحِدٌ أَمَّا مَعَ اخْتِلَافِ الْمَذَاهِبِ فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ خَارِجَ الْمَذْهَبِ: إذَا وَرَدَ عَلَى حَاكِمٍ حُكْمٌ بِأَحَدِ الْمَذَاهِبِ الْمَشْهُورَةِ وَالْقَاضِي الْوَارِدُ عَلَيْهِ الْحُكْمُ اعْتِقَادُهُ مَذْهَبٌ آخَرُ فَهَلْ يَلْزَمُهُ تَنْفِيذُ هَذَا الْحُكْمِ وَإِلْزَامُ الْمَحْكُومِ عَلَيْهِ بِدَفْعِ الْمَالِ الَّذِي حَكَمَ بِهِ عَلَيْهِ الْقَاضِي.
یا محکوم علیہا بیوی پر لازم کرے گا نکاح کے صحت کو اور اسی طرح شوہر کو بیوی پر قدرت دینا کو لازم کرے گا باوجود کی اس قاضی یعنی دوسرے قاضی کے مذہب کا مقتضی وہ خلاف ہے اس کے جس کا حکم پہلے قاضی نے دیا ہے ان تینوں مسئلوں میں مثلا میاں بیوی میں رضاعت ثابت ہوگئ مگر پہلا قاضی شافعی المسلک تھا اس نے دیکھا ایک دو ہی گھونٹ ثابت ہے اس اپنے مذہب کے مطابق رضاعت کے عدم ثبوت و نکاح کے برقرار رہنے کا حکم دیا اسی طرح مال کے لوٹانے میں بھی کہ پہلے شافعی قاضی کے یہاں مال لوٹانا ضروری تھا اس لیے اس نے مال لوٹانے کا حکم دیا اب دیکھئے حنفیہ کے یہاں ایک گھونٹ سے بھی رضاعت ثابت ہے اس لیے یہاں پہلے قاضی کا حکم دوسرے حنفی قاضی کے خلاف ہے چناں چہ ان جیسے مسائل کے متعلق مصنف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ دو قول مروی ہیں پہلا قول یہ ہے کہ دوسرا قاضی ایسے معاملے میں جب کہ پہلا قاضی دوسرے امام کا مقلد تھا اور ثانی دوسرے امام کا مقلد ہے تو پھر دوسرا قاضی پہلے قاضی کے حکم کو نافذ کرنے اور اس کو باطل قرار دینے میں توقف کرے گا یعنی وہ اس میں کوئی حکم نہیں دے گا اس لیے کہ اگر اس کو نافذ کرتا ہے اور محکوم علیہ پر لازم کرتا ہے وہ جس کو لازم کیا گیا ہے جبکہ وہ اپنے مذہب کے مطابق اسے حق نہیں سمجھتا ہے تو یہ پھر اپنے مذہب کے اعتقاد کے خلاف فیصلہ کرے گا اس لیے دوسرا قاضی اس کو نافذ تو نہیں کر سکتا کیونکہ اس کے مذہب کے خلاف ہے اور باطل بھی نہیں کر سکتا کیونکہ مجتہد فیہ مسئلہ ہے اور پہلے بات آ چکی ہے کہ اجتہادی مسئلے میں دوسرا قاضی پہلے قاضی کے حکم کو نہیں توڑ سکتا اس لیے پہلا قول یہ ہے کہ نہ اس حکم کو نافذ کرے گا نہ اس حکم کو باطل قرار دے گا بلکہ موقف رکھے گا
أَوْ إلْزَامُ الزَّوْجَةِ الْمَحْكُومِ عَلَيْهَا بِصِحَّةِ النِّكَاحِ وَتَمْكِينِ الزَّوْجِ مِنْهَا مَعَ أَنَّ مُقْتَضَى مَذْهَبِهِ هُوَ خِلَافُ مَا نَفَذَ بِهِ ذَلِكَ الْحُكْمُ؟ فِي ذَلِكَ قَوْلَانِ: أَحَدُهُمَا أَنَّهُ يَقِفُ عَنْ تَنْفِيذِهِ وَإِبْطَالِهِ؛ لِأَنَّهُ إنْ نَفَّذَهُ وَأَلْزَمَ الْمَحْكُومَ عَلَيْهِ بِمَا فِيهِ
أَلْزَمَهُ مَا لَا يَرَى أَنَّهُ الْحَقُّ عِنْدَهُ.
جبکہ دوسرا قول یہ ہے کہ دوسرا قاضی پہلے قاضی کے حکم کو نافذ کرے گا اگرچہ اس کے مذہب کے خلاف ہے اور لازم کرے گا محکوم عالیہ پر وہ چیز جس کو حکم شامل ہے اس لیے کہ پہلے قاضی کے حکم کو موقف رکھنا نفاذ سے یہ اس کو باطل قرار دینے کی طرح ہے نافذ نہیں کرے گا اس کا مطلب باطل قرار دے رہا ہے کیونکہ باطل نہ کرتا تو پھر نافذ ہونا چاہیے تھا اس لیے اگر نافذ نہیں کرتا گویا باطل قرار دے رہا ہے زبان حال سے اور یہ بات پہلے ہم بتا چکے ہیں کہ مجتہد فیہ مسئلے میں احکام کا توڑنا ممنوع ہے یہی ظاہری مذہب ہے اور قول آخر یعنی جو پہلا حکم ( نہ نافذ کرے گا نہ باطل) ہے مصنف فرماتے ہیں میں نے اھل مذاہب میں یہ کسی کا قول نہیں پایا، واللہ اعلم۔
وَالثَّانِي: أَنَّهُ يُنَفِّذُهُ وَيُلْزِمُ الْمَحْكُومَ عَلَيْهِ مَا تَضَمُّنُهُ الْحُكْمُ؛ لِأَنَّ تَوْقِيفَهُ عَنْ إنْفَاذِهِ كَإِبْطَالِهِ، وَقَدْ قُلْنَا: إنَّهُ مَمْنُوعٌ عَنْ نَقْضِ الْأَحْكَامِ الْمُجْتَهَدِ فِيهَا، وَهُوَ الظَّاهِرُ مِنْ الْمَذْهَبِ، وَالْقَوْلُ الْآخَرُ لَمْ أَجِدْهُ لِأَهْلِ الْمَذْهَبِ، وَاَللَّهُ أَعْلَمُ
No comments:
Post a Comment