فصل!
اور اس ركن ثانی مقضی بہ كے ساتھ ان چیزوں كا بیان بھی ملے گا جن میں قضاء قاضی توڑا جاے گا، چناں چہ مصنفؒ نے فرمایا كہ حضرات علماء نے صراحت كی ہے كہ قاضی كا حكم چار جگہوں میں برقرار نہ ركھاجاے گا بلكہ توڑا جاے گا، {1} جب قاضی كا حكم اجماع كے خلاف واقع ہو، {2} جب قاضی كا حكم قواعد شرعیہ كے خلاف واقع ہو،{3} جب قاضی كا حكم نص جلی كے خلاف واقع ہو، {4} جب قاضی كا حكم قیاس شرعیہ كے خلاف واقع ہو،
اور مصنفؒ نے صرف دو كی مثال بیان كی ، دو كی مثال بیان نہیں كی {1] خلاف اجماع كی مثال ، جیسے كہ واضح ہے دادا حقیقی و علاتی بھاءی بہنوں كی موجودگی وارث بنتا ہے، محروم كسی صورت نہیں ہوتا، ہاں حقیقی بھاءی و علاتی جد كی موجودگی میں وارث ہوں گے یا نہیں اس میں تو اختلاف ہے لیكن پہلی صورت میں كوءی اختلاف نہیں ہے اور یہ اجماع امت سے ثابت ہے۔
اب اگر قاضی صاحب نے حکم دیا کہ میراث پوری بھائی کو دی جائے گا دادا کو کچھ نہ دیا جائے، اس بات پر قیاس کرتے ہوئے کہ دادا کا تعلق ابوۃ سے ہے اور بھائی کا تعلق بنوۃ سے، اور بنوۃ میت کے زیادہ قریب ہے، اس لئے کل کی کل میراث بھائی کو دی جاے، دادا محروم ہوگا، تو ظاہر ہے یہ حکم تعامل امت، اجماع امت کے خلاف ہے اس لئے قاضی صاحب کے اس خلاف اجماع حکم کو ضرور توڑا جاے گا۔ فَصْلٌ مَا
يُنْقَضُ فِيهِ قَضَاءُ الْقَاضِي]
(فَصْلٌ) :
وَيُلْحَقُ بِهَذَا الرُّكْنِ بَيَانُ مَا يُنْقَضُ فِيهِ قَضَاءُ الْقَاضِي، وَقَدْ نَصَّ الْعُلَمَاءُ عَلَى أَنَّ حُكْمَ الْحَاكِمِ لَا يَسْتَقِرُّ فِي أَرْبَعِ مَوَاضِعَ وَيُنْقَضُ، وَذَلِكَ إذَا وَقَعَ عَلَى خِلَافِ الْإِجْمَاعِ أَوْ الْقَوَاعِدِ أَوْ النَّصِّ الْجَلِيِّ أَوْ الْقِيَاسِ، وَمِثَالُ ذَلِكَ كَمَا لَوْ حَكَمَ بِأَنَّ الْمِيرَاثَ كُلَّهُ لِلْأَخِ دُونَ الْجَدِّ فَهَذَا خِلَافُ الْإِجْمَاعِ؛ لِأَنَّ الْأُمَّةَ عَلَى قَوْلَيْنِ هُمَا: الْمَالُ كُلُّهُ لِلْجَدِّ، أَوْ يُقَاسِمُ الْأَخَ، أَمَّا حِرْمَانُ الْجَدِّ بِالْكُلِّيَّةِ فَلَمْ يَقُلْ بِهِ أَحَدٌ، فَمَتَى حَكَمَ بِهِ حَاكِمٌ بِنَاءً عَلَى أَنَّ الْأَخَ يُدْلِي بِالْبُنُوَّةِ وَالْجَدُّ يُدْلِي بِالْأُبُوَّةِ، وَالْبُنُوَّةُ مُقَدَّمَةٌ عَلَى الْأُبُوَّةِ نَقَضْنَا هَذَا الْحُكْمَ وَإِنْ كَانَ مُفْتِيًا لَمْ يُقَلِّدْهُ.
دوسری مثال کو مصنف نے دی ہے کہ قواعد شرعیہ کے خلاف قاضی کا حکم واقع ہو، مثلا مسئلہ سریجیہ،احمد بن عمر ابن سریج کا کہنا ہے کہ اگر کسی نے اپنی بیوی سے کہا ”ان وقع علیک طلاقی فانت طالق قبلہ ثلاثا“ اور پھر شوہر بیوی کو طلاق دے تو طلاق سرے سے واقع نہیں ہوگی، کیوں کہ شرط لگا شوہر طلاق دینا نہیں چاہ رہا ہے، لہذا اس طرح طلاق کا وقوع ہوگا نہیں، جبکہ یہ صریح قواعد شرعیہ کے خلاف ہے، کیونکہ قواعد شرعیہ میں سے یہ ہے کہ جب شرط پایا جاے گا تو مشروط کا وقوع ضرور ہوگا، اس لیے کہ شرط لگانے کی حکمت ہی شریعت میں یہ ہے کہ جہاں شرط کا وجود ہوگا، تو مشروط کا اثر بھی ظاہر ہوگا، وگرنہ شرط کے کوئی معنی نہیں، چناں چہ اس مسئلہ”مسئلہ سریجیہ“ میں چوں کہ شوہر نے طلاق ثلاثہ سابقہ کو طلاق منجز کے ساتھ معلق کیا ہے تو طلاق منجز شرط ہوئی اور طلاق ثلاثہ سابق مشروط، لہذا جب طلاق منجز ایک، دو، تین جتنی بھی ہوں پائی جاے تو مشروط طلاق ثلاثہ سابق کا ہوگا اس سے پہلے ہوجاے گا، یہی درست مسئلہ ہے، اب اگر کسی قاضی صاحب نے مسئلہ سریجیہ کے مطابق اس مسئلہ ”ان وقع علیک طلاقی فانت طالق ثلاثا قبلہ“ میں قاعدۂ شرعیہ کے خلاف فیصلہ کیا کہ نکاح برقرار رکھا جاے تو قاضی کا یہ حکم بہر صورت توڑا جاے گا،
وَمِثَالُ مُخَالَفَةِ الْقَوَاعِدِ الْمَسْأَلَةُ السُّرَيْجِيَّةُ مَتَى حَكَمَ حَاكِمٌ بِتَقْرِيرِ النِّكَاحِ فِيمَنْ قَالَ: إنْ وَقَعَ عَلَيْك طَلَاقِي فَأَنْتَ طَالِقٌ قَبْلَهُ ثَلَاثًا فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا أَوْ أَقَلَّ، فَالصَّحِيحُ عِنْدَهُمْ لُزُومُ الطَّلَاقِ الثَّلَاثِ، فَإِذَا مَاتَتْ أَوْ مَاتَ وَحَكَمَ حَاكِمٌ بِالتَّوَارُثِ بَيْنَهُمَا نَقَضْنَا حُكْمَهُ؛ لِأَنَّهُ عَلَى خِلَافِ الْقَوَاعِدِ؛ لِأَنَّ مِنْ قَوَاعِدِ الشَّرْعِ صِحَّةُ اجْتِمَاعِ الشَّرْطِ مَعَ الْمَشْرُوطِ؛ لِأَنَّ حِكْمَتَهُ إنَّمَا تَظْهَرُ فِيهَا، فَإِذَا كَانَ الشَّرْطُ لَا يَصِحُّ اجْتِمَاعُهُ مَعَ مَشْرُوطِهِ فَلَا يَصِحُّ أَنْ يَكُونَ فِي الشَّرْعِ شَرْطًا، فَلِذَلِكَ يُنْقَضُ حُكْمُ الْحَاكِمِ فِي الْمَسْأَلَةِ السُّرَيْجِيَّةِ وَهِيَ الَّتِي وَقَعَ التَّمْثِيلُ بِهَا
باقی دو مثالوں کے بارے میں مصنف نے فرمایا، وہ بہت واضح ہیں، اور جابجا ان کی مثالیں آتی رہتی ہیں۔
لیکن ہم افادۂ عام کے لیے ان دو مسئلوں کی مثال بھی بیان کرتے ہیں، (٣) نص شرعی کے خلاف فیصلہ! مثلا شراب جوا بنص قرآن حرام ہے اور قاضی صاحب نرمی اور تساہل برتتے ہوئے کسی خاص واقعہ میں حلال کا حکم بیان کر رہے ہیں یا سود حرام ہے قرآن میں واضح حکم ہے اور قاضی صاحب نے حیلہ بازی کرکے حلال کا حکم بیان کر دیا، تو ان جگہوں میں قاضی کا حکم توڑا جاے گا۔
اسی طرح قیاس شرعی کے خلاف قاضی صاحب کا فیصلہ توڑا جاے گا، مثلاً، مسائل شرعیہ کے اوّلین ماخذ قرآن ِمجید میں خمر (شراب) حرام ہے اور اِس کی حرمت کی علت اُس کا نشہ آور ہونا ہے۔لہٰذا جو بھی دوسری چیزیں ایسی ہوں گی جن میں نشہ آور ہونے کی علت پائی جاتی ہے وہ حرام ہوں گی۔یعنی خمر کی حرمت ثابت ہوگی نص قرآنی سے اور دوسری نشہ آور اشیاءکی حرمت قیاس سے ہے، قاضی صاحب نے قیاس کے خلاف فیصلہ کیا کہ خمر ( جس کا حکم قرآن میں ہے ) کے علاوہ تمام اشربہ مخامرہ حلال ہے تو یہ حکم قاضی چوں کہ قیاس شرعی کے خلاف ہے، اس لیے توڑا جاے گا۔
وَالْمَوْضِعَانِ الْآخَرَانِ وَاضِحَانِ لَا يُحْتَاجُ إلَى تَمْثِيلٍ فِيهَا.
تنبیہ یہاں سے مصنف رحمۃ اللہ تعالی علیہ تنبیہ کرنا چاہتے ہیں چنانچہ فرماتے ہیں کے اوپر جو علمائے کرام نے یہ صراحت کی تھی کہ قاضی کا حکم توڑا جائے گا جب قاضی صاحب کا حکم نص جلی، اجماع امت، قواعد شرعیہ اور قیاس شرعی کے خلاف ہو۔
اس کے متعلق مصنف رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ علماء کے اس قول سے مراد یہ ہے کہ جب قاضی کے رائے کی مخالف میں کوئی ایسی دوسری رائے نہ ہو جو راجح ہو یعنی اگر قاضی صاحب نے جو فیصلہ کیا ہے اس کے مقابل ایک دوسری رائے ہے جو راجح ہے اور قاضی صاحب کا یہ فیصلہ اس راجح رائے کے موافق ہے، راجح حکم کے موافق ہے تو اس صورت میں قاضی صاحب کا فیصلہ نہیں توڑا جائے گا، قاضی صاحب کا فیصلہ تو تب توڑا جائے گا جب قاضی صاحب کے معارض میں کوئی راجح حکم نہ ہو، حکمِ قاضی کے بالمقابل کوئی دوسری راجح رائے نہ ہو تب قاضی کا فیصلہ توڑا جائے گا اور یہ حکم اجماعی ہے، جیسے زمین کی سینچائی کے مسئلہ کی صحت کا فیصلہ قاضی نے کیا، باغات کی سینچائی کے عقد کی صحت کا، بیعِ سلم کی صحت کا، اسی طرح بیعِ حوالہ کی صحت کا فیصلہ ایسے ہی مضاربت کا مسئلہ ہے کہ یہ تمام عقود خلافِ قواعد شرعیہ، نصوص جلیہ، قیاس شرعیہ ہے، لیکن چوں کہ نص کے معارض دوسری نص، قاعدہ شرعیہ کے معارض دوسرا قاعدہ، قیاس کے معارض دوسرا قیاس ہے اور یہ سارا معارضات راجح ہیں اس لئے جب قاضی کا کیا ہوا فیصلہ ان معارضات کے موافق ہو تو قاضی کے فیصلہ کو اس لیے نہیں توڑا جائے گا کیوں کہ وہ ان دلائل شرعیہ کے معارض راجح دلائل کے موافق ہے،اگر ان دلائل کے معارض دوسرے راجح دلائل نہ ہوتے پھر قاضی کا فیصلہ ان دلائل کے مخالف ہوتا تو ضرور توڑا جاتا جیسا کہ پہلے معلوم ہو چکا۔
(تَنْبِيهٌ) :
مَعْنَى قَوْلِ الْعُلَمَاءِ إنَّ حُكْمَ الْحَاكِمِ يُنْقَضُ إذَا خَالَفَ الْقَوَاعِدَ أَوْ الْقِيَاسَ أَوْ النَّصَّ، فَالْمُرَادُ إذَا لَمْ يَكُنْ لَهَا مُعَارِضٌ رَاجِحٌ عَلَيْهَا، أَمَّا إذَا كَانَ لَهَا مُعَارِضٌ فَلَا يُنْقَضُ الْحُكْمُ إذَا كَانَ وَفْقَ مُعَارِضِهَا الرَّاجِحِ إجْمَاعًا كَالْقَضَاءِ بِصِحَّةِ عَقْدِ الْقِرَاضِ وَالْمُسَاقَاةِ وَالسَّلَمِ وَالْحَوَالَةِ وَنَحْوِهَا، فَإِنَّهَا عَلَى خِلَافِ الْقَوَاعِدِ وَالنُّصُوصِ وَالْأَقْيِسَةِ.
یہاں سے مصنفؒ فرماتے ہیں كہ قاضی اپنا كیا ہوا فیصلہ خود توڑ سكتا ہے یا نہیں چناں چہ فرماتے كہ جب قاضی كے سامنے اپنے فیصلہ كا غلط ہونا ثابت ہوگیا، اگرچہ قاضی كا فیصلہ كسی قاءل كے قول كے موافق ہو تب بھی قاضی پر ضروری ہے كہ اپنے دءے ہوءے حكم سے رجوع كرے، آگے امام ابوبكر جصاص الرازیؒ كے حوالہ سے ایك اختلافی مسئلہ ذكر كر رہے ہیٰں وہ یہ كہ اگر قاضی نے بھولے سے اپنے مذہب كے خلاف فیصلہ كیا تو كیا رجوع كرے گا یا نہیں۔ (فَصْلٌ) :
فِي نَقْضِ الْقَاضِي أَحْكَامَ نَفْسِهِ
وَلَهُ ذَلِكَ إذَا ظَهَرَ لَهُ الْخَطَأُ وَإِنْ كَانَ قَدْ أَصَابَ قَوْلُ قَائِلٍ وَذَكَرَ الْقَاضِي أَبُو بَكْرٍ الرَّازِيّ الْخِلَافَ فِيمَا إذَا قَضَى بِخِلَافِ مَذْهَبِهِ وَقَدْ نَسِيَهُ.
تو حكم یہ ہے كہ اگر قاضی دانستہ ، اپنے مذہب كا مسءلہ یاد ہوتے ہوءے غیر مذہب پر فیصلہ كر دے تو بالاجماع اس كا فیصلہ كرنا جاءز نہیں ہے۔
فَأَمَّا مَتَى حَكَمَ بِخِلَافِ مَذْهَبِهِ حَالَ ذِكْرِ مَذْهَبِهِ لَا يَجُوزُ حُكْمُهُ بِالْإِجْمَاعِ.
اور اگر بوقت قضاء قاضی صاحب كی كوءی رای نہیں بن پاءی اور قاضی نے مذہب غیر پر فیصلہ كیا پھر قاضی كو ایك اور راءے سوجھی پہلی والی رای كے خلاف تو كیا قاضی اپنے فیصلہ كو توڑے گا یا نہیں چناں چہ اس سلسلے میں امام جصاصؒ نے صاحبین كا اختلاف ذكر كیا ہے فرمایا كہ امام محمدؒ فرماتے كہ قاضی اپنے فیصلہ كو توڑ دے گا، اس لے كہ قاضی كا فیصلہ قضاء كے وجوب كے سلسلے میں اس پر نص كے درجے میں ہے،اس لءے كہ یہ اس پر فیصلہ كرنے كو واجب كرتا ہے نص كے طور پر ، یہ ایسا ہی ہے كہ قاضی اپنی راے پر فیصلہ كیا پھر اس كے سامنے اپنی راے كے خلاف واضح نص آءی ، تو جیسے قاضی پر یہاں اپنا فیصلہ توڑ كر موجودہ نص پر فیصلہ كرنا ضروری ہے اسی طرح وہاں بھی كہ جب قاضی دوسرے كی راے پر فیصلہ كرے پھر اسے اس كے خلاف راءے ظاہر ہوءی، اور امام ابویوسفؒ فرماتے كہ جب قاضی نے دوسرے كی راءے پر فیصلہ كر دیا وہ نافض ہو گیا اب اسے خود توڑ نہیں سكتا ہے۔
أَمَّا إذَا لَمْ يَكُنْ لِلْقَاضِي رَأْيٌ وَقْتَ الْقَضَاءِ فَقَضَى بِرَأْيِ غَيْرِهِ ثُمَّ ظَهَرَ لِلْقَاضِي رَأْيٌ بِخِلَافِ مَا قَضَى هَلْ يُنْقَضُ قَضَاؤُهُ؟ قَالَ مُحَمَّدٌ: يُنْقَضُ قَضَاؤُهُ؛ لِأَنَّ رَأْيَهُ فِي حَقِّ وُجُوبِ الْقَضَاءِ عَلَيْهِ بِمَنْزِلَةِ النَّصِّ؛ لِأَنَّهُ يُوجِبُ الْقَضَاءَ عَلَيْهِ كَالنَّصِّ، وَلَوْ قَضَى بِرَأْيِهِ ثُمَّ تَبَيَّنَ نَصٌّ بِخِلَافِهِ يُنْقَضُ قَضَاؤُهُ، فَكَذَا هَذَا وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ: لَا يُنْقَضُ " اُنْظُرْ الْمُحِيطَ ".
كیا قاضی دوسرے قاضی كے فیصلہ كو توڑ سكتا ہے یا نہیں اس سلسلے مصنفؒ فرماتے ہیں كہ اگر دوسرا قاضی انصاف پرور ہو تو پھر اس كے ساتھ تعرض بھی نہیں كر سكتا ہے ، علامہ ابو حامدؒ فرماتے كہ قاضی پر ضروری ہے كہ اس فیصلہ كے ساتھ كوءی تعرض نہ كرے جو فیصلہ كسی قاضی كا كیا ہوا ہو، ہاں مگر جب قاضی كسی دوسرے قاضی كے فیصلہ كو كسی خاص معاملہ كے پیش آنے كے وقت بطور تجویز كے دیكھنا، یا اس میں كوئی جزئیہ تلاش كرنا چاہئے ، تو بطور تجویز ایسا كر سكتا ہے ، اور اگر تحقیقی نظر یا تعاقب كے لئے ایسا كرتا ہو تو پھر جائز نہیں ہے۔ اگرچہ کسی فریق نے اس کا مطالبہ بھی کیا ہو، یہ حکم ان احکام کے سلسلے میں ہیں کہ قاضی پتہ ہی نہیں کہ وہ حق کے موافق ہیں یا مخالف، چناں چہ اسی وجہ سے کشف ( جستجو و تحقیق) اور تعاقب سے روکا گیا ہے، ہاں اگر قاضی ثانی کو پتہ چلا ہو کہ قاضی اول نے فیصلہ کرنے میں صریح غلطی کی ہے، اور اس فیصلہ کے غلط ہونے میں کسی کا اختلاف نہ ہو، غلطی صریح طور پر عند القاضی ثابت ہو، تو اب قاضی دوم کے لیے حکم ہے کہ وہ پہلے قاضی کا حکم رد کر سکتا ہے اور محکوم علیہ سے فسخ کر سکتا ہے۔
[فَصْلٌ نَقْض الْقَاضِي أَحْكَامَ غَيْرِهِ]
(فَصْلٌ) :
فِي نَقْضِ الْقَاضِي أَحْكَامَ غَيْرِهِ وَنَظَرُهُ فِي أَحْكَامِ غَيْرِهِ مُخْتَلِفٌ.
فَأَمَّا الْعَالِمُ الْعَدْلُ فَلَا يَتَعَرَّضُ لِأَحْكَامِهِ بِوَجْهٍ.
قَالَ أَبُو حَامِدٍ: عَلَى الْقَاضِي أَنْ لَا يَتَعَرَّضَ لِقَضِيَّةٍ أَمْضَاهَا الْأَوَّلُ إلَّا عَلَى وَجْهِ التَّجْوِيزِ لَهَا إنْ عَرَضَ فِيهَا عَارِضٌ بِوَجْهِ خُصُومَةٍ فَأَمَّا عَلَى وَجْهِ الْكَشْفِ لَهَا وَالتَّعْقِيبِ فَلَا وَإِنْ سَأَلَهُ الْخَصْمُ ذَلِكَ، وَهَذَا فِيمَا جَهِلَ مِنْ أَحْكَامِهِ هَلْ وَافَقَ الْحَقَّ أَوْ خَالَفَهُ، فَهَذَا الْوَجْهُ الَّذِي نُفِيَ عَنْهُ الْكَشْفُ وَالتَّعْقِيبُ، إلَّا أَنْ يَظْهَرَ لَهُ خَطَأٌ بَيِّنٌ ظَاهِرٌ وَلَمْ يَخْتَلِفْ فِيهِ وَثَبَتَ ذَلِكَ عِنْدَهُ فَيَرُدُّهُ وَيَفْسَخُهُ عَنْ الْمَحْكُومِ بِهِ عَلَيْهِ.
No comments:
Post a Comment