Thursday, July 25, 2024

d 15

بہرحال قربانی تو قربانی بھی عبادت ہے اور اسی لیے قاضی کا حکم اس کو مستقل طور پر شامل تو نہیں ہوگا البتہ ضمنی طور پر شامل ہوگا جیسا کہ پہلے مسائل گذرے ہیں طلاق و عتاق کو عبادت معلق کرنا۔ 

وَأَمَّا الْأُضْحِيَّةُ: فَهِيَ عِبَادَةٌ لَا يَدْخُلُهَا الْحُكْمُ اسْتِقْلَالًا، وَقَدْ يَدْخُلُهَا بِطَرِيقِ التَّضَمُّنِ فِي التَّعْلِيقِ كَمَا تَقَدَّمَ.
بہرحال صید یعنی شکار چنانچہ شکار کو قاضی کا حکم مستقل طور پر شامل ہو گا، بس جب شکار کے سلسلے میں دو آدمیوں کے درمیان نزاع کی صورت پیش آئے اور ان کا معاملہ قاضی کے پاس پہنچے جبکہ ان دونوں نے اپنے فعلوں کی تصدیق کی کہ ہم دونوں نے شکار کیا ہے اور دونوں کا فعل ترتیب وار صادر ہوا ہے یعنی پہلے ایک نے تیر چلایا پھر دوسرے نے تیر چلایا یا جو بھی صورت ہو یا اگرچہ ترتیب صادر نہیں ہوئی لیکن دونوں نے گواہ پیش کیے کہ ان دونوں نے شکار کیا ہے مل کر اب اگر قاضی کا مذہب تقاضا کرتا تھا کہ شکار پہلے کا ہے یا یہ تقاضا کرتا تھا کہ شکار دوسرے کا ہونا چاہیے پہلے کا اس لیے ہونا چاہیے تھا کہ قاضی کے سامنے واضح ہوگیا کہ تیر تو پہلے والے کا لگا ہے پہلے اس لیے شکار اس کا ہونا چاہیے یا قاضی کی یہ رائے ہو کہ پہلے والے کا تیر تو پہلے لگا ہے لیکن اس تیر سے شکار  تو مرا نہیں بلکہ زخمی ہوا شکار تو دوسرے شکاری کے تیر سے مرا ہے اس لیے شکار دوسرے کا ہونا چاہیے جو بھی صورت قاضی کو سوجھے اس نے فیصلہ کیا اپنے مذہب کے مطابق اور حکم دیا کہ اس کا مالک پہلا ہے یا اس کا مالک دوسرا ہے تو یہ قاضی کا حکم مستقل اور صحیح طور پر اس شکار کو شامل ہوگا اور قاضی کا حکم اس کو اس لیے شامل ہوگا کہ یہ ملکیت کا تقاضا کرتا ہے یعنی کسی کے لیے ملکیت کو ثابت کرتا ہے اس لیے قاضی کا حکم شامل ہوگا اس طرح جتنے بھی وجوہ یا مسائل ہیں جو اثبات ملکیت کا تقاضا کرتے ہیں ان کو قاضی کا حکم مستقلاً شامل ہوگا۔ 
وَأَمَّا الصَّيْدُ: فَيَدْخُلُهُ الْحُكْمُ اسْتِقْلَالًا، فَإِذَا تَنَازَعَ اثْنَانِ فِي صَيْدٍ وَتَرَافَعَا إلَى الْحَاكِمِ وَتَصَادَقَا عَلَى فِعْلَيْنِ صَدَرَا مِنْهُمَا عَلَى التَّرْتِيبِ مَثَلًا أَوْ قَامَتْ الْبَيِّنَةُ عَلَى ذَلِكَ وَكَانَ مُقْتَضَى مَذْهَبِ الْحَاكِمِ أَنَّهُ لِلْأَوَّلِ أَوْ لِلثَّانِي فَحَكَمَ لَهُ بِأَنَّهُ الْمَالِكُ كَانَ ذَلِكَ حُكْمًا مُسْتَقِلًّا صَحِيحًا، وَإِنَّمَا دَخَلَ الْحُكْمُ فِي ذَلِكَ؛ لِأَنَّهُ يَقْتَضِي الْمِلْكَ، وَجَمِيعُ وُجُوهِ الْمِلْكِ يَدْخُلُهَا الْحُكْمُ.
اسی طرح ذبائح کے جتنے بھی معاملات ہیں ان کو قاضی کا حکم ایسی تقصیر کی جہت سے شامل ہوگا جو جرمانہ کا تقاضا کرتی ہو یعنی اگر ذبح کرنے والے نے ذبح غلط کیا اور عمدا غلط کیا تو اب چونکہ اس نے جرم کیا ہے اور اس کو اس جرم کا جرمانہ دینا پڑے گا تو اس اعتبار سے یعنی نقصان کے اعتبار سے جرمانہ کی ادائیگی کے لیے ذبائح میں قاضی کا حکم شامل ہوگا اسی کو مصنف نے کہا ایسی تقصیر کی جہت سے قاضی کا حکم معاملات ذبائح کو شامل ہوگا جو جرمانے کا تقاضا کرتی ہو 
وَأَمَّا الذَّبَائِحُ: فَيَدْخُلُهَا الْحُكْمُ مِنْ جِهَةِ التَّقْصِيرِ الْمُقْتَضِي لِلتَّغْرِيمِ.
اسی طرح ذبائح میں اجرت کے استحقاق کے سلسلے میں قاضی کا حکم شامل ہوگا مثلا ایک شخص نے دوسرے سے اپنا جانور ذبح کروایا اگر یہ جانور صحیح ذبح ہوتا ہے تو ذبح کرنے والے کو اجرت دینا ہوگا اگر غلط ذبح ہوا ہے تو پھر اجرت کا وہ مستحق نہیں ہوگا چناں چہ اسی اجرت کے استحقاق و عدم استحقاق کے سلسلے میں بھی قاضی کا حکم مستقل طور پر شامل ہوگا اسی کو مصنف نے فرمایا کہ اگر گواہ قائم ہوجائیں بایں طور کہ وہ کہیں کہ ذبح صحیح ہوا ہے تو حاکم ذابح کے لیے اجرت کے استحقاق کا حکم دے گا۔ 
وَكَذَا دَفْعُ الْأُجْرَةِ لَوْ قَامَتْ الْبَيِّنَةُ بِأَنَّهُ ذَبْحٌ صَحِيحٌ فَإِنَّهُ يَحْكُمُ لَهُ بِاسْتِحْقَاقِ الْأُجْرَةِ.
اسی طرح جب صاحب ذبیحہ نے کسی شخص کو اپنا ذبیحہ بیچا پھر ان دونوں میں جھگڑا ہو گیا اور معاملہ قاضی کے پاس پہنچا صورت یہ ہے کہ مشتری دعوی کر رہا ہے کہ بائع ( صاحب ذبیحہ) نے مجھے حرام جانور بیچا ہے اس وجہ سے کہ اس نے خود اس کا اقرار کیا ہے یا بائع نے خود اس کا دعوی کیا ہے کہ وہ حرام جانور تھا اور حاکم کے یہان معاملہ نسب دعویٰ ثابت بھی ہوگیا یا تو خود بائع کے اقرار یا اس کے خلاف گواہوں کی گواہی سے ثابت ہو گیا گواہوں سے ثابت ہو گیا کہ یقینا اس نے حرام جانور بیچا ہے اس لیے حاکم نے حکم دیا بائع کو کہ آپ اس مشتری کے پیسے لوٹا دو کیونکہ جانور حرام تھا تو فرماتے ہیں کہ قاضی کا یہ حکم ذبیحہ کی حرمت کے سلسلے میں مستقل طور پر حکم ہوگا
وَكَذَا لَوْ بَاعَ صَاحِبُ الذَّبِيحَةِ الذَّبِيحَةَ لِشَخْصٍ ثُمَّ تَرَافَعَا إلَى حَاكِمٍ وَادَّعَى الْمُشْتَرِي أَنَّهَا حَرَامٌ لِأَمْرٍ ادَّعَاهُ وَظَهَرَ لِلْحَاكِمِ ذَلِكَ بِإِقْرَارٍ أَوْ بَيِّنَةٍ وَحَكَمَ عَلَى الْبَائِعِ بِرَدِّ الثَّمَنِ كَانَ ذَلِكَ حُكْمًا مِنْهُ بِتَحْرِيمِ الذَّبِيحَةِ.
اور اسی طور پر جب ذبح کے سلسلے میں کوئی کمی ثابت ہو جائے اور جرمانہ کا حکم قاضی دے تو یہ حکم بھی ذبیحہ کی حرمت کے حکم کو ضمناً شامل ہوگا یعنی ایک شخص کو ذبح کرنا تھا اس نے غلط طریقے سے ذبح کیا اب قاضی صاحب نے اس پر جرمانہ عائد کر دیا تو یہ جرمانہ کرنا ضمنی طور پر یہ بتلا رہا ہے کہ جانور حرام ہو گیا ہے اس لیے تو اس پر جرمانہ آیا اگر وہ حرام نہ ہوتا تو پھر جرمانہ کس بات کا ہے، گویا قاضی کا حکم تو جرمانہ ادا کرنے کے لیے مستقل ہے اور حرمت ذبیحہ کو ضمناً شامل ہوگا۔ 
وَكَذَا إذَا ثَبَتَ التَّقْصِيرُ فِي الذَّبْحِ وَحَكَمَ بِالْغُرْمِ كَانَ ذَلِكَ مُتَضَمِّنًا لِلْحُكْمِ بِحُرْمَةِ الذَّبِيحَةِ 
اسی طرح کھانے پینے کی چیزوں ( جو کہ معاشرت کے باب سے ہوتی ہے)کو بھی قاضی کا حکم مستقل طور پر شامل ہوگا مثلا کوئی شخص ایسے وادی میں پہنچا کہ وہاں کھانے پینے کی چیز نہیں مل رہی تھی اور وہ مخمصہ ( جاں کنی ) کی حالت کو پہنچا کہ اب مرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں اتنے میں اس نے دیکھا کہ ایک آدمی کے پاس اشیاء خوردن ہیں اور وہ شخص کھانا دینے سے انکار کر رہا ہے اور پیسوں میں بھی نہیں دے رہا ہے تو فرماتے ہیں کہ اس شخص کے لیے جائز ہے کہ اس شخص سے قتال کرے اپنی جان کو بچانے کے لیے، بقدر ضرورت لینے کے لیے اور اگر یہ بھوک کا مار اسی طرح یہ بھوک سے مر گیا فرماتے ہیں کہ جس شخص نے اس کو کھانے پینے کی چیزیں دینے سے منع کیا تھا اس پر قصاص آئے گا اس قاضی کے نزدیک جو یہ رائے رکھتا ہو جس کا یہی مسلک ہو جو سمجھتا ہو کہ یہ اس نے تعدی کی ہے اس پر جرمانہ آنا چاہیے اگر کسی قاضی نے قصاص لازم کیا تو قاضی کا حکم نافذ ہو جائے گا اور اگر بھوکے شخص نے اس شخص سے زبردستی چھین جھپٹ کر سامان لے لیا تو لینے والے پر اس کی قیمت لازم ہوگی جتنا سامان لیا ہے اسی کے بقدر قیمت ادا کرنی ہوگی ایسا نہیں کہ وہ سوچے ہم تو حالت اضطرار میں تھے اس لیے قیمت کیا ادا کریں گے،نہیں قاضی نے حکم دیا کہ آپ اس کی قیمت ادا کرو تو اسے قیمت ادا کرنی ہوگی
وَأَمَّا الْأَطْعِمَةُ: فَيَدْخُلُهَا الْحُكْمُ اسْتِقْلَالًا.
مِثَالُهُ: إذَا نَزَلَتْ بِرَجُلٍ مَخْمَصَةٌ وَوَجَدَ مَعَ رَجُلٍ طَعَامًا فَامْتَنَعَ مِنْ إطْعَامِهِ وَمِنْ مُسَاوَمَتِهِ فَإِنَّ لَهُ أَنْ يُقَاتِلَهُ فَإِنْ مَاتَ الْجَائِعُ وَجَبَ الْقِصَاصُ عِنْدَ مَنْ يَرَاهُ وَإِنْ أَخَذَهُ الْجَائِعُ قَهْرًا فَعَلَيْهِ قِيمَتُهُ 
اب یہاں سے نکاح اور ان کے توابع کو ذکر کر رہے ہیں نکاح وغیرہ تو ایسی چیز ہے کہ ان میں ہر حال میں قاضی کا حکم شامل ہونا تو واضح ہے حکم  بصحت بھی حکم بالموجب بھی یعنی چاہے قاضی صحت نکاح کا حکم دے یا نکاح کے موجب کا حکم دے ہر چند نکاح کے معاملات ایسے ہیں یہ کہ ان میں قاضی کا حکم واضح ہوتا ہے اسی طرح دیگر جتنے بھی معاملات کے قبیل سے مسائل ہے جیسے بیع و شراء کے معاملات قرض کے معاملات رھن کے معاملات اجارے کے معاملات مساقات کے معاملات قسمت کے مقاملات شفعہ کے معاملات عاریت کے معاملات ودیعت کے معاملات حبس یعنی وقف کے معاملات وکالت کے معاملات حوالہ کے معاملات اور حمالہ یعنی اٹھانے کے معاملات ضمان کے معاملات اور اس کے علاوہ جتنے بھی معاملات ہیں ان تمام میں قاضی کا حکم بالصحۃ یا حکم بالموجب  صراحتا و وضاحتاً شامل ہوگا مصنف فرماتے ہیں ہم باندیشۂ اطناب ممل ان معاملات کی مثالیں بیان کرکے کتاب کی طوالت میں اضافہ نہیں کرنا چاہتے۔ 
وَأَمَّا النِّكَاحُ وَتَوَابِعُهُ: فَدُخُولُ الْحُكْمِ بِالصِّحَّةِ وَالْمُوجَبِ فِيهِمَا وَاضِحٌ.
وَكَذَا سَائِرُ الْمُعَامَلَاتِ مِنْ الْبَيْعِ وَالْقَرْضِ وَالرَّهْنِ وَالْإِجَارَةِ وَالْمُسَاقَاةِ وَالْقِسْمَةِ وَالشُّفْعَةِ وَالْعَارِيَّةِ الْوَدِيعَةِ وَالْحَبْسِ وَالْوَكَالَةِ وَالْحَوَالَةِ وَالْحُمَالَةِ وَالضَّمَانِ وَغَيْرِ ذَلِكَ مِنْ أَبْوَابِ الْمُعَامَلَاتِ كُلِّهَا يَدْخُلُهَا الْحُكْمُ بِالصِّحَّةِ وَالْحُكْمُ بِالْمُوجَبِ، فَلَا نُطَوِّلُ بِالتَّمْثِيلِ.

No comments:

Post a Comment